نئی دہلی : (ایجنسی)
دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر اشتعال انگیز نعرے بازی کے معاملے میں بھوپندر تومر عرف پنکی چودھری کو راحت نہیں ملی ہے۔ دہلی کی ایک عدالت نے پنکی چودھری کی پیشگی ضمانت کی درخواست کو خارج کردی ہے ۔ کورٹ نے کہاکہ پنکی چودھری نے ’دھمکی دینے والے جملے‘ کا استعمال کیا تھا۔ اس دوران مجسٹریٹ انل انتل نے کہاکہ ’ ہم طالبان ریاست میں نہیں ہے ، قانون بھی کچھ ہے اور ہمارےسماج کو چلانے کا مقدس اصول ہے‘
دراصل 8 اگست کو جنتر منتر پر ایک پروگرام کے دوران اقلیتی برادری کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی کی گئی تھی۔ اس میں ہندو رکشا دل کی لیڈر پنکی چودھری بھی موجود تھے۔
عدالت نے کہا ، کچھ لوگ اب بھی عدم برداشت کا شکار ہیں۔ پنکی چودھری کی پیشگی ضمانت کی سماعت کرتے ہوئے ، عدالت نے کہا کہ جب پورا ملک آزادی کا امرت مہواتسو مانا رہا ہے ۔ تب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو عدم برادشت کے شکار اور خود غرض ہیں۔ ‘ تاریخ گواہ ہے کہ فرقہ وارانہ کشیدگی سے فساد ہو سکتے ہیں اور اس سے عام لوگوں کی زندگی اورجان ومال کو نقصان ہو سکتا ہے ۔
وہیں ملزم بھوپندر تومر عرف پنکی چودھری نے اس بنیاد پر پیشگی ضمانت دینے کی مانگ کی تھی کہ ان کے خلاف ’ جھوٹ‘ کیس درج کیا گیا ہے ۔ انہوں نے دلیل تھی کہ جنتر منتر پر سب اپنے مذہب کی تشہیر کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے ۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ ان کی اظہار رائے کی آزادی کی بنیاد ی حقوق سے مشروط ہے۔
حالانکہ کورٹ نے چودھری کی تمام دلیلوں کو خارج کردیا اور یہ مانا کہ جنتر منتر پر دیا ان کا بیان ’ اشتعال انگیز‘ اور’ دھمکی‘بھرا تھا۔ کورٹ نے یہ بھی مانا کہ یہ بیان سماج میں ’نفرت ‘ اور ’ بدنیتی ‘ کو فروغ دینے کے لیے دیا گیا تھا۔ عدالت نے ان کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہاکہ اگر انہیں پیشگی ضمانت مل جاتی ہے تووہ جانچ میں خلل ڈال سکتے ہیں اور گواہوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔








