نئی دہلی : (ایجنسی)
دوحہ میں طالبان کے ساتھ بھارت سرکار کی باچ چیت کے اعلان کے چار دنوں بعد سکریٹری خارجہ ہرش وردھن شرنگلا نے جمعہ کو وشنگٹن میں کہاکہ طالبان کا موقف ابھی تک ’ بھروسہ پیدا کرنے والا‘ اور ’مناسب‘ رہاہے ۔ ’دی ہندو اخبار کی رپورٹ کے مطابق سکریٹری خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کابل کی نئی حکومت کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہے۔
سکریٹری خارجہ ہرش وردھن شرنگلا کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت بنانے کے لیے طالبان کی کوششیں جاری ہیں۔ ایسی رپورٹیں ہیں کہ طالبان کے الگ الگ گروپوں کے درمیان اختلافات ہیں اور اس وجہ سے کابل میں حکومت سازی میں تاخیر ہو رہی ہے ۔
سکریٹری خارجہ نے نامہ نگاروں کو بتایا ، ’میرے خیال میں طالبان نے اپنی طرف سے اعتماد سازی کے اشارے دیے ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارا رابطہ محدود ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم کوئی ٹھوس بات چیت کر رہے ہیں۔ مذاکرات بھی ہوئے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ طالبان جس طرح سے چیزوں کو ہینڈل کررہا ہے وہ معقول ہے ۔‘
سکریٹری خارجہ کے بیان سے یہ اشارےبھی ملے ہیں کہ طالبان کےساتھ ایک سے زیادہ مرتبہ رابطے ہوچکے ہیں ۔ حکومت ہند کے بیان کے مطابق دوحہ میں طالبان کے دفتر کے سربراہ محمد شیر عباس ستانکزئی اور قطر میں ہندوستان کے سفیر دیپک متل نے منگل کو بھارتی سفارتخانے میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات قطر کی درخواست کے بعد ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ طالبان افغانستان میں دلچسپی رکھنے والے ممالک سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں اور بھارت کے ساتھ مذاکرات کا اس کا اقدام اسی مہم کا حصہ ہے۔
حکام نے ’دی ہندو‘ اخبار کو بتایا کہ بھارت افغانستان میں حکومت سازی کے حوالے سے جاری سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ حقانی نیٹ ورک کابل میں حکومت سازی میں تاخیر کی وجہ سے اپنے لیے بڑا کردار تلاش کر رہا ہے۔ حقانی نیٹ ورک نے بارہا بھارتی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔
دی ہندو سے آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے سینئر فیلو کبیر تنیجہ نے کہا ،’اگر حقانی کو افغانستان کی نئی حکومت میں کوئی بڑی ذمہ داری ملتی ہے تو یہ بھارت کے لیے ایک دھچکا ہوگا۔ اگر حقانی ، جو پاکستان کے زیر کنٹرول ہے اور بھارت سے دشمنی رکھتا ہے ، کو حکومت میں کوئی اہم کردار مل جاتا ہے ، تو بھارت کے لیے افغانستان میں مضبوط موجودگی مشکل ہو جائے گی۔











