مظفرنگر: (ایجنسی)
مغربی اتر پردیش کے مظفر نگر میں اتوار کے روز زرعی قوانین کے خلاف ایک کسان مہاپنچایت کا انعقاد کیا گیا۔ اس پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے مرکز اور اتر پردیش کی یوگی حکومت کو نشانہ بنایا۔ ٹکیت نے کہا، اب تک گنے کا ایک روپیہ بھی نہیں بڑھایا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یوگی حکومت کمزور ہے، ایک روپیہ بھی بڑھانے سے قاصر ہے۔کسانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتر پردیش میں اگلے سال ہونے والے ریاستی انتخابات میں بی جے پی کے خلاف مہم چلائیں گے۔ انہوں نے مظفر نگر میں ہونے والی آج کی مہا پنچایت کو ’مشن اتر پردیش-اتراکھنڈ‘ بھی قرار دیا ،انہوں نے 27 ستمبر کو بھارت بند بھی کااعلان کیا۔

راکیش ٹکیت نے کہا کہ ان کا مقصد صرف یوپی کو بچانا نہیں ہے بلکہ وہ پورے ملک کو بچانا چاہتے ہیں۔ کسانوں کی کھیتی بکنے کی کگار پر ہے۔ ہماری زمینیں گنّے کی پٹی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم گنے کے دام 450 روپے فی کوئنٹل دیں گے۔ راکیش ٹکیت نے کہا، جب پہلے کی حکومتوں نے داموں میں اضافہ کیا تھا تو یوگی حکومت نے ایک روپیہ بھی اضافہ کیوں نہیں کیا! ٹکیت نے کہا کہ یہ لوگ ریلوے بیچ رہے ہیں۔ اگر ریلوے فروخت ہو جائے گی تو ساڑھے چار لاکھ لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ ٹکیت نے کہا کہ کسان 9 ماہ سے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، لیکن چند مراحل کے بعد حکومت نے مذاکرات کو روک دیا۔ اس تحریک میں سیکڑوں کسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لیکن حکومت نے ان کے لیے ایک منٹ کی خاموشی بھی نہیں رکھی۔
ٹکیت نے حکومت سے پوچھا کہ جس طرح حکومت چیزیں بیچ رہی ہے اس کی اجازت کس نے دی! بجلی فروخت کی جا رہی ہے۔ سڑک بیچ دو۔ ایل آئی سی بھی فروخت ہوگا۔ ان کے خریدار اڈانی اور امبانی ہیں۔ ایف سی آئی کے گودام بھی کمپنیوں کو دے دیئے گئے۔ بندرگاہیں بھی فروخت ہو گئیں۔ اس کا اثر ماہی گیروں اور نمک کسانوں پر پڑے گا۔ اور اب یہ پانی بھی فروخت کریں گے۔
ٹکیت نے کہاکہ یہ لڑائی تین کالے قوانین سے شروع ہوئی۔ ہم نے رام پور کی بات کی، جہاں کسانوں کی پیداوار فروخت نہیں ہوتی۔ فسادیوں کو اترپردیش کی سرزمین پر رہنے نہیں دیں گے۔ ہم کسی قیمت پر احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

مظفرنگر میں منعقد کسان مہاپنچایت سے خطاب کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہا کہ گزشتہ 9 مہینے سے تحریک چل رہی ہے لیکن حکومت نے بات چیت کرنا بند کر دیا۔دریں اثنا، راکیش ٹکیت نے مہاپنچایت سے قومی یکجہتی کا پیغام دیا اور بیک وقت اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو کے نعرے لگائے۔ انہوں نے کہا یہ لوگ بانٹنے کا کام کر رہے ہیں، ہمیں انہیں روکنا ہوگا۔ پہلے اس ملک میں اللہ اکبر اور ہرہر مہادیو کے نعرے ایک ساتھ لگائے جاتے تھے، آگے بھی لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی کی سرزمین فساد کرانے والوں کے سپرد نہیں کریں گے۔
مظفرنگر شہر کی سڑکوں پر مہاپنچایت میں آنے والے لوگوں کے لئے پورا انتظام کیا گیا تھا ۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گویا تمام راستے مظفرنگر کے جی آئی سی میدان کی طرف جا رہے ہیں۔ ہرطرف سے کہیں ٹریکٹر، کہیں بسوں اور کہیں موٹر سائیکلوں پر بھارتیہ کسان یونین، سنیکت کسان مورچہ کے جھنڈے لے کر جگہ جگہ سے لوگ یہاں آ رہے تھے۔ مہاپنچایت میں موجود جم ٖ غفیر کو دیکھ کر احساس ہورہا تھا کہ سماج کا ہر طبقہ یہاں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لئے پہنچ گیا ہے ۔











