نئی دہلی:(ایجنسی)
افغانستان پر طالبان کے ’قبضے‘ کے بعد پاکستان کشمیر میں بڑے پیمانے پر مداخلت کی تیاری کر رہا ہے۔ ذرائع نے یہ معلومات دی۔ پاکستان نواز علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کی موت کے ایک ہفتے بعد ان کے ساتھی مسرت عالم بھٹ کو آل انڈیا حریت کانفرنس کا چیئرمین بنایا گیا ہے ۔ مسرت عالم کو سید علی شاہ گیلانی سے بھی کہیں زیادہ بنیاد پرست سمجھا جاتا ہے ۔ وہ سال 2015 سے دہلی کے تہاڑ جیل میں ہے اور گیلانی کے اہم معاون میں سے رہے ہیں ۔
ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ وہ (مسرت) پاکستان نواز علیحدگی پسند ہیں اور حریت میں نظر آنے والے چند معتبر چہروں میں سے ایک ہیں۔ یہ واضح ہے کہ پاکستان نے اب اپنا ایجنڈا چلانا شروع کر دیا ہے۔ حکام؍انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ حریت کی ذمہ داری مسرت پر آنے کے بعد اب آنے والے دنوں میں وادی کشمیر میں مظاہرے بڑھ سکتے ہیں۔ اس پولیس افسر نے کہا ، ‘گزشتہ ایک ہفتے میں ہی حریت نے کئی مظاہروں کا اہتمام کیا ہے۔ ہم نے جمعہ کے آس پاس اس طرح کے مظاہروں کے امکان کے پیش نظر انتظامات کیے ہیں، حالانکہ جموں و کشمیر پولیس نے کہا ہے کہ اس نے گیلانی کو سپرد خاک کرنے کے بعد حالات کو قابو میں کر لیا ہے ، لیکن خدشات ہیں کہ کچھ علیحدگی پسندعناصر آنے والے دنوں میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
کشمیر کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ایک اور اہلکار نے این ڈی ٹی وی کو بتایا ، ’اگرچہ ان کے سربراہ جیل کے سلاخوں کے پیچھے ہیں ، لیکن افغانستان کا مسئلہ ان کے لیے باعث تقویت ہوگا۔‘ پولیس ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مسرت عالم سال 1996 میں علیحدگی پسند سیاست میں آنے سے پہلے ایک دہشت گرد تھا۔ وہ پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم کا کمانڈر تھا۔ گرفتاری کے بعد اس نے مسلم علیحدگی پسند تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور بلندیوں تک پہنچتے ہوئے پارٹی کا سربراہ بن گیا۔ کئی رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد انہیں حریت کا جنرل سکریٹری بنایا گیاتھا ۔











