الہ آباد : (ایجنسی)
الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جھوٹی ، من گھڑت اور منصوبہ بند خبروں کا خطرہ معاشرے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس عبدالمعین کی ڈویژن بنچ نے مختلف نیوز میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے رہنما اصول وضح کرنے کے لیے ریاستی حکام کو مناسب ہدایات دینے کی مانگ والی درخواست پر سماعت کرتےہوئے کہی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس سے جھوٹی، من گھڑت اور منصوبہ بند خبریں پھیلانے کے رجحان پر لگام لگایا جا سکتا ہے ۔
حالانکہ عدالت نے کہاکہ مانگ بنیاد ی طور سے پالیسی ساز کے دائرہ کار میں ہے نہ کہ عدالت کے دائرہ کار میں اور اسی وجہ سے عدالت نے درخواست خارج کردی۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ عدالت عظمیٰ پہلے سےہی رٹ پٹیشن ( سول ) نمبر 787 آف 2020 ، جمعیۃ علماء ہند اور دیگر بنام بھارت سنگھ اور دیگر میں اس طرح کے معاملے کو ضبط کرچکی ہے ۔
عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ حالانکہ ہم کسی بھی طرح سے ایسے خطرے کو روکنے کی ضرورت کو کم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں جو سماج کو اور زیادہ نقصان پہنچا رہاہے ۔ ہم اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ معاملہ خاص طور سے پالیسی ساز کے دائرے میں آتاہے ، عدالت کے دائرہ کار میں نہیں آتا ہے ۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن نے گزشتہ ہفتہ اہم طور سے دہلی حضرت نظام مرکز میں تبلیغی جماعت کے اجلاس کو فرقہ وارانہ بناکے لیے میڈیا کے خلاف کارروائی کی مانگ کرنے والی رٹ پٹیشنوں کے ایک بیچ کی سماعت کرتے ہوئے سوشل میڈیا اور نیوز اور آن لائن پلیٹ فارم میں فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کے بارے میں افسوس کااظہار کیا ۔ چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئےکہاکہ پورٹل کسی چیز کے زیر انتظام نہیں ہیں اور سوشل میڈیا کمپنیاں صرف طاقتور لوگوں کی ہی سنتی ہیں ، ادارے یا عام لوگوں کی نہیں۔











