چنئی : (ایجنسی)
تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے ریاستی اسمبلی میں قرارداد پیش کیا ہے۔ اس میں انہوں نے مرکزی حکومت سے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسمبلی میں سی اے اے کے خلاف پیش کی گئی قرارداد پر بات کرتے ہوئے اسٹالن نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون پناہ گزینوںکے ساتھ ان کی مذہبی وابستگی اور قومیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے لیے بنایا گیا تھا ، چاہے ان کی حیثیت کچھ بھی ہو۔‘
وہیں اس پہلے اسٹالن نے کہا تھا کہ سری لنکا ئی تمل پناہ گزینوںکی فلاح بہبود کے لیے جلد ہی ایک کمیٹی قئم کی جائے گی جوشہریت اور سری لنکا لوٹنے والوں کے لیے انتظامات کرنے جیسے معاملوں کے علاوہ دیگر چیزوں پر طویل مدتی حل کی سمت میں کام کرے گی۔ 261.54کروڑ روپے کیمپوں میں رہنے والوں کے لیے گھروں کی تعمیر نو و بنیادی ڈھانچے میں سدھار کے لیے خرچ کئے جائیں گے ،جبکہ 12.25کروڑ روپے تعلیم اور نوکری کے مواقع یقینی کرنے کے لیے اور 43.61کروڑ روپے ان کی معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے خرچ کئے جائیں گے ۔
اسٹالن نے سرکاری شعبے کے اداروں کی نجکاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ جمعہ کے روز ، انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ وہ سرکاری شعبے کے اداروں کی نجکاری کے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور کہا کہ وہ ملک کی صنعتی کاری اور خود انحصاری کے اہداف میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسٹالن نے ایک دن پہلے اسمبلی میں کہا تھا کہ وہ اس موضوع پر وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھیں گے۔
ایک حکومتی ریلیز کے مطابق اسٹالن نے وزیر اعظم کو لکھے خط میں کہا ہے کہ ایسی اکائیوں کو لگانے کے لیے سرکاری زمین کے علاوہ لوگوں کی زمین بھی دی گئی تھی، انہوں نے لکھا ہے کہ اس لئے لوگوں کو ایسے اکائیوں پر فخر اور حق ہے ۔‘
مرکز کی قومی منیٹائزیشن پائپ لائن اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور وہاں کام کرنے والے مزدوروں پر کیا اثر پڑے گا۔ اسٹالن نے کہا کہ نام کو چھوڑ کر ملک کے موجودہ معاشی منظر نامے پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ بڑے پیمانے پر اس طرح کی نجکاری چند ‘’گروہوں‘ یا بڑی کارپوریشنوں کے ہاتھوں میں حکومتی اثاثوں کی منتقلی کا باعث بنے گی۔











