امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں وقتی کمی کے باوجود حالات اب بھی نازک اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، کیونکہ حالیہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی میں محدود مدت کے لیے توسیع تو کر دی گئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعات جوں کے توں برقرار ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، حالیہ مذاکرات میں بعض معاملات پر جزوی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ جیسے اہم نکات پر کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مکمل شفافیت دکھانا ہوگی اور بین الاقوامی نگرانی کو قبول کرنا ہوگا، جبکہ ایران مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ جب تک اس پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں، وہ کسی بڑے سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ Iran nuclear deal کے تحت 2015 میں ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا اور اس کے بدلے اقتصادی پابندیوں میں نرمی دینا تھا۔
تاہم بعد ازاں امریکہ کی معاہدے سے علیحدگی اور نئی پابندیوں کے نفاذ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے۔







