متھرا : (ایجنسی)
سوشل میڈیا پر تیزی سے ایک ویڈیو وائرس ہو رہاہے ، ویڈیو متھرا کے وکاس بازار کا بتایا جا رہاہے ۔ وائرل ویڈیو میں نظر آرہا ہے کہ مشتعل لوگوں کی بھیڑ نے ایک مسلم ڈو سا فروش پر حملہ کردیا۔ ڈوسا فروش شری ناتھ نام سے اپنی دکان چلا رہا تھا ۔ اس معاملے میں پولیس کا بیان بھی آیا ہے ۔
دی کوئنٹ ہندی کی رپورٹ کے مطابق دیوراج پنڈت نامی ایک شخص نے فیس بک پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دیکھاجاسکتا ہے کہ کچھ ہندو انتہا پسندوں کا ہجوم متھرا کے وکاس بازار میں ایک مسلم ڈوسا فروش کی دکان میں توڑ پھوڑ کررہے ہیں ۔و یڈیو شیئر کرنے والا دیو راج پنڈت ہی اس بھیڑ کی قیادت کررہا ہے ۔
ویڈیو میں ایک شخص کہہ رہا ہے کہ’ ‘یہ شری ناتھ ڈوسا ہے‘ اور اس کے ساتھ دوسرا شخص ڈوسا والے کا نام پوچھنے لگتا ہے ، شخص کہتا ہے ، ’ آپ نے ہندو نام شری ناتھ جی کے نام پر اپنی دکان کیوں لگائی ہے؟‘
اس کے بعد ایک شخص ڈوساوالے کو سمجھاتا ہے کہ آپ مسلم مذہب کا ہو کر ہندو دھرم کا نام نہیں لگا سکتے ، تمام ہندو دھرم کے بھائی یہاں نہیں کھانا چاہیں گے لیکن وہ نام دیکھ کر یہاں کھانے آئیں گے ۔
اس کے بعد بھیڑ میں سے کچھ لوگ ڈوسا والے سے بار- بار پوچھتے ہیں کہ آپ نے ہندو نام پر بینر کیوں لگا رکھا ہے؟ سوال پوچھنے کے بعد مشتعل لوگ خود ہی اس کے ٹھیلے پر چڑھ کر ، پھاڑو- پھاڑو اتارو- اتارو کی آواز لگاتے ہوئے بینر پھاڑنے لگتے ہیں۔
ایک شخص ویڈیو میں جگہ کا نام وکاس بازار بتا رہا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ ہمارے دھرم کے نام پر ’ یہ (مسلمان) کاروبار کررہے ہیں‘ کچھ لوگ اس کے ٹھیلے پر چڑھ کر بینر پھاڑ دیتے ہیں اور اس کو دھمکی دیتے ہیں ’ دوبارہ دکان لگائی تو قانونی کارروائی ہوگی‘ آخر میں بھیڑ نعرے لگانے لگتی ہے ۔ کرشن بھکتو یودھ کرو -متھرا کو بھی شدھ کرو‘
متھرا پولیس نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو ٹویٹ کرکے اپنا جواب دیا، پولیس کاکہنا ہے کہ وکاس مارکیٹ واقع سیما ڈوسا کارنر نامی دکان پر نامعلوم افراد کے ذریعہ قابل اعتراض الفاظ کااستعمال کیا گیا ۔ اس کی اطلاع ملنے پر پولیس کےذریعہ متعلقہ دکان کے مالک اور وہاں کام کرنے والے لوگوں سے نامعلوم افراد کے بارےمیں پولیس کے ذریعہ تفتیش کی جاری ہے ،جیسے ہی ان کی جانکاری ملتی ہے آگے کی کارروائی کی جائے گی۔
ایک اور ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے پولیس نے کہاکہ اس معاملے کے سلسلے میں انسپکٹر انچارج کوتوالی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ضروری کارروائی کریں۔








