کرنال : (ایجنسی)
انتظامیہ اور کسان رہنماؤں کے درمیان چل رہے دوسرے دور کے مذاکرات کے ناکام ہونے سے کرنال میں پرامن کشیدگی کاماحول ہے ۔ سی ایم کی رہائش گاہ کے آس پاس ہزاروں کسان جمع ہیں۔ کسان لاٹھی مارنے کی بات کرنے والے آئی اے ایس کو معطل کرانے پر بضد ہیں۔ سرکار بھی چاق وچوبند ہے۔ کسانوں کے چاروں طرف سکیورٹی فورسز کی 40 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔
کسان رہنما راکیش ٹکیت نے کہا کہ مظاہرین اپنا پکا دھرنا جاری رکھیں گے۔ پنجاب اور یوپی سے بھاری تعداد میں کسان کرنال کی طرف کوچ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کسانوں کی مانگ کو توجہ نہیں دے رہی ہے۔ مذاکرات میں بیٹھے افسران کوچنڈی گڑھ سے ہدایات مل رہی ہیں۔ ٹکیت مسلسل کہہ رہے ہیں کہ بیورو کریسی آیوش سنہا کو بچانے میں لگے ہیں۔ ادھر سرکار نے کرنال میں منی سکریٹریت کے چاروں طرف سخت انتظامات کررکھاہے ۔ ٹرک ٹرالوں کے ذریعہ کسانوں کا راستہ روکا جا رہاہے تو بی ایس ایف بھی تعینات کردی گئی ہے۔
غورطلب ہے کہ پولیس کو لاٹھی چارج کرنے کاحکم دینےوالے آئی اے ایس افسر آیوش سنہا کے خلاف کارروائی کی مانگ کو لے کر کسان ضلع ہیڈ کوارٹر کے باہر کھڑے ہیں۔ مذاکرات کے ناکام رہنے کے بعد منگل شام کو منی سکریٹریٹ کے داخلی دروازوں کے باہر بیٹھ گئے۔ کئی کسانوں نے وہیں رات گزاری۔ مظاہرین 28 اگست کو یہاں پولیس کو لاٹھی چارج کرنے پر کارروائی کی مانگ کررہے ہیں۔ سنیکت کسان مورچہ کے کئی لیڈروں کےساتھ کسانوں نے منی سکریٹریٹ کے باہر رات گزاری ۔











