سری نگر : (ایجنسی)
علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کو صبح کی اولین ساعتوں میں سری نگر کے حیدرپورہ جامع مسجد کے احاطے میں سپردخاک کردیاگیاہے۔ نماز جنازہ اور تدفین میں صرف محلہ کمیٹی کے لوگوں کو ہی شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔ مقامی لوگوں نےکہا کہ سید علی شاہ گیلانی کوصبح 4:37 بجے سپرد خاک کیاگیا ہے۔ذرائع کے مطابق نماز جنازہ اور تدفین اور میں سید شاہ گیلانی کے دو فرزندوں ڈاکٹر نعیم گیلانی اور سید نسیم گیلانی کے علاوہ کم و بیش 50 افراد موجود تھے۔جامع مسجد اور گیلانی کی رہائش گاہ کے قریب سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔گیلانی کی میت کو لحد میں اتارتے وقت اور اس کے بعد نعرے بلند کئے گئے۔گزشتہ رات تقریباً 10:30 بجے سید علی شاہ گیلانی طویل علالت کے سبب مالک حقیقی سے جا ملے۔

وہیں دوسری جانب علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کے انتقال کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر وادی کشمیر میں موبائل اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے ساتھ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی ) وجے کمار نے یہ اس بات کی جانکاری دی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ کشمیر میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ گیلانی کے گھر کے اطراف پولیس جوانوں کی بھاری تعداد کو تعینات کیاگیاہے اورگیلانی کے گھر کے طرف جانے والی سڑکوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔ کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔
پولیس افسر کے مطابق سید علی شاہ گیلانی کے آبائی ضلع سوپور میں سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حساس مقامات پر سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ کسی بھی قسم کی افواہوں کو روکنے کے لیے پولیس نے احتیاط کے طور پر انٹرنیٹ بھی بند کر دیا ہے۔ گیلانی کی موت کے بعد مساجد سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے ان کی حمایت میں نعرے لگائے گئے اور ان کے انتقال کے متعلق اعلانات کیے گئے ۔
واضح رہے کہ ممنوعہ جماعت اسلامی کے رکن اور حریت کانفرنس کے سابق صدر گیلانی گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے۔ وہ تین بار ایم ایل اے بھی رہے۔ 92 سالہ گیلانی نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک میں کلیدی رول ادا کیا۔ ان کے خاندان کے ایک رکن کے مطابق انہوں نے بدھ کی رات تقریباً10:30بجے آخری سانس لی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ان کے انتقال پر تعزیت کیا اور ٹویٹ کیا ،’گیلانی صاحب کے انتقال کی خبر سے دکھ ہوا۔ ہم زیادہ تر چیزوں پر متفق نہیں تھے ، لیکن میں ان کے عزم اور ان کے عقائد پر قائم رہنے کے لیے ان کا احترام کرتی ہوں۔ اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دیں ،میں ان کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتی ہوں ۔‘
29 ستمبر 1929 کو ضلع بانڈی پورہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے گیلانی نے اپنی تعلیم اورینٹل کالج لاہور سے حاصل کی۔ انہوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت سے قبل چند سال بطور استاد کام کیا۔ انہوں نے 1972 ، 1977 اور 1987 میں سوپور سے انتخابات جیتے تھے۔ تاہم ، 1990 میں وادی کشمیر میں عسکریت پسندی کے ظہور کے بعد ، وہ انتخابات کی مخالفت کرنے والوں میں بھی صف اول میں تھا۔










