اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

جنگی ذہنیت امن کی خواہش پوری نہیں کر سکتی!

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
جنگی ذہنیت امن کی خواہش پوری نہیں کر سکتی!
76
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبدالسلام عاصم

دنیا میں سب امن چاہتے ہیں لیکن اپنی شرطوں پر اور یہی بیشتر جنگوں کی بنیادی وجہ ہے۔ قومیں کسی نہ کسی رُخ پر سبھی مکار ہوتی ہیں! کچھ خوش تدبیر تو کچھ بد اندیش۔ جو قومیں مکر سے علمی استفادہ کرتی ہیں وہ پنچایتی راج قائم کر کے ایک سے زیادہ حلقوں پر راج کرتی ہیں اور جو نظریاتی سوچ اور غیر سائنسی عقیدے سے کام لیتی ہیں انہیں اپنی جسمانی طاقت اور دوسرے کی دماغی طاقت کی نت نئی اسلحہ جاتی پیداوار پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

تاریخی دستاویزات ایسی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جنہیں چھان پھٹک کر پڑھنے والے مرحلہ وار اپنی راہ بدل کر پنچایتی حلقوں میں شامل ہوتے رہتے ہیں لیکن جو حلقے یا قومیں اُسی تاریخ کے محض پسند آنے والے حصے کو پریوں کی کہانی کی طرح انجوائے کرتی ہیں وہ ماضی پر مستقبل کی تعمیر کی بے ہنگم کوشش میں اپنا حال تباہ کئے رہتی ہیں۔ زیر ترتیب ایسے ہی واقعات اور سانحات کا ایک سلسلہ ان دنوں ہمارے گھر سے چند گھر دور ہمسائے افغانستان میں جاری ہے جہاں زندگی کا تقدس بُری طرح پامال ہو رہا ہے۔

دشواری یہ ہے کہ اِس بات کی تفہیم کہ نفرت اور دشمنی کا جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے! صرف بذریعہ علم ممکن ہے۔ یہ دونوں جذبے اختلاف سے عدم اتفاق کی پیداوار ہیں اور جو لوگ کسی بھی معاملے میں بس جامد اتفاق پر یقین رکھتے ہیں وہ ہر اختلاف کو دشمنی کا نام دے دیتے ہیں۔ نفرت کا بیج بونے کا یہ غیر سائنسی خودکار طریقہ ہے کچھ ایسا ہے جسے صرف علمی دائرے میں ہی سمجھا اور سمجھایا تو جا سکتا ہے۔ حالات سے منفی طور پر متاثر ہونے والوں کو اِس رخ پر بھی کچھ سمجھانا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔

اس کے ایک زیادہ اسباب میں دو اسباب نمایاں ہیں جن کا تعلق ’’اطلاع‘‘ اور’’ افواہ‘‘ سے ہے۔ معتبر طور پر ریکارڈ ڈیڑھ دو سوبرس کی تاریخ میں یہ سلسلہ جوڈو فوبیا سے گزرتا ہوا اب اسلاموفوبیا سے گزر رہا ہے۔ اصل میںکشیدہ ماحول کی ’’ناخوشگوار‘‘ باتیں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک جو سُننے والے سے منسوب ہوتی ہیں، اُسے سُننے والے اکثر ’’افواہ‘‘ قرار دیتے ہیں، اور جو دوسروں کے خلاف ہوتی ہیں وہ باتیں سننے والوںکے لئے ’’اطلاع‘‘ کا درجہ رکھتی ہیں۔ اِس فرق کی بنیادی وجہ وہ بدگمانی ہے جو علم سے محروم حلقوں میں ایک دوسرے کے خلاف صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے تو یکسر غلط نہیں ہوگا کہ اِس بدگمانی کی اِن حلقوں میں باقاعدہ پرورش کی جاتی ہے۔ ہم میں سے بیشتر اِس بد گمانی کے بری طرح شکار ہیں اور ہم میں ہی کچھ لوگوں کے ذہن اِس قدر کنڈیشنڈ ہو چکے ہیں کہ اُنہیں ایکدم سے نہیں بدلا جا سکتا۔

افغانستان میںحالات کے نئے موڑ پر آنے والی تبدیلی کی نوعیت کیا ہے! اِس بارے میں بھانت بھانت کی خبریں چلی آ رہی ہیں۔ سب کو اپنی پسند کے وسیلے یا ذرائع کی خبریں درست لگ رہی ہیں۔ اس میں کوئی اشتباہ نہیں کہ افغانستان میں طالبان کے پھر سے سیاہ و سفید کا مالک بن جانے سے جستجو رخی زندگی گزارنے والے خوش نہیں اور وہ لوگ بے حد خوش ہیں جو رضائے الٰہی کے نام پر کسی بھی ایک سے زیادہ مروج طور طریقے کے مطابق جیتے ہیں اور اُسی مناسبت سے سامنے والے نتائج کو حق سمجھتے ہیں۔دوسری جانب سچ کیا ہے اور غلط کیا ہے! یہ تجسس ”ماننے” پر ”جاننے” کو ترجیح دینے والے لوگوں کو حالات کا تقابلی اور معروضی جائزہ لینے کی تحریک دیتا ہے۔

ایسی ہی ایک تحریک مجھے پچھلے ہفتے کوویڈ 19 کی تیسری لہر کی آمد کی خبر گرم ہونے کے باوجود گھر سے باہر لے گئی۔ شہر کے ایک مخلوط تجارتی و رہائشی حلقے میں کچھ افغانیوں سے ملا۔ اُن سے بات چیت کی۔ ایسا کوئی سوال نہیں کیا جس کا دوٹوک جواب دینے سے وہ گھبرائیں۔ امکانات اور اندیشوں کے رُخ پر جو باتیں ہوئیں۔ اُن سے میں اِس نتیجے پر پہنچا کہ افغانستان میں طالبان کی پہلی اور دوسری آمد اُس مقامی تہذیب (رواج) سے متصادم نہیں جس نے زندگی اور موت کے سوا کبھی کسی ’’تبدیلی‘‘ سے کوئی دوسرا مفہوم اخذ ہی نہیں کیا۔دوسری طرف سوویت قبضے والے ببرک کرمال کے عہد اور پھر امریکی مداخلت کے نتیجے قائم ہونے والی دو دہائیوں کے نظم نے افغان شہر اور گاوں میں زندگی گزارنے والوں کی قابل لحاظ آبادی کو ایک ایسی آزادی کا عادی بنا دیا جو بیشتر اقوامِ عالم میں جمہور کی دین ہے۔ اس بین معاشرت تبدیلی نے افغانستان کے جامد معاشرے کو تبدیلی کے رخ پر کچھ اس طرح متحرک کر رکھا ہے کہ انقلاب پسند اور رجعت پسند دونوں بالترتیب اس کی تاب و ضبط نہیں لا پا رہے ہیں۔

حالات کا یہ موڑ طالبان کے لئے ہی نہیں فارغین کیلئے بھی سخت آزمائشی ہے۔امریکہ، روس، چین اوربعض دیگرحقیقی معنوں میں خود انحصار ممالک زندگی کی کشاکش کی اُس دوڑ سے نکل چکے ہیں جہاںکبھی اُنہیں بھی یہ سبق پڑھایا گیا تھا کہ ظلم کی کہانیوں اور مظلومیں کے دکھ درد کی داستانوں کے درمیان ارتقاء کا سفر طے کرنے والی دنیا میں غور و فکر سے کام لینے والوں کو جو پہلا سبق ملتاہے وہ سبق استحکام کا ہے۔ استحکام ہی وہ کیفیت ہے جس میں مبتلا ہونے والے کیلئے امکانات کے در کھلتے ہیں۔ اُس در کے قابلِ گزر حد تک وا ہونے تک سانس لینے میں کامیاب رہنے والے ہی پھر سے جینا شروع کر پاتے ہیں۔ طبی معالجین اسپتالوں کے خصوصی شعبوں میں’’ استحکام‘‘ کی کیفیت سے گزرنے والے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور اس کوشش میں کبھی کبھی ایسی کامیابیاں بھی ملتی ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ دراصل یہ جستجو اور جدوجہد اپنے آپ میں ایک جنون ہے اور اس جنون کیلئے ذہنی وسعت سے زیادہ ایک ایسی کشادہ دلی چاہئے جس میں گنجائش کی ہر حدپر امکان کا کوئی کسی نیا در وازہ کھلتا ہو۔

عصری دنیا کے ایک قابل لحاظ حلقے میں ایک سے زیادہ ممالک اس کشاکش سے گزر رہے ہیں۔جہاں کے نام نہاد اہل معاملہ قوموں کے عروج و زوال کو سلطنتوں کی قوت و شوکت سے ناپنے کے عادی ہو گئے ہیں۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کی دنیا کو اگر صف بندیوں سے نجات نہیں مل سکی تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پچھلی صدی کے وسط سے ہی مغرب سے غیر فطری طور پر متصادم یساریوں کی جگہ یمینیوں نے لے رکھی ہے۔اس کا ایک سے زیادہ حلقوں نے بساط بھر ادراک کیا ہے۔ فرانسس فوکویاما نے جہاں اپنی تھیوری‘ تاریخ کی انتہا‘کے ذریعہ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ روشن خیال مغربی جمہوریت ہی انسانی نظریات کے ارتقاء کی انتہا ہے وہیں سیموئیل ہنگٹنگٹن نے اپنی تھیوری ’تہذیبوں کے تصادم‘ کے ذریعہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اب تصادم بالخصوص مغربی تہذیب اور اسلامی تمدن کے درمیان ہے۔

دیکھا جائے توبظاہراِن دونوں کے اخذ کردہ نتائج سے ہی ایک نئے رُخ پر بٹی ذوقطبی دنیا استفادہ کر رہی ہے ۔ مغربی ایشیامیں ایک طرف جہاں آل ابراہیم نے ماننے اور منوانے کی ضد پر ایک بار پھر ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کو ترجیح دینا شروع کر دیا ہے وہیں بعض حلقوں میں اب بھی متصادم حلقے اسی خیال سے الجھے ہوئے ہیں کہ تہذیبوں کے تصادم میں کوئی ایک حلقہ ہی بالاخر کامیاب ہوگا۔یہ ہے وہ نظریاتی بحران جو ہمیں لے ڈوبنے پر تُلاہوا ہے۔ دیکھنا ہے کہ رفتارِ زمانہ سے غیر ہم آہنگ اقوام کی نئی نسل کا بڑا حلقہ کب تک روشن خیال جمہوریت کے علمی ماڈل کو اپناتا ہے اور جنگ کے راستے سے ہی امن کی منزل کی طرف بڑھنے کی ضد رکھنے والوں کو کوئی ایسا قابل عمل نسخہ پیش کر تا ہے جونسلی افتخار، مذہبی اور مسلکی تفرقات،تنازعات،جامد اتفاق اوربے ہنگم نفاق سے نجات کے رُخ پر واقعی اثر انگیز ہو۔بظاہرسرد جنگ کے بعد کی موجودہ دنیا ثقافتی بنیادوں پر منقسم ہے اور غالب امکان ہے کہ یہی تقسیم مستقبل کی جنگ اور امن کے سلسلے کو فیصلہ کن بنائے گی۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN