غازی آباد : (ایجنسی)
اتر پردیش کے غازی آباد میں صحافی رعنا ایوب کے خلاف دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے الزاات میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ یہ مقدمہ ہندو آئی ٹی سیل کے کو فاؤنڈر وکاس سنکریتیان نے درج کرایا ہے۔
7 ستمبر کو آئی پی سی کی دفعات 403 (جائیداد کی بے ایمانی غبن) ، 406 (اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی) ، 418 (دھوکہ دینا) ، 420 (دھوکہ دہی) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 66D کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ایوب پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے کیٹو ویب سائٹ کے ذریعے آسام ، بہار ، مہاراشٹر وغیرہ ریاستوں کے عام عوام سے کووڈ 19کے نام پر غیر قانونی طور سے فلاحی کاموں کے نام دھوکہ دہی کرکے رقم کا غبن کیا ہے ۔
اندرا پورم کے رہائشی سنکریتان نے اپنی شکایت میں بتایا ہے کہ رعنا ایوب نے کیٹو ویب سائٹ کے ذریعہ اپریل – مئی 2020 ،جون- ستمبر 2020 اور مئی- جون 2021 کے دوران تین کیمیئن چلائے۔ پہلی جھگی میں رہنے والوں اور کسانوں کے لیے ، دوسرا آسام ،بہار اور مہاراشٹرمیں امدادی کاموں کےلیے اور تیسری کورونا وبا سے متاثر لوگوں کے لیے ۔ ان تینوں مہم سے رعنا نے کروڑوں روپے جمع کئے ۔
شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ ایوب نے سرکار سے کسی بھی قسم کے سرٹیفکیٹ ؍ رجسٹریشن کے بغیر غیرملکی فنڈ وصول کئے جو کہ فارن کنٹریبوشن ریگولیشن ایکٹ 2010 کے مطابق خلاف ورزی ہے ۔
انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق 27 اگست کو کیٹو نے ایواب کے تینوں کیمپیئن میں مدد کرنے والوں کو ای میل کر کے بتایاکہ ’’ کیٹو کو بھارتیہ قانون نافذ کرنے والے اداروںکے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ جمع کئی گئی رقم کااستعمال اس مقصد کے لیے نہیںکیا گیا تھا جس کے لیے پیسہ لیا گیا تھا ۔‘‘
کیٹو کی ای میل میں کہا گیا کہ ہمارے ذریعہ پوچھ گچھ کئے جانے پر کیمپنیئر نے بتایا کہ ان مہموں کو چلانے کےلیے تقریباً 1.90کروڑ روپے اور 1.09لاکھ امریکی ڈاکر یعنی کل تقریباً 2.96کروڑ روپے میں سے 1.25کروڑ خرچ کیا گیا۔ وہیں تقریباً 90 لاکھ روپے ٹیکس کی شکل میں ادا کی گئی۔ اس کے بعد جو بچا وہ کیمپنیئر کے پاس موجود ہے ۔
اندرا پورم کے ایس ایچ او ابھے کمار کہتے ہیں کہ اندرا پورم تھانہ میں مبینہ طور سے چندے کے غلط استعمال کو لے کر ایف آئی آر درج کی گئی ہے ،چونکہ اس میں ایک اور تنظیم شامل ہے اس لئے ہمیں ثبوتوں کی جانچ کرنا ہوگی ۔
دوسری جانب غازی آباد کے سپرنٹنڈنٹ پولیس گیانندر سنگھ کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔ پولیس ثبوت ملنے کے بعد ہی صحافی کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔










