لکھنؤ:(ایجنسی)
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ہفتہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ سیاست میں بھی کاروبار تلاش کرتی رہتی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے دفتر کے ڈاکٹر لوہیا آڈیٹوریم میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ایس پی سربراہ نے کہا کہ بی جے پی کی سب سے بڑی طاقت جھوٹ ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ترقی کوئی حساس مسئلہ نہیں ہے ، وہ ہر معاملے میں کاروباری انداز اپناتی ہے اور سیاست میں بھی کاروبار کی تلاش میں رہتی ہے۔
ایس پی ہیڈ کوارٹر سے جاری بیان کے مطابق یادو نے کارکنوں سے کہا کہ بی جے پی آزادی کے ورثہ کی ثقافت کو تباہ کرنا چاہتی ہے ، سماجی ہم آہنگی کو توڑنے میں مصروف ہے اور اس کا بنیادی ایجنڈا غلط معلومات پھیلا کر سماج وادی پارٹی کو بدنام کرنا ہے۔
اگلے سال ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے یادو نے کہا کہ2022 کا الیکشن ملک اور جمہوریت کو بچانے کا الیکشن ہے اور تبدیلی اترپردیش سے ہی آئے گی ، اس کا فیصلہ عوام نے کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کالا دھن ، بدعنوانی اور دہشت گردی کے نام پر سیاست کرنے والی بی جے پی کی سچائی عوام جان چکے ہیں۔ مسائل کو شمار کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ملک کو فاشسٹ طاقتوں سے بچانا ہے ، خواتین کے وقار پر حملے شرمناک ہیں ، سماجی انصاف کے حوالے سے بی جے پی حکومت کا رویہ افسوس ناک ہے ، غیر منظم شعبے کے چھ کروڑ مزدور مجبور ہیں خودکشی کو مجبور ہیں، کسان کی پریشانیاں اور بے روزگاری اہم مسائل ہیں اور ان کے حل کی سرکار کو کوئی فکر نہیں ہے ۔
ایس پی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پارٹی سربراہ اکھلیش یادو سے ہفتہ کو ہستنا پور کے سنت بابا بھورے والے سکھ دیو سنگھ نے ملاقات کی اور پانی،درخت ،پہاڑکو بچانے اور ندیوں کی صفائی پر بحث ہوئی اور بی جےپی سرکار میں ان کی نظرانداز کئےجانے پر تشویش کااظہار کیا گیا ۔
اترپردیش میں اگلے ممکنہ اسمبلی انتخابات کی تیاری میں مصروف سماج وادی پارٹی نے ہفتہ کو بی جے پی کے ’ بوتھ وجے ابھیان‘ کے جواب میں ’جن – من – وجئے ابھیان ‘ چلانے کااعلان کیا ۔










