اردو
हिन्दी
مئی 7, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بھاگوت سے کچھ صاف صاف باتیں

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
بھاگوت سے کچھ صاف صاف باتیں
139
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

مسلمان خود کو ہندو کیوں کہیں ؟

میرا یہ سوال آر ایس ایس کے سر سنگھ چالک موہن بھاگوت سے ہے ، جنہوں نے 6،ستمبر کے روز ممبئی کے ایک عالیشان ہوٹل میں چند مسلمانوں سے ، جنہیں مسلم سماج کا ’’کریم ‘‘ کہا گیا ہے ، ایک ملاقات کر کے ، ان سے یہ استدعا کی تھی کہ ’’ سمجھ دار مسلمانوں کو ہر حال میں انتہا پسندی کی مذمت کرنی چاہیے ۔ ‘‘ بھاگوت نے اسی موقع پر ،اپنی بار بار کی دوہرائی ہوئی، اس بات کو پھر سے دوہرایا تھا کہ اس ملک میں رہنے والا ہر شخص ،چاہے اس کی جو بھی زبان ہو یا جو بھی مذہب ہو ، ہندو ہے ۔اور ان کے سامنے بیٹھی ہوئی مسلم سماج کی ’’کریم ‘‘ کی ، جس میں داعیٔ اسلام مولانا کلیم صدیقی بھی شامل تھے ، یہ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ ہم ہندو نہیں ہم تو مسلمان ہیں ۔

ایسا قطعی نہیں ہے کہ میں ایسی کسی ملاقات کا مخالف ہوں ،یہ یاد دلاتا چلوں کہ جب جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی اور موہن بھاگوت میں ملاقات ہوئی تھی ،تب اس کالم میں اس کا خیر مقدم کیا گیا تھا ، یہ لکھا گیا تھا :’’ جمود ٹوٹا ہے ! اور ایک ایسے وقت میں جمود ٹوٹا ہے جب اس کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ بھلا ایک ایسے دور میں جب اس ملک پر ہندوتوادیوں نے ایک طرح سے تسلط پالیا ہے اور ملک بڑی تیزی کے ساتھ ’ ہندوراشٹر ‘ کے قیام کی سمت بڑھ رہا ہے کوئی کیسے یہ سوچ سکتا تھا کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کے سر سنگھ چالک موہن بھاگوت اور مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سیدّارشد مدنی میں ملاقات ہوگی اور دونوں ہی اس بات پر متفق بھی ہوں گے کہ ’ ہندومسلم اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بغیر ہندوستان بڑی طاقت نہیں بن سکتا ! ‘بات جمعہ30؍ ، اگست 2019ء کی ہے ، جب مولانا سید ارشد مدنی نے دہلی میں آر ایس ایس کے دفتر واقع کیشوگنج جاکر ، موہن بھاگوت سے ملاقات کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق ملاقات کی منصوبہ بندی عرصے سے کی جارہی تھی اور بی جے پی کے جنرل سکریٹری رام لال دونوں کے درمیان ملاقات کے لئے عرصے سے کوشاں تھے۔ اس وقت میں نے مزید لکھا تھا : ’’ آر ایس ایس کے دفتر میں ملاقات کے دوران جہاں دونوں رہنماؤں نے ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا وہیں ’ ماب لنچنگ ‘ اور ’ این آرسی ‘ اور دیگر امور پر بھی بات چیت کی ۔ اس طرح وہ امور جو متنازع تھے ان پر مذاکرات کا ایک دروازہ کھل گیا ہے اور مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچنے کی کلید ہوتے ہیں ۔ ممکن ہے کہ مولانا ارشد مدنی اور موہن بھاگوت کی اس ملاقات پر بعض حلقوں کی طرف سے انگلیاں اٹھائی جائیں، بالخصوص مسلم حلقوں کی طرف سے کہ وہ انگلیاں اٹھانے میں پیش پیش رہتے ہیں یا اگر یہ کہا جائے کہ ان کے پاس انگلیاں اٹھانے ، لوگوں کی غلطیاں پکڑنے اور لوگوں کی کوتاہیوں کو اجاگر کرنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں ہوتا تو زیادہ درست ہوگا ۔‘‘ مثلاً ایک عالم دین ہیں مولانا ساجد رشیدی ، ٹھیک ٹھاک آدمی ہیں ، ٹی وی مباحثوں میں خوب سرگرم رہتے ہیں ، مولانا ارشد مدنی اور مون بھاگوت کی ملاقات پر ان کا ردّعمل یوں ہے: ’’یہ خودسپردگی ہے جس کے مستقبل میں نتائج اچھے نہیں ہوگے ۔ ‘‘ انہیں یہ پریشانی ہے کہ اس ملاقات پر موہن بھاگوت کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے ۔ ساجد رشیدی کا کہنا ہے : ’’ آج جو کچھ ہورہا ہے مسلم نوجوانوں کے ساتھ وہ آر ایس ایس کرارہی ہے اور ہم ان سے یہ امید رکھیں کہ وہ ہماری بات مان کر امن کے لئے کام کریں گے اور مسلمان کو اس کا آئینی حق دینے کی وکالت کریں گے ، یہ خام خیالی ہے جس کی بنیاد ہی مسلم دشمنی پر ہو اس سے خیر کی توقع؟ ۔‘‘

آج جب مڑ کر پیچھے دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ میں نے شاید لکھنے میں غلطی کی تھی ۔ شاید مولانا ارشد مدنی، موہن بھاگوت کو سمجھنے میں غلط تھے ۔ اور شاید مولانا ساجد رشیدی ، جو ٹی وی ڈیبیٹ میں خوب نظر آتے تھے ، اب امامت کر رہے ہیں ،اپنی بات میں درست تھے ۔اس وقت میرا اپنا یہ ماننا تھا : ’’ آج کے دنوں میں جبکہ ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں اس طرح کی ’ بات چیت ‘ یا ’ مذاکرات ‘ کا عمل انتہائی ضروری بھی ہے ۔ اور اگر اس ملاقات کے تعلق سے مولانا ارشد مدنی کے بیان کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ ملاقات ’ خودسپردگی ‘ ہے اور نہ ہی اس ملاقات کے ’’ مستقبل میں نتائج خراب ہوں گے ‘‘ ۔ اس وقت کے، مولانا ارشد مدنی کے بیان پر ایک نظر ڈال لیں ۔ ’’ جب آر ایس ایس نے ملک کے موجودہ حالات کی وجہ سے نرمی کا مظاہر ہ کیا اور یہ پیغام ہم تک پہنچایا کہ ملک کی بقا ہندو مسلم ایکتا میں مضمر ہے تو مجھے خوشی ہوئی ، جمعیۃ علماء روز اول سے آج تک جو تحریک لے کر چلی تھی اس میں کامیابی حاصل ہوئی، کیونکہ آر ایس ایس نے اپنے پیغام میں یہ کہا کہ ہندوستان کی بقا ہندو مسلم ایکتا میں ہے ، آر ایس ایس نے کہا کہ ہندو مسلم ایکتا اسی وقت ممکن ہے جب جمعیۃ علماء ہند آگے آئے لہٰذا اس دعوت پر ہم نے غور کیا ، اپنے لوگوں میں مشورہ کیا ، اس کے بعد اپنی روایت کے مطابق ہم انہیں اپنے یہاں مدعو کرتے ، ہم خود آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے ملاقات کرنے ان کے دفتر گئے ۔‘‘

ظاہر ہے کہ اگر کوئی ہندو مسلم ایکتا کے لیے بلائے گا تو لبیک کہنا ہی پڑے گا ۔ مگر اب جا کر پتہ چلا ہے کہ یہ ساری ملاقاتیں اور یہ ’ ہندو مسلم ایکتا ‘ کا راگ مسلمانوں کو یہ قائل کرانے کے لیے تھا ، اور ہے ، کہ وہ خود کو ہندو کہلانا شروع کر دیں ، اور اس ملک کا بھلے ہی کسی اور مذہب کا فرد انتہا پسندی اور دہشت گردی کی مذمت کرے نہ کرے مسلمان ، بالخصوص ’ سمجھدار مسلمان ‘ مذمت کریں ہی ۔ اب یہ ’ سمجھدار مسلمان ‘ کون ہو سکتے ہیں ، اس سوال کا جواب سامنے ہے ، علماء کرام ، دانشورانِ عظام اور صنعت کار و مسلم سماج کے وہ افراد جو ’’ کریم ‘‘ سمجھے جاتے ہیں ۔ بھلے وہ ’’ کریم ‘‘ نہ ہوں ۔بھاگوت نے پہلے ہی ’’سمجھدار مسلمان ‘‘ ،ان دو لفظوں کو استعمال کر کے عام مسلمانوں کے لیے اپنے دروازے بند کر دیے ہیں ۔ ان سے یہ بات دریافت کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN