نئی دہلی(ایجنسی)
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہندوستانی سفیر دیپک متل کی طالبان رہنما شیر محمد عباس ستانکزئی سے حال ہی میں ہوئی ملاقات کو لےکر سوال اٹھ رہے ہیں ۔ اس درمیان جمعرات کو وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے واضح کیا کہ طالبان سے آگے بات چیت ہوگی یا نہیں ، اس کا ہاں یا نہ میں جواب نہیں دیا جاسکتا ۔ ہمارا مقصد اتنا ہے کہ افغانستان کی زمین کااستعمال کسی بھی طرح کی دہشت گردی سرگرمیوں کے لیے نہیں ہونا چاہئے۔
بتادیں کہ جمعرات کو اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما اسدالدین اویسی نے دوحہ میں بھارتیہ سفیر کی طالبان کے رہنما سے بات چیت کو لے کر مرکز سے پوچھا ہے کہ طالبانکو لےکر وہ اپنا رویہ واضح کرے۔ سرکار بتائے کہ وہ طالبان کو دہشت گرد تنظیم بناتی ہے یا نہیں؟
دوحہ میں مذاکرات کے حوالے سے ان سوالات پر وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ انہیں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ مزید مذاکرات ہوں گے یا نہیں اس کا جواب ہاں یا نہیں میں نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارا واحد مقصد یہ ہے کہ افغانستان کا دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ ارندم باگچی نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اس بات کا بھی علم نہیں کہ افغانستان میں کس طرح کی حکومت بن سکتی ہے۔
ارندم باگچی صحافیوں کے سوالات کا جواب دے رہے تھے ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دوحہ میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے افسران اور طالبان افسران کے درمیان کوئی میٹنگ ہوئی ہے تو انہوں نے کہا کہ ہماری طالبان کے ساتھ میٹنگ کے بارے میں مجھے کسی بھی طرح کی کوئی جانکاری نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ افغانستان کی زمین کا استعمال کسی بھی طرح دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے نہ ہو ۔
وزارت خارجہ نے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پھنسے ہوئے زیادہ تر ہندوستانی شہریوں کی واپسی ہوگئی ہے ۔ ترجمان ارندم باگچی نے کہا کہ زیادہ تر ہندوستانی جو واپس آنے چاہتے تھے ، انہیں واپس لے آیا گیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ابھی بھی کچھ لوگ افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں ، لیکن یہ تعداد کتنی ہے اس کی کوئی واضح جانکاری نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ابھی کابل ہوائی اڈہ بند ہے ۔ جیسے ہی ایئرپورٹ شروع ہوتا ہے وہاں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو نکالنے کا کام پھر سے شروع ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کتنے لوگ واپس آئے ، اس کی یقینی تعداد نہیں ہے ، لیکن زیادہ تر لوگوں کو لایا جاچکا ہے ۔











