پٹنہ : (ایجنسی)
بہار کے سارن میں واقع جے پی یونیورسٹی کے سلیبس سے جے پرکاش نارائن کے خیالات کو پولیٹکل سائنس کے پی جے سلیبس سے ہٹائے جانے کےبعد آر جے ڈی سپریمو لالو یادو مشتعل اٹھے ۔ انہوں نے کہاکہ جے پی – لوہیا کے خیالات کو سلیبس سے ہٹانا برداشت سے باہر ہے ۔ سرکار اس پر نوٹس لے۔ خاص بات یہ ہے کہ جے پی بابو کے ایک شاگرد نتیش کمار بھی ہیں۔ وہ بہار کی کمان سنبھال رہے ہیں مگر پھر بھی ایسا ہوا۔
لالو نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ انہوں نے جے پرکاش جی کے نام پر 30 سال قبل جے پی یونیورسٹی اپنی کرم بھومی چھپرا میں قائم کی تھی۔ اب اسی یونیورسٹی کے نصاب سے سنگھی بہار حکومت اور سنگھی ذہنیت کے افسران مہان سماج وادی لیڈروں جے پی – لوہیا کے خیالات ہٹا رہے ہیں ۔ یہ برداشت سے باہر ہے ۔ نتیش کمار فوراً نوٹس لے۔
قابل غور ہے کہ 2018-20کے سیشن سے سی بی سی ایس سسٹم لاگو ہونے کےبعد سلیبس میں بدلاؤ کیا گیا ہے ۔ نئے سلیبس میں طالب علموں کو جے پی کے آندولن کو تو پڑھاناہے لیکن ان کے خیالات کو نہیں۔ رام منوہر لوہیا ، دیانند سرسوتی ، راجا رام موہن رائے، بال گنگا دھر تلک جیسی عظیم ہستیوں کے خیالات بھی اب طالب علم سلیبس میں نہیں پڑ ھ سکیں گے ۔ نئے سلیبس میں پنڈت دین دیال اپادھیائے ، سبھاش چندر بوس اور جیوتیبا پھولے کانام شامل کیا گیا ہے ۔ انا ہزارے،دلت آندولن کے ساتھ جے پی آندولن کو اس میں جوڑا ضرور گیا ہے ، لیکن ان کے خیالات اس میں شامل نہیں ہوں گے۔
دوسری طرف اس معاملے پر سارن کے طلبا اور روشن خیال تنظیموں میں بہت غصہ ہے۔ ایس ایف آئی بہار کے صدر شیلندر یادو کی قیادت میں ایک وفد نے رجسٹرار سے شکایت بھی کی ہے۔ ایس ایف آئی نے کہا کہ اگر ہٹائے گئے عظیم ہستیوں کی سوانح عمری کو نصاب میں شامل نہ کیا گیا تو ایک بڑا احتجاج ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بہار حکومت بھی اس معاملے میں بیک فٹ پر آگئی ہے۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر فاروق علی نے کہا کہ نیا کورس کو ان کی تقرری سے پہلے ہی راج بھون سے منظور ی دے گئی تھی۔ وی سی نے مانا کہ جب یونیورسٹی ہی جے پی کے نام پر ہے تو ان کے خیالات کیوں نہیں رہیں گے۔ جے پی پر الگ سے پورا نصاب ہونا چاہئے۔ بیک لاگ ایگزام پورے ہونے پر اگلے کچھ مہینوں میں نئے نصاب میں اسے شامل کیا جائے گا۔









