نئی دہلی :(ایجنسی)
دہلی فساد سے جڑے ایک معاملے میں جے این یو کے سابق طلبا لیڈرعمر خالد کے وکیل نے پیر کو دہلی کی ایک عدالت میں زوردار بحث کی۔ خالد کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میڈیا کہ ذریعہ ان کی تقریر کو ترمیم شدہ ویڈیو چلائی گئی، جس سے بی جے پی کے ایک لیڈر نے ٹویٹ کیا تھا اور اس بنیاد پر ہی یو اے پی اے کا مقدمہ قائم کردیا گیا۔ معاملے کی اگلی سماعت 3 ستمبر کو ہوگی۔ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے عمر خالد کو ستمبر 2020 میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا تھا۔
سینئر ایڈوکیٹ تردیپ پایاس نے کہا کہ دہلی پولیس نے دہلی فسادات کے سلسلے میں 715 ایف آئی آر درج کی تھیں اور ان میں سے ایک بھی ایف آئی آر میں نام عمر خالد کا نام نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی دلیل میں کہا کہ جس ایف آئی آرمیں یو اے پی اے کو جوڑا گیا ہے وہ غیر ضروری ہے اور یہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کی مخالفت کرنے والوں کو نشان زد کرکے نشانہ بنانے کے لیے ایسا کیا گیا ہے۔
وکیل نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ فسادات سے متعلق ہر ایف آئی آر میں پولیس نے جرم کا ذکر کیا ،لیکن اس ایف آئی آر میں ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کچھ ثبوت بھی عدالت کے سامنے رکھے اور کہا کہ اس کیس کے گواہوں نے پولیس اور مجسٹریٹ کے سامنے متضاد بیانات دئے ہیں۔ یعنی ان کے بیانات میں فرق تھا۔








