اردو
हिन्दी
جولائی 15, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہندوستان میں مسلمانوں پر سر عام تشدد معمول بن گیا،اب برا بھی نہیں سمجھا جاتا

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ہندوستان میں مسلمانوں پر سر عام تشدد معمول بن گیا،اب برا بھی نہیں سمجھا جاتا
153
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: گیتا پانڈے

مسلمانوں پر ہندو بلوائیوں کی طرف سے بلا اشتعال حملے انڈیا میں ’معمول‘ بن گئے ہیں اور حکومت کی طرف سے ان کی کوئی مذمت نہیں کی جاتی۔ گزشتہ ماہ ایک اندوہناک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک خوفزدہ مسلمان بچی اپنے باپ سے چمٹی ہوئی تھی جن کو ہندو انتہا پسند گھیر کر ان پر تشدد کر رہے تھے۔

اس انتہائی تکلیف دہ منظر میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک 45 سالہ رکشہ ڈرائیور کو انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں گلیوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور ان کی چھوٹی سی بچی انتہا پسند ہندوؤں سے اپنے باپ کو بچانے کے لیے داد فریاد کر رہی تھی۔

ہندو انتہا پسند رکشہ ڈرائیور کو ہندوستان زندہ باد، جے شری رام اور جے رام کے نعرے لگانے پر مجبور کر رہے تھے۔ جے رام جو ہندوؤں میں خیر سگالی کے الفاظ سمجھے جاتے تھے انھیں ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

رکشہ ڈرائیور کے یہ نعرے لگانے کے باوجود انتہا پسند ہندوؤں کا ہجوم انھیں تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔ اس رکشہ ڈرائیور اور اس کی معصوم بچی کو آخر کار پولیس نے بچایا۔ تین افراد کو اس واقع میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور پھر اگلے ہی روز ان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

اس کے چند روز بعد ہی مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ایک چوڑیاں فروخت کرنے والے مسلمان کی ویڈیو سامنے آ گئی جس کو ہندوؤں کا ایک ہجوم مکے، گھونسے اور لاتیں مار رہا تھا۔

حملہ آور تسلیم علی نامی اس شخص کو دہمکیاں دے رہے تھے کہ وہ ہندوؤں کی آبادیوں سے دور رہے۔ پولیس میں درج کرائی گئی اپنی درخواست میں تسلیم علی نے کہا کہ ہندوؤں کے علاقے میں چوڑیاں فروخت کرنے پر ان کو پانچ چھ افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا، مذہبی منافرت سے بھر پور گالیاں دیں، ان کا فون، پیسے اور ذاتی شناختی دستاویز چھین لیں۔ لیکن حیران کن طور پر تسلیم علی کو اگلے دن گرفتار کر لیا گیا جب ان پر حملہ آوروں میں شامل ایک شخص کی تیرہ سالہ بچی نے تسلیم علی پر ان سے زیادتی کرنے کا الزام لگایا۔

تسلیم علی کے خاندان والوں اور ہمسایوں نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانچ بچوں کا باپ اس طرح کی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

ایک عینی شاہد نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ تسلیم علی کو مسلمان ہونے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر ایک بچی سے زیادتی کرنے کا الزام بعد میں اپنی جان بچانے کے لیے لگایا گیا۔ مسلمانوں کو سر بازار تشدد کا نشانہ بنانے کے ان دو واقعات کے علاوہ بھی اگست میں بہت سے دوسرے ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس حوالے سے اگست کا مہینہ انڈیا میں مسلمان اقلیت کے لیے جن کی تعداد 20 کروڑ سے زیادہ ہے، بہت بھاری رہا ہے۔

اسی نوعیت کے حملے گزشتہ مہینوں میں بھی پیش آتے رہے ہیں جن میں بہت سے خبروں میں آئے۔ مارچ کے مہینے میں ایک چودہ سالہ مسلمان لڑکا جو پانی پینے کے لیے ایک ہندؤ مندر میں گیا تھا اس کو بے دردی سے مارا پیٹا گیا۔ جون میں دارالحکومت دہلی میں ایک مسلمان پھل فروش کو ہندوؤں کے علاقے میں پھل بیچنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

تین سال سے مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کے دستاویزی ثبوت جمع کرنے والے آزاد صحافی علی شان جعفری کا کہنا ہے ’تشدد کی انتہا کر دی گئی ہے، یہ ہر جگہ کیا جاتا ہے اور بہت عام ہو گیا اور سب سے بڑھ کر اس کو اب برا بھی نہیں سمجھا جاتا۔‘ انھوں نے کہا کہ انھیں ہر روز تین سے چار ایسی ویڈیو موصول ہوتی ہیں لیکن وہ صرف ایک یا دو ہی کی تصدیق کر پاتے ہیں اور پھر وہ اس کو سوشل میڈیا پر جاری کر دیتے ہیں۔

انڈین معاشرے میں مذہبی تقسیم کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن جب سے انتہا پسند ہندو جماعت سے تعلق رکھنے والے نریندر مودی حکومت میں آئے ہیں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد مزید بہت بڑھ گیا ہے۔ دہلی یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر تنویر اعجاز کا کہنا ہے ’مذہبی تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن یہ اقتدار میں آنے والوں کی حکمت عملی اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ساتھ بڑھتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ مذہبی تقسیم بڑھی ہے اور یہ ابھی مذہبی اور نسل پرستانہ قومیت کے جذبے سے اور زیادہ شدید ہو گئی ہے۔

