کابل : (ایجنسی)
افغان طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کے نائب اور مذاکراتی ٹیم کے رکن شیر محمد عباس ستانکزئی نے کہا ہے کہ نئی حکومت کا اعلان تین دنوں تک ہو جائے گا۔
بی بی سی پشتو ریڈیو کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اس نئی حکومت میں گزشتہ 20 برس میں حکومت میں رہنے والے افراد شامل نہیں ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کی اسلامی امارت ایک ایسی حکومت بنائے جس کو افغانستان کے اندر اور باہر حمایت حاصل ہو۔ یہ ایک انکلسیو حکومت ہوگی اور افغانستان کے تمام اقوام کی نمائندہ ہوگی۔ وہ چہرے جو گزشتہ 20 برس میں کسی نہ کسی شکل میں حکومت میں رہے ہیں وہ ہماری حکومت میں نہیں ہوں گے۔‘ عباس ستانکزئی کے مطابق اُن کی نئی حکومت میں تقویٰ دار، پرہیزگار اور تعلیم یافتہ افراد شامل ہوں گے۔
اس سے قبل طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ قندھار میں ان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی سربراہی میں تین روزہ اجلاس ختم ہوا ہے جس میں نئی حکومت کی تشکیل پر بات چیت ہوئی ہے۔
قندھار میں بعض ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کی مرکزی شوریٰ کے اس تین روزہ اجلاس میں ملا ہبت اللہ اخوندزادہ شریک تھے اور کئی عرصے بعد قندھار میں اس شوریٰ کا اجلاس ہوا۔
شیر محمد عباس ستانکزئی نے اس انٹرویو میں بتایا کہ اُن کی حکومت میں خواتین شامل ہوں گی لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ خواتین اہم منصب یا وزارت کی سطح پر ہوں گیں یا نہیں۔ ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نئی حکومت میں خواتین کی کافی تعداد ہوگی، لیکن یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ بڑے منصبوں پر فائز ہوں گیں۔‘
عباس ستانکزئی نے دعویٰ کیا کہ اُن کی حکومت میں خواتین کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہیں اور دفاتر میں خواتین کام کریں گی۔
کابل میں افغان سروس کے ایڈیٹر عنایت الحق یاسینی کے اس جواب میں کہ کیا انٹرنیشنل کمیونیٹی ایسی حکومت کو تسلیم کر لیں گے؟ عباس ستانکزئی نے کہا ’ان شااللہ ہمیں یقین ہیں کہ سب اس حکومت کو تسلیم کریں گے کیونکہ 20 برس بعد افغانستان میں امن قائم ہوا ہے اور ایک ایسی حکومت بن رہی ہے کہ پورے افغانستان میں جنگ نہیں ہیں۔‘
عباس ستانکزئی کے مطابق گزشتہ 40 برس میں پہلی مرتبہ گزشتہ پندرہ دنوں میں افغانستان میں کہیں جنگ نہیں ہوئی ہیں۔ وہ کہتے ہیں اس صورتحال کا نہ صرف افغانوں کو بلکہ بین الاقوامی برادری کو فائدہ لینے چائیے۔
’افغان ان شااللہ متحد اور متفق ہیں اور دنیا کو بھی چائیے کہ وہ اس صورتحال سے فائدہ اُٹھائیں اور ہماری حکومت کو تسلیم کر لیں۔‘
شیر محمد عباس ستانکزئی کے مطابق اُن کی حکومت امریکہ سمیت یورپی یونین اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہیں اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو بھی اس صورتحال سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ عباس ستانکزئی کے مطابق قطر میں اُن کے سیاسی دفتر کے اراکین مختلف ممالک کے سے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔











