لکھنؤ(ایجنسی)
اترپردیش میں ‘پراسرار بخار سے اب تک 100 سے زیادہ لوگوں کی موت ہونے کی خبر ہے۔ اتر پردیش کے فیروز آباد میں وائرل بخار اور ڈینگی کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔ اسپتالوں میں جگہ ختم ہو گئی ہے اور لوگوں کو علاج کے لئے بیڈ میسر نہیں ہو پا رہے ہیں۔
اترپردیش کے کئی اضلاع میں گزشتہ ایک ہفتہ سے بچوں میں پراسرار بخار کا قہر بڑھ گیاہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ اضلاع میں راجدھانی لکھنؤ، آگرہ ، متھرا ، مین پوری ، ایٹہ ، کاس گنج اور فیروز آباد کے نام شامل ہیں۔ فیروز آباد کے کوشلیا نگر میں بخار سے سب سے زیادہ متاثرین ہیں ۔ متاثرین افراد میں زیادہ تر بچے ہی ہیں ۔ بتایا جارہا ہے کہ تین بالغوں کی اب تک موت ہوچکی ہے، جبکہ مرنے والے بچوں کی تعداد 50 تک پہنچ چکی ہے ۔ فیروز آباد کے دیگر محلے بہاری پورم ، کشن نگر ، آصف آباد ، جین نگر ، ستیہ نگر ٹاپا اور صدامہ نگر ہیں ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فیروز آباد کے سینئر ہیلتھ افسر ڈاکٹر نیتا کل شریشٹھ کہتی ہیں کہ اسپتالوں میں مریضوں ، خاص کر بچوں کی موت کافی تیزی سے ہورہی ہے ۔ گزشتہ ہفتے 32 بچوں سمیت 40 لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔ حالانکہ غیرسرکاری تعداد 100 سے زیادہ بتائی جارہی ہے ۔ اترپردیش کی راجدھانی میں بھی وائرل بخار کا قہر بڑھنے لگا ہے ۔ اس بیماری سے لکھنؤ میں روزانہ تقریباً 20سے زیادہ بچے الگ الگ اسپتالوں میں علاج کیلئے داخل ہورہے ہیں۔ اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ فیض اللہ گنج ہے ۔ جمعہ کو یہاں 20 بچے وائرل بخار کی زد میں آئے ہیں ۔ بلرام پور اسپتال میں روزانہ 50 سے زیادہ معاملات آرہے ہیں ۔ بلرام پور ، سول ، لوہیا ، رانی لکشمی بائی ، بھاو راو دیورس سمیت دیگر اسپتالوں کو ای پی ڈی میں بخار کے مریضوں کے آنے کا سلسلہ جاری ہے ۔
فیروز آباد اور متھرا میں بخار کے بعد ہوئی بچوں کی موت کے معاملہ کی جانچ کیلئے مرکزی حکومت کی ٹیم فیروز آباد کے دورہ پر آئی ہوئی ہے ۔ این سی ڈی سی اور این وی بی سی ڈی پی کے پانچ ماہرین کی ٹیم فیروز آباد میں مختلف طرح کے نمونے رہی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹے سے نمونے جمع کئے جارہے ہیں ۔ ان نمونوں کی گہرائی سے جانچ کے بعد ہی کہا جاسکے گا کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی اموات کیوں ہوئی ہیں ۔
دوسری جانب فیروز آباد کے کونسلر منوج شنکھوار نے بتایا کہ علاقہ میں صاف صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بخار تیزی سے پھیل رہا ہے، جوکہ بچوں پر سب سے زیادہ اثر کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کچھ ہی دنوں کے اندر کم از کم 15 مزید بچوں کی جان چلی گئی۔ بخار کی وجہ سے اس وقت مغربی اتر پردیش کے کئی اضلاع میں لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔فیروز آباد میں مریض اتنی تیزی سے بڑھ رہے ہیں کہ 100 بیڈ کے اسپتال والے میڈیکل کالج میں 325 سے زیادہ لوگ بھرتی ہیں۔ زیادہ تر پرائیویٹ اسپتال بھی بھر گئے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے بھی ٹیم بھیجی گئی ہے۔ اس میڈیکل ٹیم نے جمعہ کو مقامی افسران کے ساتھ میٹنگ کی۔











