نئی دہلی : (ایجنسی)
وہاٹس ایپ پر پرائیویسی کے حوالے سے ایک بڑا الزام لگا ہے ۔ بتا یا جا رہا ہے کہ کمپنی یہاں بھلے ہی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا دعویٰ کرے لیکن حقیقت میں یہ صرف دکھا وا ہے۔پرو پبلکیا (Pro Publica)نے اپنی کھوج رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق وہاٹس ایپ کے 200 کروڑ صارفین کے ساتھ مارک زکربرگ کی کمپنی ایک عرصے سے دھوکہ دیتی رہی ہے۔ زکربرگ یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہاٹس ایپ پر صارفین کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات ، تصاویر اور ویڈیوز کوئی اور نہیں دیکھ سکتا ، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
کمپنی نے خود اس کے لیے انتظامات کیے ہیں۔ گزشتہ کئی مہینوں سے کمپنی کے کنٹریکٹ ملازمین ان اکاؤنٹس پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ ہر میسیج ، تصاویر اور ویڈیو کو یہاں سے دیکھا جا رہاہے ۔ اس کے ماڈریٹر رازداری اور سیکورٹی کے قطع نظر دو ارب سے زیادہ یوزرس کے میسیج کو پڑھ سکتے ہیں۔
وہاٹس ایپ ایک اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن پلیٹ فارم کےاپنے وعدے کے لیے جانا جاتا ہے، جہاں میسیج بھیجنے والااور پانے والاہی اسے پڑھ سکتا ہے ، تیسرا کوئی بھی یہاں تک نہیں پہنچ سکتا ہے۔ اینڈ ٹو اینڈ کاوعدہ ہی وہاٹس ایپ کی اہم مارکیٹنگ تھی ۔ لوگ اسی وجہ سے اس پر یقین کرتے تھے، لیکن اب جو رپورٹ آرہی ہے وہ ایک الگ ہی کہانی بیاں کررہی ہے ۔
اس معاملے پر جواب دیتے ہوئے مارک زکربرگ نےجو کہاکہ وہاٹس ایپ میں ماڈریٹرنہیں ہے، جو بات چیت کی نگرانی کرتے ہیں یا پڑھتے ہیں ۔ فیس بک کے سی ای او نے کہاہے کہ رپورٹس صحیح نہیں ہے اور ایپ میں ایپلی کیشن کے ذریعہ سے ایک پرائیویٹ اور محفوظ بات چیت کی سہولت ہے ۔
حالانکہ نیوز ویب سائٹ گیز موڈو کے مطابق وہاٹس ایپ کے ماڈریٹراو رڈیٹانگرانی پر بہت سارے ثبوت ہے، کچھ ایسا جس سے کمپنی نے بار بار تردید کی ہے۔
پرو پبلکیا نے کہا ہے کہ مواد پر نظرثانی کرنے والے لوگوں کی تعیناتی سے واضح ہے کہ فیس بک نہ یوزرس کی راز داری کےساتھ دھوکہ کیا ہے ۔ فیس بک نے 2014 میں وہاٹس ایپ کو خریدا تھا ، تبھی سے کمپنی اسے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی کوششوں میں لگی ہے اور ڈیٹا نگرانی بھی اس نظر سے دیکھا جا رہاہے ۔











