نئی دہلی : (ایجنسی)
ملک کے دارالحکومت دہلی سے متصل اتر پردیش کے غازی آباد میں ڈاسنہ دیوی مندر کے مہنت یتی نرسنگھا نند سرسوتی کی ایک اور متنازع ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جو کہ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل ویڈیو میں وہ مہیلا آیوگ کی چیئرپرسن ریکھا شرما کے خلاف انتہائی قابل اعتراض باتیں کہہ رہے ہیں۔ یتی نرسنگھانند دعویٰ کر رہا ہے کہ ان سے زیادہ کسی نے بھی خواتین کےاحترام کی لڑائی نہیں لڑی۔ بتادیں کہ اس سے پہلے حال ہی میں ان کی ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی ، جس میں انہوں نے بی جے پی کی خواتین رہنماؤں کے بارے میں گھٹیا باتیں کہی تھیں ۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی جے پی لیڈر نے پولیس سے نرسنگھا نند سرسوتی کو گرفتار کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ڈاسنہ مندر میں لڑکے کی پٹائی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اپنے بیانات کی وجہ سے سرخیوں میں آنے والے یتی نرسنگھانند سرسوتی کی جو ویڈیو اب وائرل ہورہی ہے ، اس میں وہ ایک انٹرویو دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ وہ ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں ،’میں نہیں سمجھتا کہ یہ ریکھا شرما یا خاتون کارکن ہے ، یہ کیا گوبر کھاکر پیدا ہوئی ہے؟ ان میںعقل ہے یا نہیں ہے،یہ بی جے پی کی مہیلا ہے ، راشٹریہ وادی ہے۔ یہ چھاتی پر ہاتھ رکھ کر بتادے کہ میںنے جھوٹ بولاہے ۔ پوری ویڈیو دیکھ لے ،ایک لفظ بتا دے کہ میںنے جھوٹ بولاہو۔ میرے خلاف رپورٹ لکھوا کر اسے کیاملے گا ، چل مجھے پھانسی پر چڑھا دے، لیکن میری بہن میںنے سچ بولا تھا یا جھوٹ بولی تھا۔ ‘
انہوں نے مزید کہا ، ’ریکھا شرما کو پوری ویڈیو سننی چاہیے تھی کہ میں نے وہ بات کس تناظر میں کہی ہے۔ میری ویڈیو کو ایڈٹ کرکے مجھے خواتین مخالف قرار دیا۔ مہیلا آیوگ کی چیئرپرسن کو سوچنا چاہئے کہ میں خواتین کے احترام کے لیے لڑ رہاہوں یا ان کی توہین کر رہاہوں۔ خواتین کے احترام کی لڑائی مجھ سے زیادہ کسی نے لڑی ہو تو دکھا دینا ۔‘
اس سے قبل ، یتی کی جو ویڈیو منظر عام پر آئی تھی ،اس میں خواتین رہنماؤں کے بارے میں قابل اعتراض باتیں کہی گئی تھیں۔ وہ خواتین کے بارے میں نازیبا تبصرے کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اتنی خواتین آج کل سیاست میں گھوم رہی ہے، پورا مزا آر ہاہے۔ انہوں نے کہاکہ آج کل سرکاری ٹھیکوں کا دام 10 فیصد ہو گیا ہے۔ نرسنگھا نند سرسوتی نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کی جتنی خاتون لیڈر آپ کو نظر آرہی ہے ، وہ ایک لیڈر کے پاس گئی اور دوسرے کے پاس نہیں گئی تو دوسرا ان کا کام نہیں کرے گا۔ اسی طرح انہیں تیسرے سے کام ہے تو تیسرے کے پاس بھی جانا پڑے گا۔









