شلپی سین
ترشول ہاتھ میں لے کر مایاوتی کے سامنے ’ روشن خیال کانفرنس‘ میں جے شری رام کے نعرے لگے۔ یہ اس پارٹی کی ہی کانفرنس ہے جس میں کبھی بی جے پی کو روکنے کے لیے ’ملے ملائم کانشی رام ، ہوا میں اڑ گئے جے شری رام‘ نعرے لگے تھے اور مایاوتی وہاں بھی موجود تھیں۔
بی یس پی سپریمو مایاوتی نے ’ روشن خیال کانفرنس ‘ کے پہلے دور کے اختتام پر اس بات کا اشارہ دیا کہ بہوجن سماج پارٹی اپنے ’ سروجن ہتائے – سروجن سکھائے ‘ کے خطوط پر آگے بڑھے گی، لیکن اگر بی ایس پی کے نعروں کو دیکھیں تو یہ صاف نظر آئے گا کہ بی ایس پی کے نعرے مایاوتی کی سیاسی ضرورتوں کے حساب سے بدلتے رہے ہیں۔
ویسے تو نعرے تمام پارٹیوں کے لیے انتخاب میں کئی بار آب حیات کا کام کرتےہیں مگر بی ایس پی سپریمو مایا وتی کے نعرے ان کی سیاسی ضرورت اور ان کی حکمت عملی کی نشاندہی کر تے رہے ہیں۔ بی ایس پی کے جس نعرے نے سب سے زیادہ سرخیاں بٹوریں وہ نعرہ تھا ’ تلک ترازو اور تلوار ،ان کو مارو جوتے چار‘ ، اعلیٰ ذاتیوں کے خلاف اس طرح کے نعرے کی بہت تنقید ہوئی تھی۔
حالانکہ شروعاتی دور کے بعد جب مایاوتی نے سوشل انجینئرنگ کا دامن تھاما تو کئی بار اس بات کو کہاکہ بی ایس پی کی طرف سے یہ نعرہ کبھی نہیں لگایا گیا۔ حال ہی میں پارٹی کے برہمن چہرے ستیش مشرا اور خود مایاوتی نے یہ بات دہرائی ہے کہ ایسا نعرہ کبھی نہیں لگایا گیا۔
1984 میں بی ایس پی کی تشکیل کے بعد پارٹی نے دلت ووٹوں پر اپنا تسلط قائم کرتے ہوئے ’ بہوجن ہتائے‘ کی بات کی۔ اس وقت یہ نعرہ بھی بہت مشہور تھا کہ ’ جو بہوجن کی بات کرے گا ، وہ دیش پر راج کرےگا‘ ، لیکن جلد ہی کڑوے سیاسی تجربات سےمایاوتی کو یہ سمجھ میں آگیا کہ صرف ایک طبقہ کے ووٹ سے اقتدارکی چابی ملنا ممکن نہیں ۔
اس میں ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی سے تال میل کا دعویٰ وہ کڑواتجربہ بھی تھاجس نے مایاوتی کو اقتدار تک پہنچایا مگر ٹھہرنے نہیں دیا، لیکن اس وقت ووٹ کے پولرائزیشن کے لیےمنچ سے ’ ملے ملائم کانشی رام ،ہوا میں اڑ گئے جے شری رام‘ جیسے نعرے بھی لگتے رہے۔
بی ایس پی کے نعرے :
‘’جو بھی بہوجن کی بات کرے گا ،وہ دیش پرراج کرے گا‘
’ ملے ملائم کانشی رام ، ہوا میں اڑ گئے جے شری رام ‘
’بہوجن ہتائے، بہوجن سکھائے‘
‘’سروجن ہتائے ،سروجن سکھائے‘
’برہمن شنکھ بجائے گا ،ہاتھی بڑھتا جائے گا‘
’ہاتھی نہیں گنیش ہے ، برہما وشنو مہیش ہے‘
اس قدم کے بعدمایاوتی نے اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کے لیے 1997 اور 2002 میں جب بی جے پی کی مدد سے حکومت بنائی تو اس نے ’جے شری رام والے نعرے‘ پر جواب دینے سے بچتی رہیں۔ پھر بی ایس پی اور مایاوتی کے لیے سال 2007 میں اہم موڑ آیا۔ تب مایاوتی یہ سمجھ چکی تھیں کہ بغیر سوشل انجینئرنگ کےاقتدار کے تخت پر قائم رہنا ممکن نہیں۔ تب نیلے رنگ سے رنگیں دیواروں پر ہاتھی بنا کر لکھے گئے نعرے ’بہوجن ہتائے ، بہوجن سکھائے‘کی جگہ ’ سروجن ہتائے ، سروجن سکھائے ‘ نعرے نے لی۔
صرف یہی نہیں، الیکشن میں بھی ’ برہمن شنکھ بجائےگا،ہاتھی بڑھتا جائے گا‘ اور ہاتھی نہیں گنیش ہے ، برہما وشنو مہیش ہے‘ جیسے نعرے خوب لگے۔ مایاوتی کو ان نعروں کے بعد کامیابی بھی ملی۔
آج یوپی کی سیاست میں حاشیہ پر پہنچی بی ایس پی کی واپسی کے لیے اسی سوشل انجینئرنگ کو دھار دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ جس برہمن ووٹ کی بات تمام پارٹی کررہی ہے ان کو بھی سادھنے کی کوشش شروع ہوچکی ہے ، اس لئے روشن خیال کانفرنس میں بی ایس پی سپریمو کی موجودگی میں نہ صرف جے شری رام کے نعرے لگ رہے ہیں بلکہ مایاوتی ’ سروجن ہتائے ،سروجن سکھائے ‘ کی بات کررہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اب اسی نئے سیاسی ضرورت کے مطابق اور نعرےتیار کئے جائیں گے جو انتخابات سے پہلے سنائی دیں گے ۔
(بشکریہ: نیوز پورٹل آج تک ہندی)










