مظفر نگر : (ایجنسی)
مشن یوپی کی شروعات کرنے کے لیے سنیکت کسان مورچہ پانچ ستمبر کو مظفر نگر میں ہونے والی مہا پنچایت کو تاریخی بنانا چاہتا ہے ۔ اس کے لیے مہاپنچایت میں ملک بھر کے 300 سے زیادہ سرگرم تنظیمیں شامل ہوں گی، جن میں تقریباً 60 کسان تنظیم ہوں گی اور دیگر ملازمین ،مزدور،طلبا،اساتذہ،ریٹائرڈ افسران ،سماجی ،خواتین وغیرہ تنظیمیں شامل ہوں گی ۔ کسانوں کے 40 تنظیمیں لیڈ رول میں ہو ں گی جبکہ 20 تنظیمیں مکمل تعاون دیں گی۔ مہا پنچایت میں آنے کے لیے ابھی تک 22 ریاستوں کے نمائندوں سے رضامندی مل چکی ہے ۔
واضح رہے کہ زرعی قوانین کے سلسلہ میں حکومت پر دباؤ بنانے کی غرض سے سنیکت کسان مورچہ کی اپیل پر 5 ستمبر کو مظفرنگر میں کسان مہا پنچایت طلب کی گئی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس پنچایت میں لاکھوں کسان شریک ہوں گے اور مودی حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں گے۔ اس مہاپنچایت میں ملک کی ہر ریاست سے نمائندگی کی جائے گی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کسان مہاپنچایت میں شرکت کے لئے یوپی، پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے علاوہ کرناٹک اور جنوب میں تمل ناڈو اور کیرالہ جیسی ریاستوں سے بھی کسانوں کے دستے مظفرنگر میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
وہیں دوسری طرف، غازی پور بارڈر پر جمعہ کے روز تمل ناڈو اور کیرالہ کے علاوہ دیگر ریاستوں سے بھی کسانوں کے دستے پہنچے۔ اس موقع پر راکیش ٹکیت نے کہا کہ 5 ستمبر کی پنچایت کو کسان اور مزدودر اپنے وقار سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
یہ سوال کئے جانے پر کہ مظفرنگر کی مہاپنچایت میں کتنے افراد شرکت کریں گے، راکیش ٹکیت نے کہا کہ تعداد کی بات چھوڑو، مظفرنگر کی مہاپنچایت تاریخی ہوگی۔ خیال رہے کہ ملک بھر میں کسانوں کے حق کی آواز بلند کر رہے بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت تحریک شروع ہونے کے بعد سے اپنے آبائی ضلع مظفرنگر کی سرحد میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ انہوں نے ’بل واپسی نہیں تو گھر واپسی نہیں‘ کا عزم کیا ہوا ہے، لہٰذا وہ تحریک شروع ہونے کے بعد سے آج تک مظفرنگر ضلع کی سرحد میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔
راکیش ٹکیت کا کہنا تھا کہ وہ اتوار کے روز مظفرنگر میں طلب کی گئی مہاپنچایت میں شرکت ضرور کریں گے لیکن اپنے گھر نہیں جائیں گے۔ اس مہاپنچایت کی خاص بات یہ ہے کہ اپنے بھائی اور بی کے یو کے صدر نریش ٹکیت کے ساتھ ہی کسان تحریک کے دوران راکیش ٹکیت پہلی بار اسٹیج کا شیئر کریں گے۔











