اردو
हिन्दी
جون 26, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ملک کی بڑی آبادی کا خود کو غیر محفوظ تصور کرنا انتہائی خطرناک: مولانا ارشدمدنی

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
ملک کی بڑی آبادی کا خود کو غیر محفوظ تصور کرنا انتہائی خطرناک: مولانا ارشدمدنی
123
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی (پریس ریلیز)

آج مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند کے مفتی کفایت اللہ میٹنگ ہال میں جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت مولانا ارشد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند منعقد ہوا۔اجلاس میں ملک کے موجودہ حالات اور قانون وانتظام کی بد تر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور ساتھ ہی دوسرے اہم ملی اور سماجی ایشوزاور لڑکے اورلڑکیوں کے لئے اسکول وکالج کا قیام اورخاص طورپر لڑکیوں کے لئے دینی ماحول میں علیحدہ تعلیمی ادارے کا قیام واصلاح معاشرہ کے طریقہ کارپر تفصیل سے غوروخوض ہوا۔

اس اجلا س میں ممبران نے تمام مسائل پر کھل کر تبادلہئ خیال کیا۔۔ لاک ڈاؤن میں جمعیۃ علماء ہند کی بے لوث خدمات، ریلیف وبازآبادکاری اور ملزمین کی قانونی اورسماجی مدد، تبلیغی جماعت پر منفی پروپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی قانونی جدوجہد وغیرہ کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں جمعیۃ کی طرف نئے لوگوں کا رجحان بڑھا ہے، جس کی وجہ سے جمعیۃ کی ممبرشپ حاصل کرنے کے لئے لوگ بہت زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں اور ہر صوبے میں جمعیۃ دفاتر سے نئے لوگوں کی ایک معتدبہ تعداد مستقل رابطے میں ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے ٹرم میں جمعیۃ کے ممبران کی تعداد تقریبا ایک کڑوڑ پندرہ لاکھ تھی جبکہ اس سال اس تعداد میں اضافے کے قوی امکانات ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس ٹرم کی ممبر سازی کی مدت میں 15اکتوبرتک کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔

مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ پورے ملک میں جس طرح کی مذہبی اور نظریاتی محاذ آرائی اب شروع ہوئی ہے اس کامقابلہ کسی ہتھیار یاٹیکنالوجی سے نہیں کیا جاسکتا اس سے مقابلہ کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے مزین کرکے اس لائق بنادیں کہ وہ اپنے علم اور شعور کے ہتھیارسے اس نظریاتی جنگ میں مخالفین کوشکست سے دوچارکرکے کامیابی اورکامرانی کی وہ منزلیں سرکرلیں جن تک ہماری رسائی سیاسی طورپر محدود اور مشکل سے مشکل تربنادی گئی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ آزادی کے بعد آنے والی تمام سرکاروں نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم کے میدان سے باہر کردیا، یہ افسوسناک صورتحال کیوں پیداہوئی اوراس کے کیا اسباب ہوسکتے ہیں؟ اس پرہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے خودجان بوجھ کر تعلیم سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی،کیونکہ اگر انہیں تعلیم سے رغبت نہ ہوتی تووہ مدارس کیوں قائم کرتے؟مولانا مدنی نے کہاکہ ہم ایک بارپھراپنی یہ بات دہرانا چاہیں گے کہ مسلمان پیٹ پر پتھرباندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔ ہمیں ایسے اسکولوں اورکالجوں کی اشدضرورت ہے جن میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے اور خاص کر بچیاں اعلیٰ دنیا وی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیازکے بغیر حاصل کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج ارتداد کی مہم ہے جس کی وجہ سے مسلم لڑکیوں کے ارتداد میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے اوراس حوالے سے منظم شکل میں فرقہ پرست عناصر غیر مسلم نوجوانوں کو مسلم بچیوں کو ورغلانے کیلئے نہ صرف ہر طرح کی مددفراہم کررہے ہیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جارہی ہے،اس صورتحال پر اگر بروقت قدغن نہ لگائی گئی تو آنے والے دن انتہائی خطرناک ہوں گے۔جمعیۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی اس مسئلے پرپر غورو خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دینی تعلیمات سے بے زاری اس کا بنیادی سبب ہے اس لئے جمعیۃ علماء ہند بااثر اوردولت مند لوگوں سے اپیل کرتی ہے وہ اپنے اپنے علاقوں میں لڑکیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ اسکول اور کالج کا انتظام کریں،اپنی بہو بیٹیوں کی عزت وآبرو اور ایمان کی حفاظت کے لئے یہ اس وقت کی شدید ضرورت ہے۔مولانامدنی نے یہ بھی کہاکہ بے حیائی اورفحاشی کسی مذہب کا شیوہ نہیں ہے دنیا کے ہر مذہب میں اسے براسمجھاگیاہے اس لئے کہ ان سے ہی معاشرہ میں بے راہ روی پھیلتی ہے اس لئے ہم اپنے غیرمسلم بھائیوں سے بھی یہ گزارش کریں گے کہ وہ اپنی بچیوں کو بے حیائی اوربے راہ روی سے دوررکھنے کیلئے مخلوط تعلیم دلانے سے گریز کریں اوران کے لئے الگ سے تعلیمی ادارے قائم کریں۔

انہوں نے مزیدکہاکہ آج کے حالات میں ہمیں اچھے مدرسوں کی بھی ضرورت ہے اور اچھے اعلیٰ دنیاوی تعلیمی اداروں کی بھی جن میں قوم کے ان غریب مگر ذہین بچوں کو بھی تعلیم کے یکساں مواقع فراہم ہوسکیں۔ جن کے والدین تعلیم کا خرچ اٹھاپانے سے قاصرہیں، انہوں نے آگے کہاکہ قوموں کی زندگی میں گھر بیٹھے انقلاب نہیں آتے بلکہ اس کے لئے عملی طورپر کوشش کی جاتی ہے اور قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔جمعیۃعلماء ہند کے اس اجلاس میں ہجومی تشدد اور ماب لنچنگ پر اپنی گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک جمہوری ملک میں عوام کا قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لینا اور حکومت کا اس لاقانونیت پر خاموش تماشائی بنارہنا یہ ایسا رویہ ہے جو ملک کو انتشار اور خانہ جنگی کی طرف لے جارہا ہے، اگر ملک میں یہ لاقانونیت یوں ہی بڑھتی رہی تو اس کی آگ میں نہ صرف اقلیتیں، دلت اور ملک کے کمزورعوام ہی نہیں جلیں گے بلکہ ملک کی ساری ترقی اورنیک نامی بھی خاک میں مل جائے گی، اس لئے ہر محب وطن کا ملک سے محبت کا یہ تقاضہ ہے کہ مذہب ونسل سے بلند ہوکرمسلم اورغیر مسلم متحد ہوکر اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔

مولانا مدنی نے ماب لنچنگ کے حوالہ سے کہا کہ یہ سب کچھ منصوبہ بندطریقہ سے ہورہا ہے اوراس کا مقصدمذہبی شدت پسندی کو ہوادیکر اقلیت کے خلاف اکثریت کو متحد کرنا ہے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات میں اچانک اس وقت شدت آجاتی ہے جب کسی ریاست میں الیکشن ہونے والا ہوتاہے چند ماہ بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں اس لئے جان بوجھ کر ماب لنچنگ کی جارہی ہے اور شرانگیزیوں میں اضافہ ہورہاہے،انہوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ اپنی ساکھ اور ملک کی قدیم تہذیب اور ثقافت کی حفاظت کے لئے اس کے خلاف عملی میدان میں کام کرے اورکہا کہ ماب لنچنگ کے واقعات سپریم کورٹ کی سخت ہدایت کے بعدبھی رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اس کا صاف مطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ جو لوگ ایسا کررہے ہیں انہیں سیاسی تحفظ اور پشت پناہی حا صل ہے؟ اسی لئے ان کے حوصلے بلند ہیں، اس لئے تمام سیاسی پارٹیاں خاص کر وہ پارٹیاں جو اپنے آپ کو سیکولرکہتی ہیں میدان عمل میں کھل کرسامنے آئیں اور اس کے خلاف قانون سازی کے لئے عملی اقدامات کریں صرف مذمتی بیان کافی نہیں۔ اجلاس میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہارکیا گیا کہ ان دنوں آسام میں ایک سازش کی تحت خالص مسلم آبادیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اور جو بستیاں پچاس برس سے زیادہ سے سرکاری زمین پرآباد ہے ان کو جبراًخالی کرایا جارہا ہے اور ان کے مکانا ت منہدم کئے جارہے ہیں ایسے خانہ بربادلوگوں کو بسنے کے لئے کوئی متبادل جگہ بھی نہیں بتائی جارہی ہے، مجلس عاملہ نے طے کیا ہے کہ مذہب سے اوپر اٹھ کر ان حالات سے نمٹنے کے لئے اگر مفید ہوتو سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔

دوران اجلاس مولاناحلیم اللہ ناظم اعلیٰ جمعیۃعلماء مہاراشٹرنے کوکن مہاراشٹرکے سیلاب میں جمعیۃعلماء کی اب تک کی خدمات کی مکمل تفصیل پیش کی۔ سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کے لئے اپنی یونٹیوں کے تعاون سے فی الحال مرکز کے علاوہ ایک کروڑدس لاکھ روپے سے جمعیۃعلماء مہاراشٹرکی امدادکرنا طے کیا۔اجلاس میں ورکنگ کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی ہے اصلاح معاشرہ کی کوششوں کومنظم طریقہ سے پورے ملک میں پھیلادی جائے، دیہاتوں میں اور شہروں کے سلم علاقوں میں جہاں سے ایسے واقعات بکثرت سننے میں آتے ہیں وہاں خصوصی توجہ دی جائے، اہل مدارس کو بھی ایک تحریر لکھ کر متوجہ کیا جائے اور اکابرعلماء کے اسفارکا نظام بنایاجائے اس کے لئے سردست دس لاکھ روپے کا بجٹ مختص کردیا گیاہے۔

اجلاس میں دہلی فسادات میں بے قصورمسلم نوجوانوں پر کئے گئے 137مقدمات کی پیروی اورپیش رفت پر غورکیا گیا، ابھی تک جمعیۃکے تعاون سے 90ضمانتیں ہوچکی ہیں اورباقی کیسوں کی ضمانت کی اپیل سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں داخل ہے، ان مقدمات کی پیروی جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے ایڈوکیٹ ظہیرالدین بابر چوہان کی سربراہی میں وکلاء کی ایک ٹیم کررہی ہے۔ مجلس عاملہ کی کارروائی صدرمحترم مدظلہ کی دعاپر اختتام پزیرہوئی۔اجلاس میں صدرمحترم کے علاوہ جن اراکین نے شرکت کی ان میںمفتی سیدمعصوم ثاقب ناظم عمومی جمعیۃعلماء ہند، مولانا عبدالعلیم فاروقی نائب صدر جمعیۃعلماء ہند، مولانا سید اسجدمدنی، مولانا عبدالرشید قاسمی، مولانا عبداللہ ناصر قاسمی، مولانا اشہدرشیدی، مفتی غیاث الدین اور الحاج سلامت اللہ شامل ہیں۔اجلاس میں جن مدعوئین خصوصی نے شرکت کی ان کے نام یہ ہیں مولانا محمد مسلم قاسمی،مولانا حلیم اللہ قاسمی بھونڈی، مولانا محمد خالدقاسمی، مولانا عبدالقیوم قاسمی، مفتی عبدالرازق مظاہری، مولانابدراحمد مجیبی، مولانا محمدراشدقاسمی،مولاناشمس الدین قاسمی اورمفتی اشفاق احمد وغیرہ ہم

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہائی کورٹ آئی ٹی ایکٹ فیصلہ
خبریں

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، سوالیہ پرچے کی تصویر واٹس ایپ پر بھیجنا رازداری کی خلاف ورزی نہیں

26 جون
ابھیجیت دیپکے کا انوکھا احتجاج
خبریں

"ہیپی برتھ ڈے، براہِ کرم استعفیٰ دے دیں”؛ ابھیجیت دیپکے کا دھرمیندر پردھان کو انوکھا تحفہ

26 جون
passport-not-proof-of- indian citizenship
خبریں

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

25 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
ٹرمپ پزشکیان معاہدہ

صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 14 نکاتی تاریخی امن معاہدے پر دستخط کر دیے

جون 18, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
ہائی کورٹ آئی ٹی ایکٹ فیصلہ

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، سوالیہ پرچے کی تصویر واٹس ایپ پر بھیجنا رازداری کی خلاف ورزی نہیں

ابھیجیت دیپکے کا انوکھا احتجاج

"ہیپی برتھ ڈے، براہِ کرم استعفیٰ دے دیں”؛ ابھیجیت دیپکے کا دھرمیندر پردھان کو انوکھا تحفہ

passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

ہائی کورٹ آئی ٹی ایکٹ فیصلہ

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، سوالیہ پرچے کی تصویر واٹس ایپ پر بھیجنا رازداری کی خلاف ورزی نہیں

جون 26, 2026
ابھیجیت دیپکے کا انوکھا احتجاج

"ہیپی برتھ ڈے، براہِ کرم استعفیٰ دے دیں”؛ ابھیجیت دیپکے کا دھرمیندر پردھان کو انوکھا تحفہ

جون 26, 2026
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026

حالیہ خبریں

ہائی کورٹ آئی ٹی ایکٹ فیصلہ

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، سوالیہ پرچے کی تصویر واٹس ایپ پر بھیجنا رازداری کی خلاف ورزی نہیں

جون 26, 2026
ابھیجیت دیپکے کا انوکھا احتجاج

"ہیپی برتھ ڈے، براہِ کرم استعفیٰ دے دیں”؛ ابھیجیت دیپکے کا دھرمیندر پردھان کو انوکھا تحفہ

جون 26, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN