کابل:(ایجنسی)
طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ عبدالغنی برادر نئی افغان حکومت کی قیادت کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان تحریک کے بانی کے بیٹے ملا محمد یعقوب اور طالبان کے ترجمان شیر محمد عباس ستانکزئی حکومت میں اعلیٰ عہدے سنبھالیں گے۔ اس سے قبل طالبان ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ برادر کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ یعقوب وزیر دفاع بنیں گے۔
واضح رہے کہ طالبان کی شوریٰ کاونسل ملک پر اقتدار کرے گی۔ تنظیم کے ذرائع کے مطابق آج حکومت سازی سے متعلق فیصلہ لے لیا گیا ہے۔ شوریٰ کاؤنسل میں طالبان کے اعلیٰ لیڈران، دیگر علاقائی گروپوں کے لوگ شامل کئے جائیں گے۔ حکومت میں کوئی بھی خاتون رکن شامل نہیں ہوگی۔
اس کاؤنسل کے رکن ہی حکومت کی نمائندگی کریں گے۔ ملا عبدالغنی برادر سیاسی دفتر کے ہیڈ ہوسکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی حکومتم یں 80 فیصد اراکین طالبان کی دوحہ ٹیم سے ہوں گے۔
سال 2010 سے ہی طالبان کے سینئر لیڈر دوحہ میں رہ رہے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ ایک دفتر بنے، جس کے ذریعہ طالبان، افغانستان حکومت، امریکہ اور دیگر ممالک کے درمیان مستقل حل تلاش کیا جائے۔ طالبان کادفتر شروع ہونے کے بعد امن مذاکرات 2013 میں بند ہوگئی تھی کیونکہ افغانستان حکومت نے مخالفت کی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ طالبان کے دفتر کو ایسا دکھایا جا رہا ہے جیسے یہ کوئی برخاست حکومت ہے۔










