نئی دہلی:(پریس ریلیز)
”جمہوریت، شہری آزادیاں، اقلیتوں کے حقوق، قانون کی حکمرانی، بی جے پی کے زیر اقتدار ریاست مدھیہ پردیش میں کمزور پڑ گئے ہیں“۔ یہ تاثر جماعت اسلامی ہند کے چار رکنی فیکٹ فائنڈنگ وفد کا ہے جو مدھیہ پردیش کے مختلف شہروں اجین، اندور، دیواس اور بھوپال میں مسلمانوں پر بربریت اور ہجومی تشدد کے متعدد واقعات کے بارے میں تحقیقات کے لئے گیا تھا۔
اس وفد میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر، نیشنل سکریٹری ملک معتصم خاں، معاون سکریٹری ندیم خان اور انعام الرحمن شامل تھے۔وفد نے یہ تاثر جماعت کے ماہانہ آن لائن کانفرنس میں پیش کیا۔ایک سوال کے جواب میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کہا کہ مسلم طبقے کے غریبوں کو آسان ہدف سمجھ کر منتخب کیا جارہا ہے کیونکہ ان کے لئے جسمانی اور قانونی طور پر اپنا دفاع کرنا مشکل ہوتا ہے۔
ٹیم نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یوپی اور مدھیہ پردیش کے حکمراں کے درمیان اقلیتوں پر ظلم کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا مقابلہ ہے تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کرسکیں۔ اس وقت ریاست میں صورت حال یہ ہے کہ پولیس جانبداریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرین کے خلاف ہی ایف آئی آر درج کررہی ہے اور متاثرین کو ہی ملزم قرار دے کر جیل بھیج رہی ہے جبکہ جرائم کرنے والوں کے خلاف معمولی دفعات لگائے جارہے ہیں جس کی وجہ سے وہ تھانہ سے ہی چھوٹ جاتے ہیں۔آج صورت حال یہ ہے کہ مدھیہ پردیش میں یوم آزادی منانے اور اپنے رہنما کا نام لے کر نعرہ لگانا سماج دشمن عناصر کے لئے مسلمانوں کو جسمانی طورپر نشانہ بنانے کا بہانہ بن رہا ہے۔ یہ جمہوریت اور شہری آزادیوں کے لئے افسوسناک ہے۔
ریاست میں دیکھا گیا ہے کہ متاثرین، ان کے خاندان اور یہاں تک کہ مسلم کمیونٹی اور ان کے رہنما کی حمایت میں انصاف پسند افراد اور سیاسی قائدین کم نظر آرہے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے ہی بل بوتے پر ناانصافیوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔یہ بھی انکشاف ہوا کہ گرفتارشدہ افراد کے خلاف بغاوت جیسے سنگین الزمات عائد کئے جارہے ہیں اور ایف آئی آر درج کرتے ہوئے قانون کی پاسداری نہیں کی جارہی ہے۔کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ آٹھ سال پہلے مظفر نگر میں انتہائی وحشیانہ فرقہ وارانہ تشد د دیکھا گیا تھا لیکن اب اسی جگہ پر ’کسان مہا پنچایت‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ نفرت اور مذہبی بنیادوں پر طبقات میں تفریق پیدا کرنے والی طاقتوں کے دباؤ میں نہیں آئیں گے اور یہاں ہندو اور مسلمان باہمی پیارو محبت اور یکجہتی کے ساتھ رہیں گے۔ ان کا یہ عزم دراصل نفرت پر محبت کی جیت کا پیغام ہے، ہم اس کی مکمل تائید کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ہند ملک کے تمام شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ متحد ہوجائیں اور اسے تباہی کے اس راستے سے بچائیں جدھر فرقہ پرست طاقتیں ملک کو لے جانے کی کوشش کررہی ہیں۔کانفرنس میں شعبہ خواتین کی سکریٹری محترمہ رحمت النساء نے ملک کی موجودہ صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ماحول خواتین کے حق میں بالکل نہیں ہے۔ رابعہ سیفی کو جس طرح بربریت کا شکار بنایا گیا،یہ ہماری جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہے۔ یہاں ’بیٹی بچاؤ‘ کا نعرہ دیا جاتا ہے مگر آج تک ہم ایسا ماحول بنانے میں ناکام رہے جس میں خواتین گھر کے باہر یا کام کی جگہ پرخود کو محفوظ سمجھیں۔ انہوں نے ملزمان کو جلد گرفتار کرنے اور مقتولہ کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیئے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔











