نئی دہلی(پریس ریلیز)
جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے فروغ طب یونانی کے صدر ڈاکٹر محمد شمعون (سابق جوائنٹ ایڈوائزر یونانی، حکومت ہند) نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں واقع حکیم اجمل خاں لٹریری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن (سی سی آر یو ایم) کو یونیورسٹی کیمپس سے خالی کرنے کے نوٹس پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ وزارتِ آیوش، حکومت ہند کے محکمہ آیوش کے تعصب کے سبب مالی امداد نہ دینے کی وجہ سے سال رواں 2021 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جاری پی ایچ ڈی یونانی کورس کو ختم کیا گیا اور اب جو معاہدہ سنٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن (سی سی آریو ایم، محکمہ آیوش، حکومت ہند) نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے کیا تھا اس میں عدم دلچسپی کے سبب مجبوراً جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کیمپس سے مذکورہ انسٹی آف یونانی میڈیسن کو خالی کرنے کا نوٹس جاری کردیا ہے۔
ڈاکٹر محمد شمعون نے اس امر پر محکمہ آیوش کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جان بوجھ کر طب یونانی کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سب سے اہم نام مسیح الملک حکیم اجمل خاں کا ہے مگر اُن سے منسوب لٹریری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو کیمپس سے خالی کرانا انتہائی درجہ افسوس ناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی سی آریو ایم کو جلد از جلد سرگرم ہوکر حکیم اجمل خاں لٹریری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے۔








