نئی دہلی:(ایجنسی)
طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ کیا حکومت ہند طالبان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرے گی؟ 20 سال بعد افغانستان سے امریکہ کے انخلا کے بعد کیا اب ہندوستانی حکومت طالبان سے رابطہ کرے گی؟
ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد قومی مفاد کے پیش نظر تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی ملک نے پوری دنیا میں افغانستان کی نئی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں لیا۔ ذرائع نےبتایا کہ اگر ضرورت پڑی تو طالبان کے ساتھ رابطہ اور مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق افغانستان کے بدلے ہوئے حالات اور طالبان کی واپسی کے پیش نظر بھارت جلد ہی اس پورے معاملے پر ایک پالیسی بنائے گا، جس کے بعد طالبان کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس سے پہلے بھی حکومت نے کبھی بھی طالبان سے رابطے میں ہونے کی خبروں کی تردید نہیں کی تھی۔
ہندوستان نے منگل کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کہا کہ بھارت افغانستان میں ایک جامع حکومت کی توقع کرتا ہے ، جس میں تمام طبقات کی نمائندگی ہو۔ ہندوستان کے مستقل نمائندے اندرمانی پانڈے نے انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وسیع نمائندگی سے حکومت کو زیادہ قبولیت اور قانونی حیثیت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ اندرمانی پانڈے نے کہا کہ افغان خواتین کی آواز، افغان بچوں کی امیدوں اور اقلیتی برادری کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی ہندوستان نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں استحکام کا براہ راست تعلق خطے میں امن اور سلامتی سے ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ لشکر اور جیش جیسی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کر سکیں۔








