گورکھپور : (ایجنسی)
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ حال ہی میں گورکھپور کے سرودیا کسان پوسٹ گریجویٹ کالج پہنچے تھے۔ یہاں انہیں نوجوانوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے ، جس میں تمام نوجوان سی ایم کے سامنے نوکریوں کے مسائل اٹھاتے ہوئے نظر آرہے ہیں، حالانکہ یوگی اس پر کوئی جواب نہیں دیتے ہیں اور فوراً چلے جاتے ہیں۔ سابق آئی اے ایس افسر سوریہ پرتاپ سنگھ نے ٹوئٹر پر اس ویڈیو کو شیئر کیا۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سی ایم یوگی افسران کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس دوران آس پاس کھڑے تمام نوجوان چلانے لگتے ہیں۔ نوجوان یوگی کو دیکھتے ہی پوچھنے لگتے ہیں ،’’مہاراج جی ، بھرتی ابھی نہیں آئی ہے۔ آرمی کی بھرتی کب آگی مہاراج جی؟‘‘، حالانکہ سی ایم ان نوجوانوں کی باتوں کو نظرانداز کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں ۔
ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سابق آئی اے ایس سوریہ پرتاپ سنگھ لکھتے ہیں ، ’یوگی جی کا ان کے آبائی ضلع میں یہ حال؟ بے روزگار نوجوانوں کے سوال کا سامنا کرنے میں ڈر لگتا ہے مہاراج ؟ شاید گودی میڈیا کے رٹے رٹائے سوالوں کا جواب دینے کی عادت ہوگئی ہے۔ اب کیا ان طلبا پر کیس ہوگا؟ بغاوت کا ؟ یا انہیں گینگسٹر قرار دے کر ان کا گھر گرا دیاجائے گا؟ نوجوان سمجھ چکا ہے کہ ڈر کے آگے جیت ہے۔ یوا شکتی زند ہ آباد ۔ ‘
دوسری جانب سینئر صحافی سنجے شرما نے بھی اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے، ’’حالات کیسے ہیں خود دیکھ لیجئے ۔ سی ایم کے گورکھپور دورے کے دوران ہی نوجوان بھرتیوں کو لے کر ان کے سامنے چیخنے لگے ۔ بے روزگاری سنگین مسئلہ ہے ۔ دہلی میں چار لاکھ نوکری دے کر نمبر ون ہونے کے ہورڈنگ لگانے سے سچ چھپ نہیں جاتا ۔ ٹی وی چینل اور پیپر کے اشتہارا ت کی جگہ زمین پر کام کریں۔
وائرل ہورہی اس ویڈیو پر لوگوں کی بھی الگ الگ رد عمل آرہے ہیں۔ ایس کمار سنگھ نام کے ٹوئٹر یوزر لکھتے ہیں ، ’ یوپی میں50 سیٹ بھی بی جے پی کی نہیں آئے گی۔ 100 پار کرنا تو بہت مشکل ہے ۔ براہمن ووٹروں کو لبھانے کی کوشش کی جارہی ہے ،جبکہ امر دوبے کی بیوی کو جیل میں ڈالا ہوا ہے ۔‘ یوزر رام کیشور شرما لکھتے ہیں ، ’ غریبی لاچار، بے روزگار ہو گئے ہیں اور احتجاج کرنا تو سب کا حق ہے ۔ بھگوان کے گھر دیر ہے مگر اندھیر نہیں۔‘
بابر نقوی نامی ایک ٹوئٹر یوزر لکھتے ہیں ،’ڈرو بے روزگاروں کہیں پورے پردیش کے بے روزگاروں کو جیل میں ڈالنے کاحکم نہ دےدیں۔ ‘ یوزر الوک لکھتےہیں لگتا ہے 2022 کے انتخاب میں یوگی جی کو وہی لقب دیا جائے گا جو نتیش کمار کو بہار انتخاب کے وقت عوام دیا کرتے تھے ۔‘وکاس سنگھ نام کے ٹوئٹر یوزر لکھتے ہیں ، بہت ہوا استحصال ، اب میدان میں لڑے گا نوجوان ، تمام نوجوان ایک ہوں ۔‘ یوزر سید اختر طنز کستے ہوئے لکھتے ہیں ’ ملک سے بغاوت کا کیس تو بنتا ہے بے روزگاروں پر ‘











