بنگلور :(ایجنسی)
کرناٹک کے منگلورواقع ایک مندر نے اپنے احاطہ کے آس پاس غیر ہندوؤں کی کار پارکنگ پر روک لگا دی ، جس کے بعد وہاں تنازع پیدا ہوگیا۔
یہ معاملہ جنوبی کنڑ ضلع کے پتور قصبے کا ہے۔وہاں پر 12 ویں صدی کے سری مہالنگیشور مندر کی جانب سے وہاں کے کمپلیکس میں غیر ہندوؤں کی پارکنگ پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ انگریز ی نیوز چینل ’ ٹائمس ناؤ‘ کی رپورٹ کے مطابق مندر ٹرسٹ کی جانب سے ایک بورڈ لگایا گیاتھا ۔ جس پر لکھا تھا کہ وہاں صرف ہندو بھکت ہی اپنی گاڑیاں پارک کر سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر یہ بھی بتایا گیا کہ غیر ہندوؤں کو یہ بھی بتایا گیا کہ اگر انہوں نے اپنی گاڑی وہاں کھڑی کی یا پارک کی ، تب ان کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے ۔
کرناٹک حکومت کے تحت ( سرکار ہی چلاتی ہے ) آنے والے اس مندر کے مذکورہ فیصلے کو لے کرکچھ طبقے میں ناراضگی دیکھنے کو ملی تھی۔ مندر انتظامیہ کی اس وجہ سے خاصی تنقید بھی ہوئی۔
ویسے تنازع کے درمیان پٹور کے اسسٹنٹ کمشنر نے فیصلہ لیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مندر کے ایگزیکٹیو افسر کو نوٹس بھیجیں گے ۔ ساتھ ہی پوچھیں گے کہ آخر پارکنگ پر پابندی والا بورڈ کس وجہ سے لگایا گیا ؟
وہیں مندر انتظامیہ کمیٹی کے سربراہ کیشو پرساد ملیا نے انگریزی اخبار :’ دی ٹائمس آف انڈیا‘ کو بتایا کہ ہم لوگوں کا مقصد مندر احاطہ اور اس کے آس پاس سیکورٹی انتظامات چاق وچوبند کرنے کا ہے ۔ اسی تناظر میں متعلقہ محکمہ کے وزیر کے زبانی حکم کے بعد اسے مضبوط کیا گیا ۔
انگریزی اخبار ’دی نیو انڈین ایکسپریس‘ نے ملیا کے حوالے سے کہا ،’یہ فیصلہ مندر کمیٹی نے لیا ہے۔ مزرائی ڈپارٹمنٹ کو احاطے کی دیکھ بھال کا حق دیا گیا ہے۔ اگر کوئی پارکنگ کی درخواست لے کر آتا ہے تو ہم اس پر غور کریں گے۔ یہ فیصلہ مندر کے احاطے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لیے بھی ہے۔
بتادیں کہ دعوی ٰکیا گیا ہے کہ بھکتوں کے لیے پارکنگ کے لیے کافی جگہ نہیں ہے اور مندر کے باہر دستیاب جگہ کا استعمال دیگر مذاہب کے لوگ آس پاس کے بازاروں میں جانے کے دوران کرتے تھے ۔









