سری نگر( ڈی ڈبلیو)
بھارتیہ حلقوں میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے اثرات کشمیر پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ملک اپنے مخالفین کا سامنا ایک نئی قوت کے ساتھ کر رہا ہے اور وہ تمام چیلنجز کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔
بھارتی فوج نے اتوار کے روز کہا کہ وادی کشمیر میں تمام تر سکیورٹی کی صورت حال پوری طرح سے ان کے کنٹرول میں ہے اس لیے طالبان کے حوالے سے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
اس بارے میں قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی آمد سے کشمیر میں بھی جہادی سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں۔ لیکن خطہ کشمیر جس بھارتی فوج کی ٹکڑی کی کمان میں ہے اس کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔
جنرل پانڈے کے بقول، ’’میں بیرونی لوگوں کے بارے میں تبصرہ کرنا نہیں چاہتا، لیکن یاد رکھیں یہاں سکیورٹی کی صورت حال پوری طرح سے ہمارے کنٹرول میں ہے اور اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
جنرل پانڈے سری نگر میں ہونے والے ایک کرکٹ میچ کے مہمان خصوصی تھے، جہاں صحافیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے یہ بات کہی۔ ادھر بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صورت حال بدلنے کی وجہ سے بھارت بھی اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی کر رہا ہے۔









