بنگلور : (ایجنسی)
ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں، لیکن کرناٹک کے کئی حصوں میں سماجی و ثقافتی عقائد کی وجہ سے دیوداسی انسانیت سوز روایت آج بھی جاری ہے۔ فروری میں 22 سالہ لڑکی رودرما (تبدیل شدہ نام) نے دیوداسی بننے سے بچنے کے لیے دیوداسی نرمولان کیندر سے مدد مانگی تھی۔ اس سے انتظامیہ حرکت میں آئی اور اسے دیو داسی بننے سے بچا لیا۔
دینک بھاشکر کے مطابق ٹیم اسے تلاش کرتے ہوئے وجے نگر کے کڈلیگی قصبے واقع اس کے گھر پہنچی۔ یہاں رودما اپنی ماں کے ساتھ کھیت میں مزدوری کے لیے نکل رہی تھی ۔ رودما کہتی ہے :’ بھلے ہی وہ اس روایت کا حصہ بننے سے بچ گئی ، لیکن میرے خاندانی بیک گراؤنڈ کے سبب میرے بوائے فرینڈ کے گھر والوں نے شادی کرنے سے منع کردیا۔ اب اس تناؤں سے باہر نکل رہی ہوں اور پریوار کی کفالت کرنے کے لیے مزدوری کررہی ہوں۔
رود ما آگے بتاتی ہے کہ میں نے کبھی اس طرح کی زندگی نہیں سوچی تھی ۔ میں تعلیم حاصل کرتی تھی ۔ ڈانس اور ڈرامہ میں دلچسپی ہونے کی وجہ سے انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا تھا۔ جیسے ہی وہاں کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ میں ایک سیکس ورکر کے پریوار سے ہوں تو انسٹی ٹیوٹ اور اس کے آس پاس کے لڑکے طعنے دینے شروع کردیے ، اس لئے سب کچھ چھوٹ گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ عمر کے ساتھ- ساتھ سماجی تقسیم دیکھنے کو ملتی ہے ۔ یہ سماجی امتیازی سلوک ٹوٹنا چاہئے۔
رودما کی ماں کہتی ہیں کہ شادی سے بچنے کے لیے رودما نے جھوٹ کا سہارا لیا تھا ۔ رودما نے پولیس کو بتایا تھا کہ دیو داسی بننے کے لیے اس کی ماں اور پریوار کی طرف سے دباؤ ڈالا جا رہاہے ۔ بعد میں اس کی ماں نے تحریر میں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کو دیو داسی روایت سے نہیں جوڑے گی ۔ دراصل یہ روایت مذہبی روایت سے جڑی ہے ۔ اس لئے کڈلیگی میں جب کسی لڑکی کو دیو داسی روایت میں ڈالا جاتا ہے تو اس کی شروعات مراما مندر میں پوجا -پاٹھ ، رسم ورواج اور دیوداسی لڑکی کے ذریعہ پیش رقص اور گانے سے ہوتی ہے ۔
مندر کو وقف کئے جانے اور بھگوان سے شادی کے بعد وہ بغیر کسی مستقبل کے اعلیٰ ذاتوں کے مردوں کی خدمت کے لیے ان کی جنسی غلام یا بندھوا بن جاتی ہیں۔ گزشتہ کچھ سالوں سے انتظامیہ نے اس طرح کے رسم ورواج کے عمل آوری پر روک لگائی ہے، لیکن ضلع کے کچھ مندروں میں خفیہ طور سے یہ روایت بدستور جاری ہے۔ رودما کو مندر بھیجے جانے سے پہلے بچا لیا گیا تھا ۔
صحافی کرن کمار بالناوران بتاتے ہیں کہ وجے نگر کے ہیڈ لیگی تعلقہ میں 120 گاؤں آتے ہیں۔ انہی گاؤں میں ہی تقریباً 3 ہزار سابق دیو داسیاں ہیں۔ ان سب کی بازآبادکاری کی ذمہ داری سرکار کی ہے ۔ 90 فیصد دیو داسی درج فہرست قبائل سے ہی آتی ہیں ۔ برہمن اور اعلیٰ ذات کی لڑکیاں دیو داسی نہیں بنائی جاتی۔ دیو داسی بچاؤ اور بازآبادکاری سے جڑے گوپال نایک بتاتے ہیں کہ دیو داسی کا بھائی معمول کی زندگی جیتا ہے اور اس کی بیوی کو اس روایت میں نہیں شامل کیا جاتا۔
ریاستی حکومت کے ذریعہ 2008 میں کئے گئے سروے اور کرناٹک اسٹیٹ ویمن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے اعداد وشمار میں دیو داسیوں کی تعداد تقریباً 40,600ہے۔ مگر 2018 میں ایک غیر ملکی غیر سرکاری تنظیم اور کرناٹک اسٹیٹ ویمن یونیورسٹی کے ذریہ کئے گئے تحقیق میں کرناٹک میں 90 ہزار دیو داسیاں پائی گئیں، جس میں سے جنوبی کرناٹک کی 20 فیصد سے زیادہ دیوداسی 18 سال سے کم عمر کی ہیں۔










