اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

نربھیا،آصفہ،گڑیا،رابعہ نام الگ الگ ہیں کہانی ایک ہے

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
نربھیا،آصفہ،گڑیا،رابعہ نام الگ الگ ہیں کہانی ایک ہے
80
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کلیم الحفیظ۔دہلی

تاریخ کے مختصر دور کو چھوڑ کر عورت ہمیشہ مظلوم رہی ہے۔مذہب کے نام پر بھی عورت کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ۔دین اسلام نے جو حقوق عورت کو عطا کیے تھے اور رحمۃ العٰلمین نے جس مقام بلند پر عورت کو فائز کیا تھا ،مسلمانوں نے بھی ان تعلیمات پر کما حقہٗ عمل نہ کرکے خود کی بھی رسوا ئی کا سامان کیااور دین اسلام کی رسوائی کا سبب بھی بنے ۔ آسمانی دین کے نام پر بقیہ مذاہب جو آج موجود ہیں ان میں تو عورت کو انسانی درجے سے بھی گراد یا گیا ہے۔عورت پر ظلم و ستم مذاہب کی تحریف شدہ اور غیر انسانی تعلیمات کا نتیجہ بھی ہے۔لیکن موجودہ جمہوری معاشرے میں جہاں گرام پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک اور ایک چپراسی سے لے کر اعلیٰ مناصب تک عورت کی رسائی ہوچکی ہو۔جس نظام کا دعویٰ ہو کہ اس نے عورت کو مساوات کاحق دے کر مرد وں کے برابر لاکر کھڑا کردیا ہے۔اس نظام میں اگر عورت کے ساتھ ظلم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک اختیار کیا جاتا ہے تو تعجب ہوتا ہے۔زمانہ جس قدر ترقی کررہا ہے اسی رفتار سے جرائم میں اضافہ نظر آرہا ہے۔ہمارا ملک بھارت اس سلسلے میں کچھ زیادہ ہی ترقی یافتہ ہے۔’’بیٹی بچائو اور بیٹی پڑھائو‘‘ اور ’’میرا ایمان ناری سمان‘‘ کے نعروں کے بعد خواتین کی عصمت دری اور ان پر ظلم و ستم میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔خواتین کے ساتھ اغوا ،زنا بالجبر اور پھر دردناک قتل،یہ سارے مراحل آپ کو ہر کیس میں نظر آجائیں گے ۔آپ یہ بھی پائیں گے کہ متاثرہ خاتون کا تعلق دلت،بالمیکی یا مسلمان طبقے سے ہوگا۔ظالم اعلیٰ ذات کا ہوگا اور حکمراں جماعت سے اس کے رشتے ہوں گے۔

خواتین پر ظلم و ستم کے کئی اسباب ہیں ۔جن پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔سب سے پہلا سبب میرے نزدیک جیسا کہ میں نے اپنے دوسرے جملے میں ہی اشارہ کیا کہ مذہب کے نام پر عورتوں سے متعلق جو نظریات سماج میں پائے جاتے ہیں وہ قابل توجہ ہیں ۔جس دھرم میں عورت کا شمار جانوروں کے بعد آتا ہو،جسے خریدا اور بیچا جا سکتا ہو،یا جسے وراثت میں تقسیم کیا جاسکتا ہو،جہاں اسے گناہوں کی دیوی اور پاپ کی جننی کہا جاتا ہو،جہاں اس کی شکل دیکھ لینے سے نیکیاں اکارت ہوجاتی ہوں،جہاں عورت پر جنت سے مکلوانے کا الزام ہو۔ اس مذہب اور کلچرکے ماننے والے مردوں سے عورت کے احترام کی امید رکھنا فضول ہے۔اس پر مزید یہ کہ اگر اس عورت کا تعلق مسلم، دلت اور شودر طبقے سے ہو تب تو اعلیٰ ذات کے مردوں کے لیے وہ ہر طرح حلال ہے۔عصمت دری کی شکار خواتین کی 90فیصد تعداد اسی طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔بھارت جیسے دھرم پردھان دیش میں کسی دھرم کی یہ تعلیمات کہیں نہ کہیں اپنا اثر ضرور دکھاتی ہیں۔مسلم بچیوں کے ساتھ یہ درندگی بیشتر مقامات پر اکثریتی فرقے کی طرف سے ہی ہوتی ہے ،بہت کم معاملات ایسے ہیں جہاں درندوں کا تعلق مسلمانوں سے ہے ۔لیکن مسلمانوں کے تعلق سے یہ بات لائق اطمینان ہے کہ عورت کے ساتھ زیادتی کی حمایت ان کا دین نہیں کرتا۔

دوسرا بڑا سبب ملک میں قانون نافذ کرنے والے اور فیصلہ کرنے والے اداروں کا کرپشن ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ بھارتی پولس کرپشن میں دنیا میں نمبر ایک ہے۔یہاں بڑے سے بڑا مجرم پیسے دے کر چھوٹ جاتا ہے۔یہاں ذرا سے لالچ میں بے گناہوں کو پابند سلاسل کردیا جاتا ہے،یہاں حکمراں جماعت کے نیتائوں کے دبائومیں پولس اپنے فرائض سے منھ موڑ لیتی ہے۔جب کسی ملک میں قانون کے محافظ ہی راہزن بن جائیں تو اس ملک میں اس طرح کے واقعات کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔آپ جس کیس کو چاہیں اٹھا کر دیکھ لیں ،اس میں پولس FIRہی لکھنے پر تیار نہیں ہوگی،لکھے گی تو مجرم کو بچنے کا راستا دے گی،متاثرین کو بھی مقدمات میں پھانس لے گی،انھیں ڈرائے اور دھمکائے گی۔کسی طرح معاملہ عدالت تک پہنچ بھی گیا تو گواہ نہیںملیں گے ۔عدالتی نظام کی پیچیدگیاں ،مقدمات کے بروقت فیصلے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں ،انصاف میں تاخیر مجرموں کے حوصلے بڑھاتی ہے۔ہر کسی کا مقدر نربھیا جیسا نہیں ہوتا کہ سارا ملک اس کے ساتھ کھڑا ہوجائے اور پھر عدالت کو انصاف پر مجبور ہونا پڑے۔بدقسمتی یہ ہے کہ نربھیا کے زمانے میں جو لوگ اس کو انصاف دلانے کے لیے سڑکوں پر احتجاج کررہے تھے وہی لوگ آج حکومت میں ہیں اور ان کے دور اقتدار میں ہرروز ایک نربھیا ہوس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔

ایک سبب ہمارا تعلیمی نصاب اور تعلیمی نظام بھی ہے ۔پورے نصاب تعلیم میں انسان دوستی،جنس مقابل کا احترام،عزت و عصمت کی حفاظت کے عنوان پر کوئی کتاب نہیں ہے ،ہے بھی تو پڑھائی نہیں جاتی۔اس کے بجائے جنسی خواہشات میں اضافہ کرنے والے اسباب فراہم ہیں،مثال کے طور پر مخلوط نظام تعلیم،یونیفارم کے نام پر عریانیت،کلچرل پرگرام کے نام ڈانس،بیشتر اسکولوں میں مرد اساتذہ کے خواتین اساتذہ کے معاشقے وغیرہ۔نہ وہ اساتذہ ہیں جو اپنے طلبہ کو اخلاقی اقدار سکھاتے تھے،نہ وہ والدین ہیں جو اپنے بچوں پر نظر رکھتے تھے ۔نظام تعلیم کی اس خرابی نے انسانیت کو حیوانیت کے مقام پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔

دھرم ،ذات اورپارٹیوں کی عصبیت نے بھی مجرموں کے حوصلے بلند کیے ہیں ۔ جب انصاف اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دھرم اور ذات دیکھ کر کارروائی کرتے ہوں ،جہاں حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کے درمیان عدل کے پیمانے بدل جاتے ہوں ،وہاں سب سے پہلے جو چیز غیر محفوظ ہوتی ہے وہ انسان کی جان ہے ،انسانوں میں چونکہ عورت کمزور ہوتی ہے اس لیے سب سے زیادہ مظلوم بھی وہی ہوتی ہے۔مجرم اگر حکمراں جماعت سے تعلق رکھتا ہے تو اس پر مقدمات قائم ہی نہیں کیے جاتے ،کسی دبائو میں آکر پولس FIRلکھنے پر مجبور بھی ہوتی ہے تو دفعات ہلکی کردی جاتی ہیں۔اس اندھیر نگری میں کبھی کبھی تو گناہ گار کے بدلے بے گناہ جیل بھیج دیے جاتے ہیں۔

جرائم میں اضافہ خاص طور پر خواتین کے ساتھ جرائم میں اضافہ کا ایک سبب میڈیا بھی ہے ۔میڈیا بھی دو حصوں میں منقسم ہے ایک وہ گروہ ہے جسے حکومت کی سرپرستی حاصل ہے،یہ گروہ بڑا بھی ہے اور مضبوط بھی،یہ وہی کچھ دکھاتا اور لکھتا ہے جو حکومت چاہتی ہے۔دوسرا گروہ جو حکومت کی سرپرستی سے محروم ہے ۔وہ بہت چھوٹا ہے ۔اس کی آواز دب جاتی ہے۔یا دبا دی جاتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ملک کے سارے ستون میڈیا،انتظامیہ،عدلیہ مجرم کی حوصلہ افزائی کرنے میں مصروف ہوںتب آپ کی بہو بیٹیاں کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں؟

سوال یہ ہے کہ ان حالات میں ہماری کیا ذمہ داری ہے۔کیا آئین میں درج کردینے سے خواتین کو تحفظ اور برابری کے حقوق حاصل ہوسکتے ہیں؟کیا سڑکوں ،بسوں ،اور آٹو رکشہ پر نعرے لکھ دینے سے عورت کی عزت و عظمت کو باقی رکھا جاسکتا ہے؟کیا مہیلا دیوس منالینے سے عورت محفوظ ہوجاتی ہے؟یا اس کے لیے ہمیں اپنے ذہن ،دل اور دماغ کی تربیت کرنا ہوگی۔جہاں عورت کے بارے میں برے اور گندے خیالات پرورش پاتے ہیں۔کیا ہمیں اپنے نصاب تعلیم میں خواتین کی حرمت و تقدس پر مبنی اسباق کو شامل نہیں کرنا چاہئے؟کیا ہمیں اپنے مخلوط نظام تعلیم اور دفاتر میں مخلوط سوسائٹی پر غور نہیں کرنا چاہیے؟خواتین کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے پاس ان کی جان سے زیادہ ان کی عزت ہے۔خواتین کو ان مرددانشوروںسے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جوان کی آزادی کی تحریک اپنے دل و نگاہ کی تسکین کے لیے چلاتے ہیں۔انھیں خواتین سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔جب ایک ایسی لڑکی جو خود دوسروں کی حفاظت کی ٹریننگ لے چکی ہو ،اس کو ایک ایسے ظالم کا شکار ہوسکتی ہے جو خود قانون کا محافظ ہو تو باقی عام لڑکیوں کی حفاظت کا سوال بے معنیٰ ہے ۔جب انسانیت کے محافظ ہی عزت لوٹنے اور جان لینے پر اتر آئیں تو راہ چلتے آوارہ لڑکوں سے کسی قسم کی اخلاقیات کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟ضروری ہے کہ اہل اقتدار ان پالیسیوں پر از سر نو غور کریں جن کی وجہ سے ملک میں فحاشی اوربے حیائی میں اضافہ ہورہا ہے۔قانون کے محافظ اور عدل و انصاف کے علم بردار بھی جائزہ لیں کہ آخر مجرموں کے حوصلے کیوں بلند ہورہے ہیں؟اہل حکومت یہ نہ سوچیں کہ ان کی بچیاں محفوظ ہیں ۔جب بھیڑیوں کے منھ کو انسانی خون لگ جاتا ہے تو وہ اپنی بھوک مٹانے کے لیے مالک پر بھی حملہ کردیتا ہے۔

(یہ مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN