نئی دہلی: (ایجنسی)
ایل این جے پی اسپتال میںداخل 20 سالہ حاملہ خاتون زینب کو اپنے قریبی کا انتظار ہے۔21 اگست کو زینب کاشوہر بیماری کی حالت میں اسے یہاں بھرتی کراکر رفوچکر ہوگیا تھا۔ بھرتی ہونے کے بعد کسی نے بھی اس کی حالت دریافت نہیں کی۔ اب اس کی طبیعت میں کچھ بہتری آئی تو ڈاکٹر زینب کی چھٹی کرنے کی بات کررہےہیں۔ زینب بھی شوہر، ماں سمیت باقی رشتہ داروں سےمنت والتجا کرچکی ہے ۔
لیکن کوئی اسے لے جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ رو -رو کر زینب کا برا حال ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ٹھیک سے چل بھی نہیں پا رہی ہے، ایسے میں وہ کہاںجائے گی۔ متاثرنے اپنے شوہر و سسرال والوں پر سنگین الزامات لگائےہیں۔ اس کے علاوہ اس نے انتظامیہ سے مدد کی اپیل بھی کی ہے ۔
اصل طور پر سرائے ترین ، سنبھل ،یوپی کی رہنے والی زینب اپنے شوہر محمد آصف کے ساتھ نیو سلیم پور میں رہتی تھی۔ زینب کے مطابق بچپن میں ہی اس کے والد کی موت ہوگئی۔ ماں نے دہلی میں دوسری شادی کرلی۔ زینب نے اپنے ماموکے ساتھ سنبھل میں ہی رہنا شروع کردیا ۔ سال 2018 میں زینب دہلی اپنی ماں سے ملنے آئی تو پڑوس میں رہنے والے آصف سے اس کی شادی کرا دی گئی۔
زینب نے الزام لگایا کہ شروع میں سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا ، لیکن آہستہ آہستہ اس کے سسرال والے اور شوہر نے اسے پریشان کرنا شروع کردیا۔ اسے بری طرح مارا پیٹاجانے لگا۔ یہاں تک اسے ماں کے گھر بھیج دیا گیا۔ دوسری شادی کرنے کی بات کرکے شوہر نے طلاق کا نوٹس بھیج دیا ۔ ادھر زینب کا سوتیلا باپ بھی اسے پسند نہیں کرتا تھا، اس نے زینب کو گھر میں نہ رکھنے کے لیے کہا ۔
بے گھر ہونے کے خوف سے متاثرہ نے پولیس اور وومنکمیشن سے شکایت کی۔ اس کے بعد شوہر آصف نے زینب کو چند ماہ قبل کھجوری خاص کے سی بلاک میں کرائے کا کمرہ لے کردیا، لیکن نہ تو ملزم نے کمرے کا کرایہ ادا کیا اور نہ ہی کھانے پینے کا انتظام کیا۔ اس دوران زینب بیمار ہو ئی تو مکان مالک نے اسے کمرے سے نکال دیا ۔
بار بار فون کرنے پر آصف نے سات ماہ کی حاملہ بیوی کو اسپتال میں بھرتی تو کرا دیا ، لیکن اس کی حالت دریافت نہیں کی۔ اب ڈاکٹر اس کی چھٹی کررہے ہیں، لیکن زینب کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں ہے۔ متاثرہ نے پولیس اور وومن کمیشن سے مدد کی التجا کررہی ہے ۔











