تحریر: شیوانگی سکسینہ
نوٹ :ریڈیکل ہندوتوا کی شکل کتنی خوفناک ہے اور وہ کیسا سماج بنارہا ہے یہ مضمون اسے سمجھنے میں مدد کرتاہے ۔اس میں زہربھرے ذہن کی عکاسی کرتے کچھ جملے غیر اخلاقی اور ناقابل تحریر لگ سکتے ہیں ،مگر ان کا تذکرہ اس لیے ضروری ہے کہ ریڈیکل ہندوتوا کی غلاظت کا تعفن محسوس کیا جاسکے ،اس کے تدارک کی تدابیر پر غور کیا جاسکے۔
30 اپریل کو غازی آباد رہائشی 24 سالہ یوٹیوبر سریش راجپوت انسٹاگرام پر لائیو کرتا ہے ۔ اس دوران وہ کہا ہے ،’ ’جہادیوں یاد رکھو آج سے تمہاری امیوں کا حلالہ کرنا شروع کردیا ہے۔ بلاتکارکے بیچوں**@)کا جنم ہی بلاتکاریوں سے ہواہے۔ یہ مسلمان 1400 سال سے بلاتکار کرتےآرہےہیں۔ کوئی نہیں ملتا ہے تو اپنی بہن- بیٹیوں کے ساتھ بلاتکار کرتے ہیں ۔ ‘‘
یتی سرسنگھا نند کےایک شاگرد 18سالہ کنال شرما بھی ہے ۔ دہلی شاہدرہ کا رہنے والا کنال نے 11 جولائی کو مسلمان لڑکیوں کے فون نمبر کی ایک فہرست سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی ۔ جس کا عنوان تھا :’’ مسلم لڑکی پٹاؤ ابھیان‘‘
اسی طرح یتی کے ایک اور شاگرد ملک شہراوت عرف وکاس شہراوت نے کانگریس لیڈر الکا لمبا کو قابل اعتراض الفاظ کہے تھے۔ اس الزام میں انہیں 24 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن 10 اپریل کو ضمانت مل گئی ۔ جیل سے باہر آتے ہیں شہراوت نے پھر سے خواتین مخالف سرگرمیاں شروع کردی ۔ ایک وائرل ویڈیو میں انہوں نے کانگریس لیڈر الکا لمبا کو گالی نما الفاظ استعمال کیا۔ بعد میں سریش راجپوت نے بھی ملک شہراوت کی حمایت میںایک ویڈیو بنا کر وہی بات کہی۔
چاہے سریش ہو ،ملک شہراوت یا کنال شرما ان سب کے درمیان کچھ باتیں ایک جیسی ہیں ۔ یہ سب عورت مخالف ہیں۔ سب مسلمان مخالف ہیں اور سب کے سب خود کو فخر سے یتی نرسنگھا نند سرسوتی کا شاگرد بتاتے ہیں ۔
وہیں یتی نرسنگھانند سرسوتی جن کا ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہاہے ۔ ویڈیو چار جولائی کا ہے ۔ اس ویڈیو میں یتی نرسنگھا نند کہہ رہے ہیں کہ سیاست میں جو بھی خواتین ہیں وہ کسی نہ کسی مرد لیڈر کی رکھیل ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’ جتنی بھی بی جے پی میں خواتین دکھائی دے رہی ہیں یہ لیڈر کے پاس جاتی ہیں ، پھر دوسرے اور پھر تیسرے ،جب تک ان کا کام نہیں ہو جاتا ،جتنی بھی عورتیں سیاست میں نظر آرہی ہیں سب کا یہی حساب ہے ۔‘‘
ویڈیو میں یتی نرسنگھانند خواتین کےلیے جس طرح کے قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کررہے ہیں اس کے پیچھے ان کی ایک پوری تاریخ ہے ۔ خواتین اور مسلمانوں کے تئیں نفرت اور توہین کااظہار کرنے والے ان کے تمام ویڈیو الگ الگ سو شل میڈیا پر دستیاب ہے ۔ ایک دیگر ویڈیو میں وہ کہتے ہیں۔’’ مسلمانوں نے خواتین کو اپنا ہتھیار بنا لیاہے۔ پہلے تمام مسلمان عورتیں ر @ ہوا کرتی تھیں‘‘
