لکھنؤ (ایجنسی)
کورونا وائرس کی تیسری لہر کے خدشات کے درمیان معمول زندگی واپس ٹریک پر آرہی ہے ۔اسکول – کالج سخت پابندیوں کے ساتھ کھل رہے ہیں تو وہیں سرکاریں اپنے سطح سے تیسری لہر سے نمٹنے کی تیاری بھی کررہی ہیں۔ اس درمیان کیرل،مہاراشٹر اور ملک کے کچھ دیگر ریاستوں میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے معاملے کے پیش نظر یوپی سرکار بھی ایکٹیو موڈ میں آگئی ہے ۔
یوپی حکومت نے ریاست بھر میں ڈور ٹو ڈور مہم چلانے کا اعلان کیا ہے تاکہ بخار متاثرین کی حالت جان سکیں اور ان کی علامات کو جانچ کی جا سکے۔ یوپی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ضروری ادویہ کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس کے لیے ریاستی حکومت 7 ستمبر سے ریاست بھر میں نگرانی مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔
اس مہم کے تحت ہیلتھ ورکرز گھر گھر پہنچ کر بخار سے متاثر مریضوں کی علامات جانچ کریں گے۔ ہیلتھ ورکرز بخار کی علامات کی بنیاد پر کورونا کا ٹیسٹ بھی کریں گے۔ کئی ریاستوں میں بڑھتے ہوئے معاملے کے پیش نظرریاستی حکومت نے نگرانی مہم کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کورونا کے خلاف جارحانہ حکمت عملی کے تحت ، حکومت ابتدائی مرحلے میں انفیکشن کا پتہ لگانے اور اسے کنٹرول کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ موسم میں تبدیلی کی وجہ سے بخار کے ساتھ کئی دیگر بیماریوں کے دستک دینے کا بھی امکان ہے جس کے پیش نظر نگرانی مہم کو بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اس مہم کے تحت حکومت ان لوگوں کی فہرست بھی تیار کرے گی جن کی عمر 45 سال مکمل ہوچکی ہے ، جنہوں نے ابھی تک ویکسین کی ایک خوراک بھی نہیں لی ہے۔ اس فہرست کی تیاری کے بعد حکومت ایسے لوگوں کو ویکسین لگانے کی ترغیب دے گی۔ حکومت صحت کارکنوں کو نگرانی مہم کے لیے تربیت دے گی۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس کے لیے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے۔
سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے محکمہ صحت سے کہا ہے کہ وہ فیروز آباد میں 24 گھنٹے مریضوں کی حالت پر نظر رکھیں۔ انہوں نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ مقامی ضرورت کے مطابق ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکل اسٹاف کے انتظامات کو فوری طور پر یقینی بنائیں۔ مریضوں کی سہولت کے پیش نظر سرکاری اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں بستروں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریات کی فوری فراہمی کے لیے افسران کو ہدایات بھی دی گئی ہیں۔











