لکھنؤ : (ایجنسی)
اترپردیش کا سیاسی پارہ ان دنوں چڑھا ہواہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی ایودھیا کی سرزمین سے یوپی کی سیاست میں آغاز کرنے پہنچے ہیں۔ انہوں نے لکھنؤ میں پریس کانفرنس کر کے لکھنؤ میں حکمراں جماعت بی جے پی کے ساتھ ساتھ اکھلیش یادو کو بھی نشانہ بنایا۔ اس موقع پر وہ اعظم خاں کے تئیں تھوڑے نرم دکھائی دئےاور ان کی سلامتی کے لیے دعا مانگی۔ادھر ان کےآنے سے پہلے سی ایم یوگی نے صاف کردیا کہ اسدالدین اویسی کے فیض آباد لکھنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ایودھیا اب ایودھیا رہے گا، قیامت کا دن کبھی نہیں آئے گا۔اویسی کے انتخابی آغاز کے ساتھ ہی اس بات کی قیاس لگائی جارہی تھی کہ دونوں لیڈروں کے درمیان جم کر زبانی جنگ ہوگی۔
اترپردیش کے انتخابات کا بگل پھونکنے اترے اویسی نے صاف کردیا کہ ہمارا مقصد پردیش میں بی جے پی کوشکست دینا ہے ۔ ہم انتخاب لڑیں گے بھی اور جیتیں گے بھی۔ انہوں نے کہاکہ یہ جیت اترپردیش کے مسلمانوں کی ہوگی۔ اویسی نے کہاکہ مظفر نگر فسادات میں جن لیڈروں کا نام آیا تھا، ان کے کیس واپس لے لئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پرگیہ اور سینگر جیسے لیڈر مقبول ہوجاتے ہیں ، لیکن مختار اور عتیق احمد کا نام آتا ہے تو وہ باہوبلی کہلاتے ہیں۔
اویسی نے اپنی کانفرنس میں اکھلیش یادو پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہاکہ اگر اکھلیش اپنی سرکار کے وقت یوگی پر کیس چلا دیتے تو یوگی کچھ نہیں کرپاتے ، لیکن سچائی یہ ہے کہ کوئی نہیں چاہتا مسلمان آگے بڑھے۔ انہوں نے کہاکہ پارٹیاں چاہتی ہیں کہ ملک کا 19 فیصد مسلمان ان کی غلامی کریں،لیکن حصہ داری نہ مانگیں۔
اویسی سے جب اکھلیش کے قریبی رہے اعظم خاں کو لے کر سوال کئے گئے تو انہوں نے کہاکہ ان کے بارے میں کیا کہوں، اس وقت وہ جن حالات سے گھرے ہوئے ہیں، بس اوپر والے سے دعا مانگوں گا کہ وہ جلد ہی ٹھیک ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے۔
ان کے دورے سے پہلے لگے پوسٹروں میں ایودھیا کی جگہ فیض آباد لکھے جانے پر سوال پوچھا گیا تو اویسی نے کہاکہ ایودھیا ضلع کا نام بدلا گیا ہے۔ ہم نے آج جس پوسٹر کا استعمال کیا ہے اس میں ایودھیا لکھا ہے لیکن اسمبلی سیٹ کا نام فیض آباد ہے ، اس لئے فیض آباد لکھاگیا ہے ۔
موہن بھاگوت کے ہندو مسلم آباو اجدادوالے بیان پر اویسی نے کہاکہ وہ چاہیں تو ہمارا ڈی این اے ٹیسٹ کرالیں لیکن اسی کےساتھ سب کو ٹیسٹ کرانا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ یہی تو ہماری لڑائی ہے، لوگ آئین کو نہیںمانیں گے لیکن ٹیسٹ کرائیں گے ۔
وہیں اویسی کے آنے سے پہلے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔ ایک چینل کو دئے انٹرویو میںجب ان سے اویسی کے ایودھیا دورے پر سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہاکہ ایودھیا میں ان کو آنے دیجئے، ان کے اپنے خیالات ہیں، اپنا ایجنڈہ ہے، لیکن وہ یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیںکہ اب قیامت کا دن کبھی نہیں آئے گا۔ ایودھیا ، ایودھیا ہی رہے گا ، اس کو کوئی نہیں بدل پائے گا۔