بتادیں کہ اس طرح کے بیان دینے والےیتی نرسنگھانند کے پاس ایک پوری فوج ہے جو ان کے نظریے کو مانتی ہےاور اس کی تبلیغ وتشہیر کرتی ہے ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان نوجوانوں کی ٹریننگ اس طرح سے ہوئی ہے کہ ان کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد نظر آتاہے ، ہندو دھرم کو خطرہ ہے، ہندو لڑکیوں کو خطرہ ہے اور انہیں ان کو بچانا ہے ۔
سریش راجپوت نے تین سال قبل ’ ہندو شیر بوائے‘ نام سے اپنا یوٹیوب بنایا تھا۔ جس کے اب تقریباً ساڑھے چار لاکھ سبسکرائب ہیں۔ سریش نرسنگھانند سرسوتی کو اپنا بھگوان مانتا ہے ۔ وہ کہتا ہے ’’ مجھے فیس بک کے ذریعہ سے پتہ چلاکہ ہندوؤں کے ساتھ کتنا غلط ہو رہاہے ۔ مسلمان لو جہاد کرتےہیں اورہماری لڑکیوں کو پھنساتے ہیں۔ یہ لوگ زمین جہاد بھی کرتے ہیں اور ہماری زمین کو ہتھیا لیتے ہیں ۔ مجھے لگاکہیں نہ کہیں مجھےاپنے دھرم اور اپنی بہن – بیٹیوں کے مفاد کے لیے آواز اٹھانی چاہئے۔ اسی سوچ کے ساتھ میں یتی نرسنگھا نند سرسوتی سے جڑاہوں۔‘‘
30 اپریل کو وائرل ہوئے ایک ویڈیو میں مسلم خواتین کے لیے انہوں نے جس طرح کی زبان کا استعمال کیا اس کے لیے انہیں کوئی پچھتا وا نہیں ہے ۔ سریش نیوز لانڈری سے کہتے ہیں :’’ میں ایکشن کا ری ایکشن دیتا ہوں، جو جس زبان میں سمجھے گا میں اسے اسی کی زبان میں سمجھانے کی ہمت رکھتا ہوں ۔ بعد میں کچھ بھی ہو جائے مجھے اس کا کوئی خوف نہیں ہے ۔ مجھے کسی کا ڈر نہیں کیونکہ میں اپنے دھرم اور ملک کے لیے کام کررہا ہوں ۔‘‘
ملک شہراوت کو 10 اگست کو دوبارہ گرفتار کیا گیاہے۔ اس پر سریش کہتے ہیں ، ’’ہم ہمیشہ شہراوت کے لیے کھڑے ہیں۔ وہ ہندوتوا کے لیے لڑ رہا ہے۔ایسے تمام لوگوں کے ساتھ ہمیں کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ہے جو ہندوتو وادی اور راشٹر وادی ہے ۔ ہمیں الگ نہیں ہونا ہے کیونکہ ہمارے لیڈروںنے ہمیں خوب بانٹ اور توڑ لیاہے ۔ ملک بھائی کھل کر جو قدم اٹھاتے ہیں وہ صحیح ہے ،ایسا ہی جذبہ ہر ہندو میں ہونا چاہئے ۔‘‘
حال ہی میں سریش نے اپنے یوٹیوب چینل پر ادا کارہ سوارا بھاسکر کی ایک ویڈیو بھی اپ لوڈ کی ہے ۔ جس میں وہ انہیں بار – بار ’ نچنیا ‘ کہہ کر مخاطب کررہاہے ۔ وہیں ایک دیگر ویڈیو میں سریش الکا لمبا کے لیے کہتے ہیں ،’ الکا لمبا نے معززنریندر مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ کو نامرد کہا ۔ کیا الکا لمبا نے چیک کیا ہے؟ پہلے وہ کانگریس میں تھیں پھر عام آدمی پارٹی میں چلی گئی، اب واپس کانگریس میں آگئی۔ اس نے کیجریوال اورراہل کی نامردی کو بھی چیک کیا ہے یا کوئی چیک کرنے کے لیے بھیجا ہے ؟‘‘
ایک سوال کے جواب میں سریش کا کہنا ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اورسوشل میڈیا پر کیا لکھ رہے ہیں اس سے ان کے پریوار کو کوئی فرق نہیں پڑتاہے۔
یتی کے ایک اور چیلے کنال کی بات کریں تو وہ ان کے اس گروپ میں سب سے نوجوان ہے ۔ 11 جولائی کو کنال نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ لکھا تھا ، جس میں وہ کہتا ہے :’’ مسلم لڑکیوں سے شادی کرو، اسے سرکاری پراپرٹی سمجھ کر یوز کرو۔ خود بھی مزا لو، دوسروں کو بھی دلواؤ ، سب کا ساتھ سب کا وکاس تبھی ہوگا۔‘‘
اس کے بعد 18 اگست کو دہلی پولیس نے کنال کو ذہنی مریض بتا کر گرفتار کر لیا تھا اور اسپتال میں بھرتی کرا دیا۔ پولیس کی کارروائی سے صرف دو گھنٹے پہلے نیوز لانڈری نے کنال سے بات کی تھی۔ وہ کہتا ہے ’’ بہت سارے وہاٹس ایپ گروپ چلتے ہیں ،ایسے ہی ایک گروپ میں یہ لسٹ آئی تھی ۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے فارورڈ کردی۔ میں جھوٹ نہیں بلوں گا ،میں نے ہی مسلمان لڑکیوں کی لسٹ پوسٹ کی ہے ،کیونکہ جب کوئی مسلمان ہماری لڑکیوں پر لو جہاد کرے گا تو ہم اس کے تئیںایسے ہی ایکشن لیں گے ، میں اس چیز کی ذمہ داری اٹھاؤں گا ، کبھی پیچھے نہیںہٹوں گا ۔‘‘
کنال نے پچھلے ہی سال 10 ویں پاس کی ہے ۔ ان کاماننا ہے کہ مسلمان چور، قاتل اور بلاتکاری ہوتے ہیں ، اس لئے ہندو دھرم کی حفاظت کرنا ان کی ذمہ داری ہے ۔ اپنے اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے کنال نے تین سال پہلے اپنا گھر چھوڑ دیا۔ اسی دوران اس کی ملاقات یتی نرسنگھا نند سے ہوئی ، جس کے بعد اس نے اپنی تعلیم درمیان میں ہی چھوڑ دی اور مسلم لڑکوں سے ہندو لڑکیوں کی حفاظت کرنا ہی اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ وہ کہتا ہے کہ ’’ جتنا وقت میں پڑھائی پر برباد کروں گا ،اتنے وقت میں جہادی میرے کتنے بھائی بہنوں کا قتل کردیں گے ۔ ہندو عورتوں کے بلاتکارہوجائیں گے ،میں تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا۔‘‘
نیوز لانڈری نےان تمام کے گرو اور خواتین مخالف بیان سے ایک بار پھر سرخیوں میں آئے یتی نرسنگھانند سے بھی بات کی۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ کے چیلے خواتین مخالف باتیں کیوں کرتےہیں؟ اس سوال پر وہ کہتے ہیں :’’ یہ کوئی ریپ تھرٹ نہیں ہے، سریش کے کہنے سے کوئی اپنی امی کو بھیج نہیں دے گا۔ سریش ہندو کا لڑکاہے ، یہ اس کی فرسٹریشن ہے، اسے معلوم ہے وہ کچھ نہیں کر پائے گا۔ مسلمان کسی کا بھی قتل کر دیں گے کوئی بولنے والا نہیں ہوگا۔ یہ ان بچوں کی فرسٹریشن ہے۔‘‘
کیوں عورت مخالف باتیں کرکے خواتین کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں یتی نرسنگھا نند ؟
سال 1997 میں یتی نرسنگھانند ماسکو سے کیمیکل انجینئرنگ میں ایم ٹیک مکمل کرنے کے بعد میرٹھ لوٹے تھے۔ ان کا اصل نام دیپک تیاگی ہے ۔ اپنے پریوار اور دوستوں کے کہنے پر وہ سماج وادی پارٹی سے جڑگئے۔ سماج وادی پارٹی میں رہنے کے دوران انہوں نے ایک تنظیم بنائی تھی ۔
اس کے بارے میں یتی نرسنگھا نند بتاتے ہیں :’’ اپنی ذات کو منظم کرنے کے لیے ہم نے ایک چھوٹی سی تنظیم بنائی تھی ۔ اس تنظیم کے ذریعہ سے ہم نے نوجوانوں سے تعارف کرنا شروع کردیا۔ ایک لڑکی جو ڈگری کالج میں تعلیم حاصل کرتی تھی وہ میرے رابطہ میں آئی ۔ اس کے ساتھ لو جہاد جیسا واقعہ ہوا تھا ۔ اس کی سہیلی نے اپنے بھائی سے اس کی دوستی کرادی ۔ بعد میں اس لڑکی کے ساتھ بہت برا ہوا۔ یہ سب جن کی وجہ سے ہوا وہ مسلمان تھے ۔‘‘
وہ آگے کہتے ہیں :’’ اس وقت میں سیاست کرنے والا ایک معمولی آدمی تھا۔ اس نے مجھے مسلمانوں کی کئی کہانیاں بتائی۔ مجھے یقین ہی نہیں ہوا کیونکہ میرے کئی مسلمان دوست ہوا کرتے تھے ۔ مجھے لگا تھا کہ یہ ایک وشیہ ہے اس لئے اپنے کردار کو اچھا دکھانے کے لیے یہ سب کہہ رہی ہے ۔ ایک دن مجھے معلوم ہوا اس لڑکی نے خودکشی کرلی۔ تب مجھے لگاکہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور تھا۔ پھر میںنے اس کی جانچ کی۔ ‘‘
وہ مزید کہتا ہے ،’’ مسلمانوں کی سوچ جاننے کے لیے میں نے قرآن پڑھی، میںنے مسجد اور مدرسوں میں گیا۔ وہاں میں نے اسلام کو سمجھنا شروع کیا۔ مجھے سمجھ میں آیاکہ اسلام کینسر ہے۔ اگر اسے زمین سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا گیا تو یہ زمین کو بنجر کر دے گا۔ میں ہندو لڑکیوں کو بچانے کی پوری کوشش کررہا ہوں۔‘‘
نیوز لانڈری نے یتی نرسنگھانند سرسوتی کی خواتین حامیو ں سے بھی بات کی۔ ڈاکٹر سپنا بنسل دہلی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر پڑھاتی ہیں۔ یتی نرسنگھا نند کی خواتین مخالف سوچ کے بارے میں وہ کہتی ہیں :’’ خواتین کے لیے کسی بھی طرح کا قابل اعتراض الفاظ کہنا صحیح نہیں ہے ۔ عورتیںکی الگ الگ شکلیں ہوتی ہے۔ دیوی کی شکل الگ ہوتی ہے۔ وہیں کوٹھے پر بیٹھی عورت کی شکل الگ ہوتی ہے ۔ نہ جانے وہ وہاں کس مجبوری میں بیٹھی ہوںگی ، ہو سکتا ہے ایسی کچھ عورتیں ان کے (یتی نرسنگھا نند سرسوتی) رابطہ میں آئی ہوں گی، انہوں نے وہی بولا جو انہوں نے تجربہ کیا ہوگا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ عورت کی ہر شکل کا احترام کیا جانا چاہئے۔‘‘
بتادیں کہ قومی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن ریکھا شرما نے 7 اگست کو خواتین مخالف بیان بازی کے لیے نرسنگھا نند کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی لیکن اس پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔ یتی نرسنگھا نند اب بھی جیل سے باہر ، ڈاسنا مندر میں وراجمان ہے ۔
(بشکریہ : نیوز لانڈری )










