نئی دہلی : (ایجنسی)
دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی ( جے این یو ) کے نئے کورس میں ’ جہادی تشدد‘ کو ’بنیاد پرست مذہبی دہشت گردی ‘ کی ہی ایک شکل بتائی گئی ہے ۔
یونیورسٹی میں ڈیول ڈگری پروگرام کے انجینئرنگ کے طلبا کے لیے انسداد دہشت گردی پر ایک نئے کورس میں اس دعویٰ کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وقت کے سوویت یونین اور چین میں کمیونسٹ حکومتیں ’’ دہشت گردی کی اہم ریاست اور اسپانسرز‘‘ تھیں۔ جنہوں نے ’ بنیاد پرست اسلامی ریاستوں ‘ کو متاثر کیا ۔ دراصل یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کی 17 اگست کو ہوئی میٹنگ میں ’ کاؤنٹر ٹیریزم، اسیموٹرک کانفیلکٹس اینڈ اسٹریٹیج فار کو آرپریشن امنگ میجر پاورس ‘ عنوان والے متبادل کورس کو منظوری دی گئی تھی ۔
انجینئرنگ میں بی ٹیک کے بعد بین الاقوامی تعلقات میں مہار ت کے ساتھ ایم ایس کرنے والے طلبا کو کورس کی پیشکش کی جائے گی۔ مانسون سمسٹر کے لیے آن لائن کلاسز 20 ستمبر سے شروع ہوں گی ۔ بتادیں کہ کونسل تعلیمی پروگرام کے لیے یونیورسٹی کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے ۔ کورس کے لیے اس کی منظوری ایگزیکٹیو کونسل سے لینی ہوگی ، جو انتظامیہ امور پر فیصلے لیتی ہے ۔
’بنیاد پرست مذہبی دہشت گردی اور اس کے اثرات‘ کے عنوان والے نئے کورس کے ماڈیول میں سے ایک میں کہا گیاہے کہ ’’ بنیاد پرست مذہب سے حوصلہ افزا دہشت گردنے 21 ویں صدی کی شروعات میں دہشت گردانہ تشد د کو جنم دینے میں ایک بہت ہی اہم اورنمایاں رول ادا کیاہے ۔ قرآن مسخ شدہ تشریح کے نتائج میں ’جہادی بنیاد پرست تشدد کا تیزی سے فروع ہوا ہے ، جو خود کش حملہ اور قتل وغارت میں دہشت گردی کے ذریعہ موت کاتعارف کرتی ہے ۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ’بنیاد پرست اسلامی مذہبی مولویوں کےذریعہ سائبر اسپیس کے استحصال کی وجہ سے دنیا بھر میں جہادی دہشت گردی کا الیکٹرانک تشہیر ہوا ۔جہادی دہشت گردی کے آن لائن الیکٹرانک تشہیر کی وجہ سے غیر اسلامی سماجوں میں تشدد میں تیزی آئی ہے ، جو سیکولر ہیں اور اب وہ تشدد کا شکار ہورہے ہیں (ہے ) بڑھ رہی ہے ۔
ایک اور ماڈیول ،جس کا عنوان ہے ’ ریاستی اسپانسر ڈ دہشت گردی: اس کےاثرات اور تاثر‘‘ صرف سوویت یونین اور چین کا حوالہ ہے ۔
یہ کہتا ہے کہ ’ دہشت گردی کا ہمیشہ ایک جغرافیائی بنیاد ہوتا ہے اور اس کی کارروائی کے لیے حمایت کا ٹھکانہ ہوتاہے ۔ ریاست کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی بڑی حد تک مغرب اور سوویت یونین اور چین کے درمیان نظریاتی جنگ کے دوران ہوئی ہے۔ سوویت یونین اور چین دہشت گردی کے بڑے ریاستی اسپانسر رہے ہیں اور وہ اپنی خفیہ ایجنسیوں کے کمیونسٹ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی تربیت ، مدد اور ان کی مدد کرنے میں بہت زیادہ ملوث رہے ہیں۔
اس میں مزید لکھا گیا ، ’سرد جنگ کے بعد کے دور میں اس رجحان کو بہت سی بنیاد پرست اسلامی ریاستوں نے اچھی طرح ڈھال لیا ، جنہوں نے کمیونسٹ طاقتوں کی سابقہ اسٹریٹجک حکمت عملی کی عکاسی کی ہے اور مختلف دہشت گرد گروہوں کی مدد اور اسلحہ دینا جاری رکھا ہے۔
جے این یو کے اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز (ایس آئی ایس) کے ڈین اشونی مہاپاترا نے کہا کہ وہ کورس بنانے میں شاملنہیں تھے۔ اسکول آف انجینئرنگ کے ڈین روچیر گپتا نے کہا کہ سینٹر فار کینیڈین ، یو ایس اینڈ لاطینی امریکن اسٹڈیز کے چیئرپرسن اروند کمار اس کورس کو متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ گپتا کے مطابق ،ہمارا ایس آئی ایس کے ساتھ ایک مشترکہ پروگرام ہے۔ انہوں نے ہم سے یہ کورس پاس کرنے کو کہا ، تو ہم نے اسے پاس کیا۔ میں بین الاقوامی تعلقات کا ماہر نہیں ہوں۔
کمار نے ’انڈین ایکسپریس‘ سے تصدیق کی کہ اس نے نصاب ڈیزائن کیا تھا۔ ’بنیاد پرست مذہبی دہشت گردی‘ پر ماڈیول میں صرف ایک مذہب کے حوالہ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ یہ ’ کیونکہ اسلامی دہشت گردی ایک عالمی طور پر جانی جاتی ہے ۔ طالبان کے بعد اب اس میں تیزی آئی ہے ۔ ‘‘ کمار نے کہالہ میری جانکاری کے مطابق میرے سامنے دہشت گردی کے طریقوں کا سہارا لینےوالے کسی دیگر مذہب کی مثالی سامنے نہیں آئی ہے ۔
صرف سوویت یونین اور چین کو ’دہشت گردی کے بڑے ریاستی اسپانسر‘ کے طور پر ذکر کرنے پر کمار نے کہا کہ ریاست کے زیر اہتمام دہشت گردی کی وضاحت کرنا بہت مشکل ہے۔ ہمیں اس کے ثبوت ڈھونڈنے ہیں اور تب ہی ہم اسے شامل کر سکتے ہیں۔








