نئی دہلی (ایجنسی)
دہلی میں ہوئے فسادات کے معاملے میں جے این یو طلبا شرجیل امام کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے ان کے خلاف غداری ( یو اے پی اے ) کے تحت کیس درج کیا ، لیکن اب شرجیل امام نے ایک بار پھر کورٹ سے ضمانت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کورٹ سے کہاکہ اگر تنقید ختم ہو گئی تو سماج بھی مر جائے گا اور بھیڑ کے جھنڈ میں بدل جائے گا۔
دی کوئنٹ کے مطابق فروری 2020 میں قومی راجدھانی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں مبینہ رول کے لیے غداری کے الزام میں بند شرجیل امام کی طرف سے وکیل تنویر احمد میر نے ایڈیشنل جج امتیابھ راوت کے سامنے اپنی دلیل پیش کی۔
تنویر احمد میر نے چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن کے حالیہ ریمارکس کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے ایک جمہوری معاشرے میں بغاوت اور اس کی ضرورت پر تنقید کی تھی۔
شرجیل امام کے وکیل تنویر احمد میر نے عدالت کے سامنے دلیل دیتے ہوئے کہاکہ شرجیل امام نے اپنی تقریر میں صرف شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے کی بات کہی تھی اور ایک جمہوری سماج میں یہ کسی طرح سے غداری کا باعث نہیں بنتا۔
میر کے مطابق امام نے اپنی تقریر میں کہا تھا :’’ ہم لوگوں کو پتھر نہیں ماریں گے ، ہمیں لوگوں کو چوٹ نہیں پہنچانی ،ہم لوگ کو صرف روڈ بلاک کرنا ہے تاکہ سرکار جو نہیں مان رہی ہے وہ ماننے کو تیار ہو جائے۔‘‘
میر نے عدالت سے کہاکہ امام کسی غیر قانونی تنظیم یا کسی دہشت گرد تنظیم کا رکن نہیں ہے ۔ وہ صرف ایک اسٹوڈنٹ ہے ،صر ف اس لئے کہ اس نے سرکار کی پالیسی ، جوکہ مبینہ طور پر غیر آئینی ہے ، کی مخالفت کی۔ اسے اور دوسروں کو بنیاد پرست کہا گیا ۔ ہمیں اتحاد پر فخر ہے ، اکثریت پسندی میں نہیں۔ سماج میں تنقیدی عناصر اہم ہے۔ اگر تنقید ختم ہو گئی تو سماج بھی مر جائے گا۔ آخر کار آئین اور جمہوریت میں انصاف کو بچانا آپ کے ہاتھ میں ہے ۔‘








