غازی آباد : (ایجنسی)
یوپی کے غازی آباد کے ڈاسنہ میں واقع شیو شکتی دھام کے پچاری یتی نرسنگھا نند مشکل میں پھنستے نظر آرہے ہیں۔ نرسنگھا نندر کا ایک ویڈیو وائرل ہورہاہے جس میں وہ خواتین کو لے کر نازیبا زبان استعمال کرتے سنائی دے رہے ہیں ۔ ویڈیو کو لے کر ڈاسنہ مندر کے مہنت یتی نرسنگھا نند سرسوتی کے خلاف دہلی سے متصل یوپی کے غازی آباد میں تین مقدمےدرج ہوئے ہیں ۔ مقدمے درج ہونے اور بیان پر تنازع بڑھتا دیکھ کر مہنت نے صفائی دی ہے ۔
یتی نرسنگھانند سرسوتی نے غازی آباد صدر کے سی او کو ایک خط لکھ کر ویڈیو سے چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہاہے کہ کسی نے سازش کے تحت اسے عام کردیاہے۔ مہنت یتی نرسنگھا نند نے اپنی صفائی میں کہا ہے کہ ذاتی گفتگو کا ویڈیو کسی نہ ریکارڈ کر کےسازش کے تحت چھیڑ چھاڑ کرکے عام کیاہے ۔ چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے میری باتوں کا مطلب بے معنی ہو گیا ۔ یہ ویڈیو قریب سات سے آٹھ مہینے پہلے کاہے ۔
نرسنگھا نند سرسوتی نے سی او صدر غازی آباد کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کبھی بھی ماں شکتی کے لیے عوامی سطح پر کوئی توہین آمیز یا قابل اعتراض تبصرہ نہیں کیا۔ وائرل ویڈیو کو لے کر نرسنگھا نند سرسوتی نے کہا کہ اس سے شرمندہ ہوں۔ مجروح ہوں۔ نرسنگھا نند سرسوتی نے کہاکہ اس ویڈیو کی وجہ سے جنہیں بھی ٹھیس پہنچی ہو ۔ ہم معذرت چاہتے ہیں ۔ سی او کو لکھے خط میں نرسنگھا نند نے انہیں یقین دلایاہے کہ زندگی بھر کبھی ایسا نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ڈاسنہ مندر کے مہنت یتی نرسنگھا نند سرسوتی کے خلاف غازی آباد میں تین مقدمے درج ہوئے ہیں۔ نرسنگھانند کے خلاف میسوری تھانہ میں بھی معاملہ درج کیا گیا ہے۔ نرسنگھا نند کے خلاف دفعہ 504، 505، 509 اور دفعہ 67 کے تحت معاملے درج کئے گئے ہیں ۔ معاملے درج ہونے کے بعد یتی نرسنگھا نندر نے صفائی دی ہے ۔









