بارہ بنکی : (ایجنسی)
متنازع بیانات سے بحث میں رہنے والے ایودھیا کے سوامی پرم ہنس دا س پھر سے بحث میں ہیں۔ پرم ہنس داس نے اس بار یوپی کی راجدھانی لکھنؤ سے متصل بارہ بنکی کی سرزمین سے مسلمانوں کو لے کر متنازع بیان دیا اور اسدالدین اویسی پر بھی جم کرنشانہ سادھا۔ سوامی پرم ہنس داس نے ہندو راشٹر کی بھی بات کی اور طالبان کی حمایت کرنے والوں پر بھی جم کر برسے۔
پرم ہنس داس نے آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی صدر اسدالدین اویسی کی ایودھیا میں ہونے والی ریلی کے پوسٹر پر ایودھیا نہ لکھ کر فیض آباد لکھے جانے پر ناراضگی کااظہار کیا۔ انہوں نے اویسی کو دوسرا جناح بتایا اور کہاکہ وہ ہمیشہ اشتعال انگیز بیان دیتے ہیں۔ سرکار نے فیض آباد کا نام بدل کر ایودھیا کر دیا ہے اور یہ قابل قبول بھی ہے ، لیکن اویسی نے ایودھیا نہیں لکھا اور پوسٹر پر فیض آباد لکھا ہے جس کی وجہ سے سنتوں اور ایودھیا کے شہریوں میں ناراضگی ہے ۔
پرم ہنس داس نے کہا کہ اگر اویسی اپنے پوسٹروں میں فیض آباد کے بجائے ایودھیا نہیں لکھتے ہیں تو ہم ایودھیا میں ریلی نہیں ہونے دیں گے ۔ ہم نے اس تعلق سے انتظامیہ کو اطلاع دے دی ہے ۔ پرم ہنس داس نے طالبان کی حمایت میں بیان کے لیے شفیق الرحمن برق اور منور رانا پر بھی حملہ بولا اور تمام مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہاکہ ان لوگوںنے دہشت گرد طالبانیوں کی حمایت کی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم سماج کو الگ ملک دے دیا گیا ہو اس کے باوجود یہ یہاں کیوں رہ رہے ہیں۔
پرم ہنس داس اتنے پر ہی نہیں رکے، انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ ملک میں رہ کر دہشت گردوں کی حمایت کریں گے اور دہشت گردی کی جانب لے جائیں گے ، اس لئے ہم لوگ لگے ہیں کہ مسلمانوں کی شہریت ختم ہو اور اگر یہ ہندوستان میں رہیں بھی تو غلام بن کر رہیںنہیں تو پاکستان جائیں جو ان کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے ہندو راشٹر کی مانگ کرتے ہوئے اعتماد کا اظہار کیا کہ پی ایم مودی ہندوستان کو ہندو راشٹر قرار دیں گے۔ پرم ہنس داس نے ساتھ یہ بھی خبردار کیاکہ اگر 2 اکتوبر تک ہندو راشٹر کااعلان نہیں کیا جاتا ہے ،اگر سرکار مثبت یقین دہانی نہیں کراتی ہے تو جل سمادھی لے لوں گا۔











