سنبھل : (ایجنسی)
سماج وادی پارٹی کے بزرگ لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ شفیق الرحمٰن برق نے دوحہ میں سرکار کے طالبان سے مذاکرات پر سوال اٹھایا ۔ 90 سالہ برق نے کہاکہ میں نے طالبان کے بارے میں ایک چھوٹا سا بیان دیا تھا اور مجھے مجرم، دیش دروہی کہہ دیا گیا ۔ مقدمہ قائم کردیا۔ اب سرکار خود طالبان سے بات کررہی ہے اب کیا ہوگا۔
واضح رہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھاکہ ’’ طالبان افغان لوگوں کی آزادی کے لیے لڑرہے ہیں ۔ بھارت نے بھی آزادی کی لڑائی لڑی تھی۔ بعد میں ایک بی جے پی لیڈر کی شکایت پر پولیس نے برق پر ملک سے بغاوت کا مقدمہ قائم کردیا تھا ۔ بہرحال ڈاکٹر شفیق الرحمٰن برق کا یہ بیان حالیہ طالبان کے وفد اور قطر میں ہندوستانی سفیر کے درمیان ملاقات کے پس منظر میں آیا۔ برق پانچ مرتبہ ممبر پارلیمنٹ اور چار مرتبہ ممبر اسمبلی رہے ہیں۔