نریندر مودی کے پہلے دورے اقتدار میں مسلمانوں پر گاؤ رکشکوں (گائے کی حفاظت کرنے والے) کی طرف سے گائے کا گوشت کھانے کی افواہوں پر یا گائے سمگل کرنے کے الزامات پر بہت سے حملے ہوئے تھے۔ نریندر مودی نے ان حملوں پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی ہے۔ بی جے پی کے رہنما پرکاش جوادیکر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت اس طرح لوگوں کو قتل کرنے کو برا سمجھتی ہے لیکن قانون کا نفاذ ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔

اندور میں چوڑیاں بیچنے والے ایک لڑکے کو مارا پیٹاج گیا۔ اس واقعے کی وائرل ہونے والی وڈیو کی ایک جھلک۔ انھوں نے کہا کہ ’حکومت کی نطر میں لنچنگ بری چیز ہے، چاہے جہاں بھی ہو۔ لیکن امن و امان ریاستوں کی ذمہ داری ہے اور انھیں ہی اس سے نمٹنا ہے۔‘ اس کے بعد انھوں نے میڈیا پر جانبداری کا الزام لگایا کہ وہ صرف مسلمانوں پر ہونے والے حملوں پر دھیان دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق لنچ ہونے والے دو سو افراد میں سے 160 ہندو تھے۔ ’تمام مذاہب کے لوگ نشانہ بنتے ہیں۔‘ تاہم انھوں نے یہ نھیں بتایا کہ یہ ڈیٹا کہاں سے لیا گیا ہے۔ انڈیا میں ایسے اعداد و شمار نہیں جمع کیے جاتے۔

سنہ 2019 میں فیکٹ چیک کرنے والی ویب سائیٹ نے انڈیا میں نفرت پر مبنی جرائم کے بارے میں بتایا تھا کہ گزشتہ دس برسوں میں ایسے جرائم کا نشانہ بننے والے 90 فیصد افراد مسلمان تھے۔ اور ایک وزیر کی طرف سے ایک مسلمان کو مارنے کے مجرم ٹھہرائے جانے والے آٹھ ہندوؤں کو ہار پہنائے جانے جیسے واقعات کے بعد الزامات لگتے ہیں کہ حملہ آور بی جے پی کی سپورٹ کی وجہ سے سزا سے بچ جاتے ہیں۔

کانگریس پارٹی کی ایک رکن حسیبہ امین نے کہا کہ ’ایسے واقعات آج ہمارے ملک میں صرف اور صرف ان غنڈوں کو ملنے والے تحفظ کی وجہ سے اتنے عام ہو گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سنہ 2019 میں نریندر مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلمان مخالف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

کئی بار تشدد صرف جسمانی نھیں ہوتا بلکہ یہ اقلیتی برادری کو انتہائی برا پیش کرنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مثلاً گزشتہ برس جب انڈیا میں کووڈ پھیل رہا تھا تو مودی حکومت کے وزرا اور پارٹی کے ارکان سمیت ہندو رہنماؤں نے دلی میں ایک مذہبی اجتماع میں شریک ہونے والے مسلمانوں پر ’کورونا جہاد‘ کا الزام لگایا تھا۔ اس کے بعد ’روٹی جہاد‘ کے بارے میں سننے کو ملا جس میں اس طرح کے الزام لگائے گئے کہ مسلمان باورچی روٹیوں پر تھوک رہے ہیں تاکہ ہندوؤں میں کورونا پھیل جائے۔

حالیہ مہینوں میں کئی ریاستوں کمیں ’لو جہاد‘ کے خلاف قانون سازی کی گئی ہے ۔ بہت سے ہندو گروہ مسلمان مردوں پر ہندوؤں کی عورتوں کو ورغلا کر شادی کرنے کا الزام لگاتے ہیں تاکہ انھیں مسلمان کر لیا جائے۔

ان قوانیں کو ہندو عورتوں سے شادیاں کرنے والے مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور انھیں قید کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مسلمان خواتین کو بھی نہیں بخشا جاتا اور گزشتہ جولائی میں درجنوں سرکردہ مسلمان خواتین کو ایک ویب سائٹ پر ’قابل فروخت‘ قرار دے دیا گیا تھا۔ اس کے بعد مئی میں بہت سی خواتین کو جن میں حسیبہ امین بھی شامل تھیں، آن لائن پر فرضی طور پر نیلام کر دیا گیا۔ گزشتہ ماہ نئی دہلی میں بے جے پی کی طرف سے منعقد کردہ ایک جلوس میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے نعرے لگائے گئے۔

پروفیسر اعجاز کا کہنا ہے کہ پیشہ ور مسلمانوں مثلاً پھل فروش، درزی، الیکٹریشنز، اور پلمبروں پر حملے کرنے کا مقصد مذہبی قوم پرستی کے ذریعے ان کا معاشی استحصال کرنا ہے۔

(بشکریہ: بی بی سی )

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN