اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

’آپ‘ کی ترنگا یاترا اکثریتی قوم پرستی کا ایکسٹینشن ہے

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
’آپ‘ کی ترنگا یاترا اکثریتی قوم پرستی کا ایکسٹینشن ہے
62
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

| اپوروانند

ترنگا، سنا ہے ’رام للا مندر‘پرمتھا ٹیکنے کے لیے رکےگا اور ہنومان گڑھی کا پھیرا بھی لگائےگا۔ یہ عام آدمی پارٹی مارکہ ترنگا یاترا کی تفصیلات ہیں۔ ہاتھوں میں ترنگا اور ہونٹوں پر جئے شری رام۔ اتر پردیش میں انتخاب کی دھمک ہے اور عام آدمی پارٹی نے 14اگست سے ہی صوبے میں الگ الگ جگہوں پر ترنگا یاترا کرنا شروع کر دیا ہے۔ لکھنؤ، آگرہ، نوئیڈا کے بعد ایودھیا کی باری ہے۔

ایودھیا کا تصور رام کے بنا نہیں کیا جا سکتا،عزت مآب صدر جمہوریہ نے یہ بنیادی جانکاری یا وارننگ کہہ لیں، حال ہی میں ملک کو دی ہے۔انہیں لغوی معنوں میں بات کرنی چاہیے تھی۔کہنا چاہیے تھا کہ ایودھیا کی بات اس رام کے بنا نہیں کر سکتے جس کے سرپرست اور دوست آر ایس ایس اور اس سےمتعلق تنظیمیں ہیں۔ جیسےتلسی داس ویدیہی کے بنا رام کاتصور نہیں کر سکتے تھے ویسے ہی اب آر ایس ایس کی سرپرستی کے بغیر رام کا تصورنہیں کیا جا سکتا۔

چونکہ ایودھیا کا تصور سنگھ کی سرپرستی والے رام کے بغیر نہیں کیا جا سکتا، وہاں ہر مقدس کام کے پہلے ان کاحامی بھرنا ضروری ہوگا۔ اس لیے ترنگے کی حاضری رام للا کے دربار میں ہونا ضروری ہے۔عام آدمی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کے ترنگے کے رنگ پکے ہیں۔ خالص گھی کی طرح ہی وہ خالص قوم پرستی کا کاروبار کر رہی ہے۔ ہندوستان کے، اور ابھی تو اتر پردیش کے رائے دہندگان کوقوم پرستی کا اصل ذائقہ اگر چاہیے تو وہ اس کی دکان پر آئیں۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، عام آدمی پارٹی کی قوم پرستی کی دال میں ہندوازم کی چھونک اور سشاسن کے بگھار کا وعدہ ہے۔

کچھ لوگ اسے ایک مؤثر حکمت عملی سمجھتے ہیں۔ ابھی جب ‘رام مارگی’قوم پرستی کا بول بالا ہے، آپ راستے سے الگ ہونے کا خطرہ نہیں اٹھا سکتے۔بالخصوص تب جب ’بچہ بچہ رام کا‘ہو گیا ہو اور وہی بچہ ووٹر بھی ہو تو عام آدمی پارٹی کرے کیا؟ وہ اپنےلیےقوم پرستی کی سند ایودھیا کے سنگھ کی سرپرستی والےرام سے کروانے کے بعد ہی یہ اہلیت حاصل کر پائےگی کہ ووٹروں کو اپنے سشاسن کی باقی اہلیت کی فہرست دکھا سکے۔ ’جئے شری رام‘کا نعرہ لگاکر ہی آپ اس ’رام بچہ‘یعنی ووٹر کو بتا سکتے ہیں کہ آپ اس کے دوست ہیں۔

ایودھیا کے سنگھ کی سرپرستی والے رام مندر کو لےکر عام آدمی پارٹی نے پہلی بار اپنی محبت کا مظاہرہ کیا ہو، ایسا نہیں ہے۔یہ قبول کرنے کے بعد کہ صدیوں سے اس زمین پر مسجد تھی، کہ وہ زندہ مسجد تھی، کہ اس کے کوئی ثبوت نہیں کہ وہ کسی رام مندر کو توڑکر بنائی گئی تھی، کہ اس میں رام للا اور دوسرےدیوی، دیوتاؤں کی مورتیاں چوری چوری، مجرمانہ طور پر رکھی گئی تھیں، کہ اس مسجد کو توڑنا جرم تھا، یہ سب ماننے کے بعد بھی جب سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین کو بابری مسجد انہدام کے منصوبہ بنانے سے لےکر اسے انجام دینے والوں کے ہاتھ دے دیا تو عدالت کی اس الٹ بانسی پر جو جھوم اٹھے تھے ان میں عام آدمی پارٹی بھی تھی۔قانون کو جاننے والوں نے سپریم کورٹ کی اس ریاضت پر سرپکڑ لیا لیکن ’رام بچوں‘ کے ووٹ کے لالچ میں عام آدمی پارٹی نے ہی کیوں تقریباًتمام سیاسی پارٹیوں نے عدالت کا شکریہ ادا کیا۔ پھر تو اس سنگھ کی سرپرستی والے رام مندر کے تئیں اپنی انسیت کے مظاہرہ کے لیے پارٹیوں میں ہوڑ لگ گئی۔

عام آدمی پارٹی کی دہلی سرکار نے تیرتھ یاترامنصوبے میں اسے شامل کیا اور اس کے لیے‘تیرتھ یاتریوں’ کومالی مدد دینے کااعلان کیا۔عام آدمی پارٹی کے اس ‘انحراف’یا ‘زوال’پر اس کی اچھی حکمرانی(سشاسن)کے بعض خیرخواہوں نےمایوسی کا اظہار کیا ہے۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ ہندوؤں کو سنگھ اور بی جے پی کے ہاتھ نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ویسے ہی قوم پرستی کو بھی ان کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ نہ حب الوطنی کو۔ اس لیے عام آدمی پارٹی ایک‘اسمارٹ’سیاسی چال چل رہی ہے۔ اسے صرف رام مارگی بھی کہنا غلط ہوگا۔عام آدمی پارٹی نے اس کے پہلے اتراکھنڈ کے لیے اپنےوزیر اعلیٰ کے امیدوار کا اعلان کیا۔سابق کرنل اجے کوٹھیال کو ‘دیش بھکت فوجی’ کے روپ میں پیش کیا گیا۔ لیکن فوجی ہونے بھر سےحب الوطنی مکمل نہیں ہوتی۔ سو، عام آدمی پارٹی نے عوام کو مطلع کیا کہ کوٹھیال صاحب نے 2013 کے سیلاب میں تباہ ہوئے کیدارناتھ کے مندر کی دوبارہ تعمیر میں کتنا بڑا رول نبھایا تھا۔

اتر پردیش میں رام اور اتراکھنڈ میں شیو۔ گجرات میں؟عام آدمی پارٹی نے اپنے قومی سیاسی عزائم کا اظہارگجرات کے اپنے پروگراموں میں کیا۔ عموماً ایک مہذب اور سلجھے ہوئےشخص کی امیج والے دہلی کے ڈپٹی سی ایم نے گجرات میں کہہ ہی ڈالا کہ ‘آخر بھارت میں جئے شری رام کا نعرہ نہیں لگےگا تو کہاں لگےگا؟’ان کے اس چیلنجنگ سوال کے سیاق و سباق کویاد رکھنا ضروری ہے۔ دہلی میں ایک نوجوان رنکو شرما کا قتل ہو گیا تھا۔ بی جے پی نے اپنی سیاست کےآزمودہ نسخوں کے مطابق ہی الزام لگایا کہ اس کاقتل’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کی وجہ سے ہوا۔ عام آدمی پارٹی کیوں پیچھے رہتی؟اس نے بی جےپی کو اسی کے میدان میں شکست دینےکے مقصد سے الزام لگایا کہ دہلی میں اب ‘جئے شری رام ‘کا نعرہ لگانا خطرناک ہے جبکہ پولیس بی جے پی مقتدرہ یونین سرکار کے ماتحت ہے۔

عام آدمی پارٹی کے حامیوں کےمطابق یہ سیاسی ہوشیاری تھی کہ بی جے پی کو لاجواب کیا جا سکے۔بی جے پی سے عام آدمی پارٹی کا مقابلہ چل رہا ہے کہ کون بڑا ہندوپرست ہے۔ پچھلی دیوالی کو دہلی کےوزیر اعلیٰ نے اپنا دربار سجایا۔ ان کے اور ان کےدوستوں کے سامنے ایک پھوہڑ دیپ نرتیہ(رقص) پیش کیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے پوری دہلی کو دیوالی کے موقع پر پوجا کرنے کو کہا،یہ بھول کر کہ سارے دہلی والے پوجا نہیں کرتے۔ اس کے پہلے انتخاب میں اپنی جیت کے لیے انہوں نے ہنومان کا شکریہ بھی اداکیا۔طنزومزاح کو اگر ہم کنارے کر دیں تو یہ سوال سنجیدگی سے کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہندوستان میں،بالخصوص ‘ہندی بولنے والے’ بھارت میں سیاسی پارٹیوں نے یہ مان لیا ہے کہ ان کے بیچ مقابلہ اب ہندو ووٹوں کے لیے ہی ہے؟ اور کیا ساتھ ہی یہ بھی مان لیا ہے کہ یہ ہندو مسلمان مخالف نفرت میں مبتلااکثریتی قوم پرستی کے پیروکار ہو چکے ہیں؟اور اس لیے ان کے اس فریسٹریشن کو سہلانے کے بعد ہی ان سے کوئی دوسری بات کی جا سکتی ہے؟ کیا اسی لیے وہ ایودھیا کے سنگھ کے زیر انتظام رام مندرمیں متھا ٹیکیں گے، کہ وہ جئے شری رام کا نعرہ لگائیں گے، کہ وہ ترنگا لہراکر ہی ہر دنیاوی کام کی شروعات کریں گے؟

کیا وہ واقعی مانتے ہیں کہ وہ ’ہندوؤں‘ کی مذہبی ، ثقافتی اورقوم پرست خواہشات کا اظہار ہیں؟ اگر ہندوؤں کے بارے میں تمام جماعتوں کی یہی رائے ہے تو یہ ہم سب کے لیے تشویش کا باعث ہے۔جن کاسیاسی حافظہ درست ہے انہیں یاد ہوگا کہ مسلمانوں پر حملے اور ان کو پیچھے دھکیلنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی نے ترنگا کا استعمال شروع کیا تھا۔

1994 میں کرناٹک کے ہبلی کےعیدگاہ میدان میں جبراً ترنگا پھہرانے کی مہم ہو، یا سشما سوراج اور اوما بھارتی کی سربراہی میں اکھل بھارتیہ ترنگا یاترائیں ہوں، یا لال چوک پر ترنگا لہرانے کا بی جے پی کا پروگرام ہو، سب میں ترنگے کے پھہرانے میں ایک اکثریتی قوم پرستی کی جارحیت کو چھپانے کی پرتشدد چالاکی تھی۔

ترنگا لےکر آپ مسلمانوں کے محلے میں گھس کر ہڑبونگ کر سکتے ہیں، ان کی مسجد پر ترنگا لےکر چڑھ سکتے ہیں،یہ سب کچھ 2014 کے بعد نظر آنے لگا۔ ترنگا، جئے شری رام اور وندے ماترم اکثریتی قوم پرستی کی زبان کے محاورے بن گئے۔’رام‘ کے کندھے پرسوار اس قوم پرستی کے ماتھے پر مسلمانوں کی مخالف کا ٹیکہ لگا ہوا ہے۔ جو بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اس رام سواری والےقوم پرستی کا علمبردار ہے لیکن اس کے ماتھے پرمسلمان کی مخالفت کا یہ تلک نہیں ہے، وہ خود سے اور دوسروں سے دھوکہ کرتا ہے۔

عام آدمی پارٹی نے شاہین باغ کی تحریک کی حمایت نہیں کی تھی۔ بلکہ اس کا تمسخر بنایا یہ کہہ کر کہ یہ تحریک بی جے پی کی سازش تھی۔ یہ بھی کہا کہ اگر پولیس اس کے ہاتھ ہوتی تو وہ تین دن میں شاہین باغ صاف کر دیتی۔ کیایہ شاہین باغ اور سی اےاے مخالف تحریک پر تشددکا اکساوا نہ تھا؟

مسلمانوں کی جانب سے بےحسی بالآخر ان کے خلاف لسانی ، ثقافتی اور سیاسی تشدد میں بدل جاتی ہے۔پچھلے سال جب سی اے اے مخالف مظاہرین پر حملوں کے ساتھ شمال-مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد شروع ہوا تو عام آدمی پارٹی نے خاموش اختیار کرلی۔

اس نے اپنے کونسلر طاہرحسین کی قربانی دے دی جب ان پر تشدد کا الزام لگا جبکہ نجی بات چیت میں عام آدمی پارٹی کے رہنما اس کو غلط بتلاتے ہیں۔ اس کے پہلے اس نے کنہیا، عمر خالد، انربان وغیرہ پرسیڈیشن کا مقدمہ چلانے کی منظوری دی۔شمال-مشرقی دہلی کےتشددمیں عام آدمی پارٹی نے ہاتھ باندھ لیے۔مسلمانوں پرتشدد کو اس نے خاموشی سے دیکھا۔ ان کے ساتھ کھڑا ہونا اس نے ضروری نہیں سمجھا جبکہ اس کی انتخابی جیت میں مسلمانوں کا فیصلہ کن رول تھا۔ لیکن اس کے پہلے بھی کورونا انفیکشن کے دوران تبلیغی جماعت پر کورونا پھیلانے کا الزام عام آدمی پارٹی کی سرکار اور اس کے رہنماؤں نے لگایا اور مسلمان مخالف تشددکو ہوا دیا۔

اسی طرح ابھی حال میں دہلی میں جگہ جگہ ہوئے پرتشدد مظاہروں پر بھی اس نے خاموشی کو ترجیح دی، جن میں مسلمانوں کے قتل کے اکساوے والے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ یہ بہت صاف ہے کہ ایک بار آر ایس ایس مارکہ قوم پرستی کی زبان کو اپنا لینے کے بعد مسلمان کے خلاف ہوئے بنا آپ رہ نہیں سکتے۔عام آدمی پارٹی کے دہلی میں 115 فٹ اونچے ترنگوں کو 500مقامات پر لہرانے کا فیصلہ بھی اس اکثریتی قوم پرستی مقابلے کا ہی ایک نمونہ ہے۔ہندوستان کا سب سے بڑابحران آج یہ ہے کہ اس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی ، ثقافتی اور شہری حقوق خطرے میں ہیں۔ آج کے ہندوستان میں جو خود کو جمہوریت پسند کہتا ہے، اگر وہ اس کی بات نہ کرے اور اس سیاست کے خلاف اگر نہ کھڑا ہو تو اس کے آدمی ہونے پر ہی شک ہے، بھلے اس کے نام میں عام آدمی شامل ہو۔

(بشکریہ : دی وائر)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN