اردو
हिन्दी
مئی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

طلاق کا نظام اور مسائل

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ Uncategorized, مضامین
A A
0
طلاق کا نظام اور مسائل
584
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

عصر حاضر میں خاندانی نظام کے سامنے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ طلاق کےاعداد و شمار میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے،ہمارے ملک ہندوستان میں چونکہ طلاق کو مذہب کا داخلی معاملہ تصور کیا جاتا ہے اس وجہ سے ہندو، بدھ، جین اور سکھ مذاہب میں طلاق “ہندو میریج ایکٹ ۱۹۵۵” کے تحت، نیز مسلمانوں کے لئے Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939 اور پارسیوں کے لئے “پارسی میریج اینڈ ڈائیوورس ایکٹ ۱۹۳۶، جب کہ عیسائی مذہب کے لئے “انڈین ڈائیوورس ایکٹ ۱۸۶۹ کے تحت طلاق کی  قانونی تجویز موجود ہیں۔ تمام ہی سول اور بین المذاہب شادیاں اور طلاق ہمارے ملک کے الگ قانون “اسپیشل میریج ایکٹ ۱۹۵۵” کے ماتحت ہوتی ہیں۔

فیملی کورٹس میں مقدمات کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ داخل مقدمات کا جائزہ لینےپر تو معلوم ہو تا ہیکہ عدالت میں زیرالتوا مقدمات طلاق، خلع، سامان جہیز کی واپسی ، نان و نفقہ ، بچوں کی کسٹڈی  وغیرہ کے ہیں۔ آج معاشرے میں یہ صورت حال ہماری خصوصی توجہ کی متقاضی ہے کیونکہطلاق عموما دو ہی صورتوں میں ہوتی ہے۔

 ایک شکل یہ کہ جب شوہربیوی دونوں کا ایک ساتھ رہنا ممکن نہ ہو، اور دونوں باہمی رضامندی سے طلاق لینا چاہتے ہیں تو وہ راضی نامہ کے ساتھ عدالت میں طلاق کی عرضداشت داخل کرتے ہیں، عدالت کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ اب شادی کے رشتے میں مربوط رہنا ممکن نہیں ہے، نیز دونوں ہی ایک یا دو سال سے علیحدہ رہ رہے ہیں، بچوں کی کفالت و کسٹڈی وغیرہ کی شرائط پر دونوں کی رضامندی ہے تو عدالت میں معمولی کاروائی و پروسیجر کے ساتھ طلاق کی کاروائی اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہے۔ یا پھر طلاق حاصل کرنے کے لئے برسہا برس عدالت کے چکر کاٹیں اور ایک دوسرے کے خلاف گواہیاں اور ثبوت اکٹھے کرتے پھریں۔

موجودہ سماجی صورت حال میں طلاق کے نظام کا جائزہ  لینے کے بعد یہ بات کافی حد تک  درست معلوم ہوتی ہے کہ پرسنل لا کا استعمال کرتے ہوئے اکثر مرد توطلاق کے تین الفاظ ادا کرکے الگ ہوجاتا ہے لیکن عورت  کے لئےسماجی مسائل  جہاں ان گنت تلخ تجربوں سے بھرپور ہوتے ہیں وہیں قانونی مسائل مالی، جسمانی، نفسیاتی وجذباتی لحاظ سے مطلقہ خاتون اور اس کے خاندان کے لئےگوناگوں آزمائشوں میںپھنس جاتے ہیں۔ طلاق کے بعد اگرچہ عورت پہلے ہی اپنا گھر ٹوٹنے کے باعث اپنی جذباتی، نفسیاتی ، جسمانی کیفیت کےایک بدترین دور سے گزرہی ہوتی ہے وہیں جب اسے اپنے متفرق شرعی یا قانونی حق کے حصول کے لئے یا اپنے دفاع میں قانونی چارہ جوئی  کا طریقہ اختیار کرنا پڑتاہے۔ عدالت میں قانونی لڑائی کے لئے عورت کو بہت سی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ موجودہ معاشرے میں مطلقہ خواتین کو درپیش قانونی  مسائل درج ذیل ہیں ۔بہت سی مطلقہ خواتین کو اپنے سامان جہیز کی واپسی، حق مہر کی طلبی، نان و نفقہ  کی فراہمی، بچوں کی کسٹڈی کے معاملے میں  عدالت سے بسا اوقات رابطہ کرنا مجبوری ہوجاتا ہے کیونکہ سماج میں کوئی متبادل ادارہ یا نظام موجود نہیں ہوتا ہے۔  اکثر ان کے مالی وسائل ان کی و انکے بچوں کی کفالت کے لئے اطمینان بخش نہیں ہوتے، اور نہ ہی ان کے والدین یا بھائی اس مالی حیثیت کے حامل تھے کہ انکی مالی اعانت کرسکتے۔

عدالتی نظام میں مختلف حیلے بہانوں سے تاخیر، کبھی فریق ثانی کا عدالت میں پیش نہیں ہونا کبھی وکیل کا موجود نہ ہونا، کبھی میڈیکل سرٹیفیکیٹ پیش کرکے حاضری سے ایک لمبے عرصے تک استثنا وغیرہ۔  ان  کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تنگ آکر کیس ہی واپس لے لیں یا تاخیر سے تھک کر اور پریشان ہوکر عدالت ہی آنا چھوڑ دیں۔

مطلقہ عورتکی اگر اولاد بھی ہیں تو ایسی صورت میں اس کے لئےمزید پریشانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ خصوصا بچوں کی کسٹڈی اور ان کے نان و نفقہ کا مسئلہ۔ طلاق اگرچہ  خاندانی   طور پر ہوچکی ہو لیکن ان معاملات کے لئے مطلقہ  اور اس کے ورثا کو عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ ہمارے عدالتی نظام  میں بھی بہت سے نقائص ہیں اور حصول انصاف اور داد رسی کے لئے اسے بہت سے صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس سے ذہنی اذیت، بے بسی، وقت اور پیسوں کا ضیاع، عدالتوں کے چکر اور دیگر مسائل سے مطلقہ خاتون کو نبرد آزما ہونا پڑتا ہے  جو ایک انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ بچے بھی جذباتی و نفسیاتی لحاظ سے  بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔  چھوٹے بچے چونکہ اپنی والدہ کی سرپرستی میں زیادہ ترہوتے ہیں ،اس لئے بھی خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا  کرنا پڑتا ہے۔

نان و نفقہ کے مسائل کے لئے ہمارے ملک میں سبھی مذاہب کے لئے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ ۱۲۵ کا قانون ہی لاگو ہوتا ہے۔ مطلقہ خواتیناور بچوں کے نان و نفقہ کے مقدمات بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہوتے ہیں۔ شوہر کی ہٹ دھرمی و نان و نفقہ اور کفالت سے انکار کرنے پر نیز کفالت کے لئے ہمارے سماج میں کوئی مستحکم متبادل نظام چونکہ موجود نہیں ہے اس وجہ سے عدالت کا رخ کرنا بسا اوقات مجبوری ہوتی ہے۔

 عدالت میں طلاق کے بعد خواتین کی جانب سے شوہر  پر حق مہر کی ادائیگی اور سامان جہیز  کی واپسی کے مقدمات پیش ہوتے ہیں۔ عموما حق مہر شادی کے موقع پر ادا نہیں کیا جاتا ، بعد میں مرد حضرات اکثر یہ حق معاف کروانے کی کوشش کرتے ہیں ، طلاق ہونے کی صورت میں عورت عدالت سے مہر کی ادائیگی کے لئے رجوع کرتی ہے۔ تاہم ایسا اسی صورت میں ہوتا ہے جب مہر کی رقم کی حصولیابی کے لئے عورت کے پاس کوئی متبادل شکل موجود نہ ہو تبھی عورت انصاف کے حصول کے لئے عدالت سے رجوع کرتی ہے۔

طلاق کے بعد  مطلقہ کو یہ بھی مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ شادی کے موقع پر اورشادی کے بعد دلہن کو والدین، عزیز و اقارب کی جانب سے  دئیے جانے والے تحائف شوہر یا اس کے والدین کی تحویل میں ہوتے ہیں۔ طلاق کے وقت عموما اسے بے یارو مددگار گھر سے نکال دیا جاتا ہے ایسے میں اس کا تمام سامان جہیز اور تحائف سسرال میں روک لئے جاتے ہیں۔  بعدازاں وہ اپنے سامان کی واپسی کے لئے عدالت سے رجوع کرتی ہے لیکن ایسے مقدمات میں فیصلے بہت تاخیر سے ہوتے ہیں۔ لڑکے والے سامان جہیز کا عموما انکار کرتے ہیں یاکچھ ہی سامان دینے پر راضی ہوتے ہیں۔ طلاق کے بعد زوجین کے سامان  کی واپسی کا معاملہ شرعی اور قانونی لحاظ سے اہم اور نازک ترین ہے ۔ طلاق کا اسلامی رویہ اپنانے کی بجائےعورت  کے سامان  جہیز ، تحائف و دیگر اسباب پر جبرا قبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

سماج میں پیدا مسائل اور بگڑی ہوئی صورت حال ہی قوانین وضع کرنے کی بنیاد ہوتے ہیں، ایسےسماج میں قوانین کا وضع کرنا اور ان کا نفاذ یقینی بنانا ایک اہم مسئلہ بن جاتا ہےتاکہ سماج میں پیدا منفی اثرات کو مثبت رخ دیا جاسکےاور سماج اپنا ارتقاء  مثبت سمت میں جاری  رکھےنیز معاشرہ ایک حقیقی فلاحی معاشرہ بن سکے ۔لیکن یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ صرف قوانین کا ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ سماج کا ذہن بھی مثبت انداز میں تیار کیا جانا ضروری ہے جو قوانین اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کو اپنا سماجی و اخلاقی فریضہ سمجھے۔ اسی طرح طلاق، خلع و تنسیخ نکاح کے مقدمات میں بھی  زوجین میں مصالحت  کے اقدامات میں بھی سماج کو اپنا اخلاقی فریضہ ادا کرنا چاہیے۔ سماج کے سماجی و مذہبی ادارے سماج میں ہونے والے ازدواجی مسائل کے حل کے لئے ایسے نظام یا مقامی ادارے قائم کریں جہاں ازدواجی مسائل کے حل کے لئے باقاعدگی کے ساتھ کوشش کریں اور یقینی بنائیں کہ سماج میں کسی کے حقوق سلب نہ کئے جائیں۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN