کابل : (ایجنسی)
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منگل کو افغان خواتین نے پاکستانی سفارت خانے کے سامنے افغانستان کے اندرونی معاملات میں مبینہ مداخلت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس دوران طالبان نے مظاہرین پر فائرنگ بھی کی۔ طالبان جنگجوؤں نے وہاں مظاہرے کی کوریج کرنے والے کئی افغان صحافیوں کو گرفتار بھی کیا۔ ان میں سے کئی صحافیوں کو بے رحمی سے مارا گیا۔
افغان صحافیوں نے مار پیٹ کے بعد جسم پر زخم کے نشانات دکھائے ہیں جو خوفناک اور پریشان کن ہیں۔ استحصال زدہ صحافیوں کی حالت زار طالبان کے بنیاد پرست اسلامی نظریے کی عالمی تشویش کا منہ بولتا ثبوت ہے ، جہاں انسانی حقوق کے تحفظ کے وعدے اور پریس کی آزادی کی ضمانتیں کھوکھلی ہیں۔
طالبان گروپ کے ذریعہ حکومت کااعلان کرنے کےبعد کم از کم دو ایسی تصاویر منظر عام پر آئی ہیں اور تصدیق شدہ ٹوئٹر ہینڈ کے ذریعہ اسے شیئر کی گئی ہیے، جس میںایک پوسٹ مارکس یام (لاس اینجلس ٹائمس کے غیرملکی نمائندہ) اور دوسری اتیلاٹروز (ایک افغان نیوز) کے ذریعہ شائع کی کی گئی ہے ۔
مسٹر یام کےذریعہ ٹویٹ کی گئی تصاویر میں دو مرد وں نے اپنے اندورنی لباس اتار دیا اور کیمرے کی جانب پیٹ کرکے کھڑے ہوگئے۔ ان کی پیٹ اور پیر لال نشان اور چوٹ کے نشان سے بھڑے ہوئےہیں۔
اتیلاٹروز کی جانب سے ٹویٹ کی گئی تصاویر میں بھی انہی دو صحافیوں ،تقی دریابی اور نعمت اللہ نقدی کو دکھایا گیا ہے ،جنہیں افغان پبلیکیشن نے اپنے ملازمین کے طور پر شناخت کی ہے ۔ اس ٹویٹ میں ان کے زخموں کو نزدیک سے دکھایا گیا ہے ۔










