نئی دہلی: (پریس ریلیز)
آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی قومی جنرل باڈی میٹنگ حسب اعلان اپنے معمول کے مطابق زیرصدارت پروفیسر غلام قطب چشتی جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں CCIM کی جگہ NCISM قانون کے نفاذ کے بعد طب یونانی کی صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ پروفیسر غلام قطب چشتی نے اس امر پر اظہار اطمیان کیا کہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر طب یونانی کے تئیں بیداری آئی ہے اور ہر کوئی اپنی اپنی سطح پر متحد ہوکر طب یونانی کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر بھی باعث اطمینان ہے کہ بڑے پیمانے پر اطبائے یونانی آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے ممبر بن رہے ہیں اور اپنی اعزازی خدمات پیش کر رہے ہیں۔
اس موقع پر صوبائی صدور اور جنرل سکریٹریز نے اپنے اپنے صوبہ میں طب یونانی کی صورتِ حال کی رپورٹ پیش کی۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس مہاراشٹر اسٹیٹ کے سکریٹری ڈاکٹر محمد اویس حسن نے صوبائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں مہاراشٹر میں طب یونانی کی صورت حال بہتر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مہاراشٹر میں CHO کی پوسٹ میں BUMS کو شامل کیا گیا ہے۔ کووڈ 19 میں میڈیکل آفیسرز کے لیے CCC سینٹر، DCHC سینٹر پر بھی بی یو ایم ایس ڈاکٹروں کا تقرر ہوا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں مفت میڈیکل کیمپ لگاکر خدمات انجام دی گئی ہیں۔
خاص طور سے بھیونڈی، تھانے، مالیگاؤں، ممبرا، ناگپور کے ڈاکٹروں نے اپنی اعزازی خدمات پیش کیں۔ اس کے علاوہ پروفیسر محمد اسلم (قومی سینئر نائب صدر، طبّی کانگریس اکیڈمک ونگ)، ڈاکٹر محمد عارف (جنرل سکریٹری، طبّی کانگریس مدھیہ پردیش)، ڈاکٹر قمرالدین ذاکر (صدر، طبّی کانگریس ہریانہ اسٹیٹ)، ڈاکٹر محمد ارشد غیاث (جنرل سکریٹری، طبّی کانگریس ہریانہ اسٹیٹ)، ڈاکٹر عبدالسلام خان (نائب صدر، طبّی کانگریس اُترپردیش)، حکیم نعیم رضا (سکریٹری، طبّی کانگریس فارمیسی ونگ)، ڈاکٹر حبیب اللہ (صدر، طبّی کانگریس میڈیکل آفیسرز وِنگ)، ڈاکٹر طیب انجم (قومی کارگزار صدر، طبّی کانگریس یوتھ ونگ) ، ڈاکٹر شبیر انصاری (جنرل سکریٹری، طبّی کانگریس آسام) اور ڈاکٹر بدرالاسلام کیرانوی (صدر، طبّی کانگریس طبّی ورزش ونگ) وغیرہ نے کارکردگی کی رپورٹ پیش کی۔
میٹنگ میں معروف و ممتاز طبّی نقاد ڈاکٹر خورشید احمد شفقت اعظمی نے کہا کہ احساسِ کمتری سے نکل کر اپنے مطالعہ میں اضافہ کریں اور فروغِ طب کی تحریک میں شامل ہوکر جو بھی ممکن ہو تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ طب یونانی مکمل سائنس ہے ہمیں طب یونانی کے جس شعبہ میں مہارت ہے اس کا مظاہرہ کریں تاکہ عوام کو اس کا فائدہ ملے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت نے طب یونانی کو بہت ہی تنگ نظری سے دیکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کی طبّی برادری میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر ایم اے جعفری (سابق وائس چانسلر، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی) نے کہا کہ ہمیشہ حالات سازگار نہیں ہوتے ہیں اور حالات کا شکوہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے بلکہ مثبت سوچ و فکر کے ساتھ ہمیں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے کامیاب تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظامِ قدرت ہے کہ جو لوگ بھی جہدمسلسل کے ساتھ کام کرتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اپنے حصے کا کام کرتے رہنا چاہیے۔ پروفیسر ایم اے جعفری نے NCISM کے نفاذ کے میرٹ اور ڈی میرٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اکیڈمک برادران نے جس قدر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا وہ یقینا خوش آئند ہے۔ مذکورہ میٹنگ میں پر وفیسر محمد ادریس (سابق پرنسپل، اے اینڈ یو طبیہ کالج، قرول باغ، نئی دہلی) نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت طب یونانی کی جو صورت حال ہے وہ یقینا تشویش ناک ہے۔ اس کے لیے منظم اور کُلّی علاج کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز مجاہد آزادی مسیح الملک حکیم اجمل خاں نے جس طرز پر تحریک چلائی تھی آج اس سے بھی زیادہ شدت سے تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ طب یونانی آج مشکل حالات سے گزر رہی ہے اور ڈاکٹر سیّد فاروق صاحب جیسے مخلص شخص کی قیادت میں تحریک چلائی جائے کیونکہ طب یونانی کا مسئلہ بھی ملّی مسائل میں شامل ہے ایسے میں ہمارے ملک کی دوسری مخلص شخصیات کو بھی آگے آنا چاہیے اور طب یونانی کے تئیں جو بدسلوکی کی جارہی ہے، اب یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم کس طرح متحد ہوکر مقابلہ کریں۔ میٹنگ میں آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے تمام شرکاءکا استقبال کیا اور طب یونانی کی موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالی۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر سیّد فاروق نے خطاب کیا اور مفید مشوروں سے نوازا نیز ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
ڈاکٹر حبیب اللہ (صدر، طبّی کانگریس میڈیکل آفیسرز ونگ) کی اس تجویز پر اتفاق کیا گیا کہ ہر صوبے کے محکمہ آیوش میں ڈپٹی ڈائرکٹر یونانی سطح کے آفیسر کا تقرر یقینی بنایا جائے تاکہ صوبے میں آیوش کے تحت تمام ترقیاتی مشن میں طب یونانی کو واجب مقام حاصل ہو۔ اس موقع پر اتفاق رائے سے یہ بھی طے پایا کہ وزارتِ آیوش، حکومت ہند کی جانب سے گزشتہ برسوں سے طب یونانی کے تئیں جاری تنگ نظری کو دور کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں اور حقیقت حال سے آگاہ کیا جائے۔ میٹنگ کے اہم شرکاءمیں ڈاکٹر الطاف احمد، حکیم محمد مرتضیٰ دہلوی، حکیم محمد صادق دہلوی، حکیم عطاءالرحمن اجملی، ڈاکٹر محمد علی جوہر، جمیل الدین اختر جے پوری، محمد عمران قنوجی، محمد اویس گورکھپوری، محمد سلمان عرفان، آصف پرویز، آفاق احمد اور عبدالوہاب عادل خاں وغیرہ شامل ہیں۔ تمام شرکاءکا شکریہ طبّی کانگریس اُترپردیش کے سرپرست محمد عاصم راجہ نے ادا کیا۔









