امروہہ :(سالار غازی )
جمعیۃ علما ءہند کےصوبائی اجلاس میں مولانا عبدالرب قاسمی کوصوبائی جمعیۃ کا صدر منتخب کیا گیا۔ ہفتہ کےروز مدرسہ جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ میں جمعیۃ علماء ریاستی ایگزیکٹیوکا اجلاس منعقد کیا گیا ،جس کی صدارت مولانا عبدالرب قاسمی نے کی۔ جبکہ مہمان خصوصی جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولاناسید محمود مدنی تھے۔ اس کے علاوہ قومی جنرل سیکرٹری مولانا حکیم الدین قاسمی بھی موجود تھے۔
اس دوران ریاستی جمعیۃکا انتخاب بھی عمل میں آیا ،جس کے تحت موجودہ کارگزارصدر مولانا عبدالرب قاسمی کو منتخب کیا گیا، جن کا انتخاب ممتاز اسلامی اسکالر اور پرنسپل مدرسہ جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ اور صدر دینی تعلیمی بورڈ مفتی سید محمد عفان منصورپوری کی تجویز پر متفقہ طور پر منتخب کیا گیا۔ ریاستی صدرکے ساتھ چار نائب صدور بھی متفقہ طور پر منتخب ہوئے۔ موجودہ ضلع صدر امروہہ مفتی عبدالرحمٰن قاسمی کے علاوہ مولانا بن یامین، پروفیسر نعمان ،مولانا امین الحق اسامہ کو متفقہ طور پر ریاستی نائب صدور منتخب کیا گیا۔ اس سے پہلے ریاستی اجلاس کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت ، پرچم کشائی اور نعت پاک کے ساتھ روایتی انداز میں کیا گیا۔ دین تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند مفتی سید عفان منصورپوری نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جس کے بعد کانفرنس کی کارروائی پیش کی گئی۔
تشویش قومی جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ جمعیۃ علماء قومی ترقی کے ہمیشہ کوشاں رہی ہے ملک میں بڑھتے ماب لنچنگ کے معاملے پر فکر مندی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر علاقائی سطح پر ایسا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو اسے جمعیۃ کے دفتر کو مطلع کیا جانا چاہیے کہ مساجد اور مدارس کا تحفظ ضروری ہے۔
مولانا خالد بیگ نے کہاکہ اکبر کے دین الٰہی کے بعد موجودہ دور میں سب سے بڑا فتنہ این آر سی مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچائے گا۔ دین پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گا دین اسلام کی کسی سازش سے ختم نہیں ہو سکتا ۔ حکمراں کی نئی تعلیمی پالیسی خطرناک ثابت ہوگی۔ نئی تعلیمی پالیسی کے خلاف مسلمانوں میں بیداری کی ضرورت ہے۔ جنرل سکریٹری اتر پردیش محمد مدنی نے جماعت کے کام پر روشنی ڈالی۔
مہمان خصوصی قومی صدر مولانا محمود مدنی نے کہا کہ صورتحال یقینی طور پر خطرناک ہے لیکن پہلی بار ملت کو اس صورت حال کا سامنا نہیں ہے ،اگر ہم صورت حال پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ملت نے اس سے بھی زیادہ مشکل صورتحال کا ہمت سے سامنا کیا ہے، ہم صبر اور اتحاد کےساتھ حالات کا مقابلہ کریں گےاور ہمیں اللہ کی مدد بھی ملے گی۔ مولانا محمود مدنی نے مزید کہا کہ ایک مقصد کے ساتھ تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے ، انہوں نےکہا کہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کےلیےدینی تعلیم کولازمی بنائیں۔ معاشرتی برائیوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہونے کی ضرورت ہےاس کےعلاوہ مولانا محمود مدنی نے جمعیۃ کے انتخابی عمل ، دینی تعلیمی بورڈ اور دیگر نکات پر بھی تفصیلی خیالات کا اظہار کیا۔
آخر میں مفتی سید محمد عفان منصورپوری نے بچوں اور نئی نسل کے لیے عصری علم کے ساتھ دینی تعلیم کی اہمیت پر نقطہ نظر سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا۔موجودہ حالات میں دین کی حفاظت اور فروغ کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے تحریک چلائی جائے ۔ کامیابی کے لیے ضروری ہےکہ ہماری صفحوں میں اتحاد و اتفاق ہو یہ صرف قرآن اسلام پر عمل کرنے سے ہی ممکن ہے۔جمعیۃ علماء ہند کا دینی تعلیمی نظام بچوں میں عصری علم کو دینی تعلیم کے ساتھ جوڑنے کی ایک کوشش ہے۔ تمام لوگوں کو علاقے میں مکاتیب کی ترقی کی فکر ہونی چاہیے۔آخر میں ریاستی نائب صدر مفتی عبدالرحمٰن کی دعا سےاجلاس کا اختتام ہوا۔
اس موقع پر ماسٹرذاکر حسین کاظمی، ڈاکٹر سراج الدین ہاشمی، قاری محمد یامین، حافظ محمد فرمان، عادل رشید، مولانا عبدالجبار احمد،مولانا کلیم اللہ ، مولانا عبدالمعین،مفتی جمیل احمد، مولانا عبدالرشید ،حافظ عبید اللہ، مولانا عبدالحئی، مفتی بن یامین، قاری ذاکراور مولانا سلیم کے علاوہ اتر پردیش کے تمام اضلاع کےنمائندے موجود تھے۔











