نئی دہلی (نیوز ڈیسک) — نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) جو پہلے ہی نیٹ پیپر لیک تنازع اور امتحانی بے ضابطگیوں کی وجہ سے سپریم کورٹ اور اپوزیشن کے نشانے پر ہے، اتوار (21 جون) کو ہونے والے ری ٹیسٹ سے ٹھیک پہلے ایک اور بڑی اور مضحکہ خیز لاپرواہی کی وجہ سے سرخیوں میں آ گئی ہے۔ ناگپور (مہاراشٹر) کے ایک غریب طالب علم کا امتحانی مرکز بھارت کے کسی شہر کے بجائے براہِ راست متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں الاٹ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد طالب علم اور اس کا خاندان شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہے۔
پورا معاملہ کیا ہے؟
اس سنگین تکنیکی غلطی کا اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی این ٹی اے کی کارکردگی اور ان کے سوفٹ ویئر کے نظام پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ طالب علم نے امتحانی شہر کے انتخاب کے دوران بھارت کے اندر دستیاب مراکز کو ترجیح دی تھی، تاہم ایڈمٹ کارڈ جاری ہونے پر اسے معلوم ہوا کہ اس کا امتحانی مرکز ابوظہبی میں مقرر کر دیا گیا ہے۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد طالب علم کے اہل خانہ نے این ٹی اے سے فوری وضاحت اور اصلاح کا مطالبہ کیا۔
سوشل میڈیا پر ہنگامہ اور اپوزیشن کا حملہ
دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے ٹیلی گرام پر پابندی برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر خاموش تھیں، لیکن اس نئی غلطی نے کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو دوبارہ مودی حکومت کو گھیرنے کا موقع دے دیا ہے۔ کانگریس کے اسٹوڈنٹ ونگ نے اس ایڈمٹ کارڈ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا: "این ٹی اے کا نظام پوری طرح فیل ہو چکا ہے۔ جو ایجنسی ملک کے اندر سینٹر درست الاٹ نہیں کر سکتی، وہ پیپر کی سیکیورٹی کیا خاک سنبھالے گی؟”
این ٹی اے (NTA) کی صفائی اور فوری کارروائی
معاملہ ہائی پروفائل ہونے اور ناگپور کے مقامی سیاسی رہنماؤں کی مداخلت کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے حکام نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے۔ این ٹی اے کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام نہاد بتانے کی شرط پر کہا: "یہ ایک ڈیٹا بیس اپڈیٹ کا تکنیکی کلفٹ تھا جس کی وجہ سے کچھ طلباء کے سینٹر کوڈز مکس اپ ہو گئے۔ ہم نے متعلقہ طالب علم سے رابطہ کر لیا ہے اور اس کا امتحانی مرکز فوری طور پر تبدیل کر کے ناگپور ہی میں الاٹ کیا جا رہا ہے۔ طلباء کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔”










