اردو
हिन्दी
مئی 7, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کیا بھارت میں جمہوریت خطرے میں ہے؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
کیا بھارت میں جمہوریت خطرے میں ہے؟
114
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: روہنی سنگھ، نئی دہلی

تقریباً ڈیڑھ دہائی سے، جب میں دہلی میں بطور صحافی کام کر رہی ہوں، ہم منسٹروں، سیاسی لیڈروں اور سکریٹریوں کے دفاتر میں سورس بنا کر خبریں نکالتے تھے۔ بھارت میں ہر بدھ یا جمعرات کو وزیراعظم کی سربراہی میں کابینہ کی میٹنگ ہوتی ہے۔ پیر سے ہی اس میٹنگ کے ایجنڈہ کے حصول کے لیے رپورٹروں میں مسابقت شروع ہوتی تھی۔ کابینہ کی میٹنگ اور اس کی منظور ی سے قبل ایجنڈہ میں شامل نکات انتہائی خفیہ دستاویزات کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ ایجنڈہ دو روز قبل سبھی وزراء میں تقسیم ہوتا تھا تا کہ اگر کسی وزیر کو کوئی اعتراض ہو تو وہ کابینہ سیکریٹری کے پاس قبل از وقت جمع کروا سکے۔

ان دستاویزات کے حصول کے لیے پیر سے بدھ کی صبح تک حکومت کو کور کرنے والے رپورٹر دن رات ایک کر دیتے تھے۔ تگ و دو کرتے ہوئے مجھے کھبی کبھار محسوس ہوتا تھا کہ حکومت خود بھی اس ایجنڈہ یا اس کے نکات کو لیک کرنے کی خواہش رکھتی تھی۔ ہاں! جو صحافی ان دستاویزات کو لے کر دفتر پہنچتا تھا، اس کی قدر آفس میں خوب بڑھ جاتی تھی۔ حکومت کے لیک کرنے کا مقصد ہوتا تھا کہ اگر بدھ کی صبح یا کابینہ کی میٹنگ سے ایک دن قبل میڈیا کا کوئی ادارہ ایجنڈہ کا کوئی حصہ شائع کرتا تھا، تو حکومت اس مجوزہ فیصلے کا عوام میں ردعمل بھی دیکھتی تھی۔ اگر ردعمل منفی ہو تو ایجنڈہ سے اس ایشو کو غائب کر دیا جاتا تھا۔ اس طرح حکومت کو قبل از وقت فیڈ بیک ملتا تھا۔ یا ایجنڈہ میں شامل کسی ایشو میں ترمیم بھی کی جاتی تھی۔

مگر 2014ء میں وزیراعظم نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد تو صحافت کی دنیا ہی بدل گئی۔ کابینہ کا ایجنڈہ تو دور کی بات معمولی دستاویز بھی اب صحافیوں کے ہاتھ نہیں لگتی ہے۔ مودی کے آتے ہی حکم دیا گیا کہ ایجنڈہ اب وزراء میں میٹنگ سے قبل تقسیم نہیں ہو گا۔ سوائے اس وزیر کے، جس کا ایشو زیر بحث آنے والا ہو، بقیہ وزراء کو کابینہ کے ایجنڈہ کا علم میٹنگ کے وقت ہی ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ کابینہ کے اجلاس ہی کئی گھنٹوں پر محیط ہوتے تھے، کافی بحث و مباحثے ہوتے تھے۔ ذرائع کے حوالے سے اندر کی گرما گرمی کی خبریں بھی ملتی تھیں۔ مگر اب کابینہ کی میٹنگ چند منٹ سے زیادہ چلتی ہی نہیں ہے۔

حالات اس قدر بدل چکے ہیں کہ حکومت سے متعلق معمولی اسٹوری کا بھی ایڈیٹر حضرات ایک طرح کا آپریشن کر دیتے ہیں۔ ان کو خدشہ رہتا ہے کہ اگر یہ اسٹوری حکومت کو پریشان کرے گی، تو ادارے کے اشتہارات بند ہوں گے، یا مالکان یا ادارے کی کمپنی کو کسی نہ کسی کیس میں گھسیٹا جائے گا۔

رام ناتھ گوینکا اور ونود مہتا جیسے ایڈیٹر اب ناپید ہو چکے ہیں۔ اس مداخلت سے پریشان صحافی اپنی مایوسی کو آج کل یا تو سگریٹ کے دھوئیں کے ساتھ پھونک دیتے ہیں یا چائے کے ایک پیالی کے ساتھ ہضم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بھارت کی جمہوریت تمام تر کمزوریوں کے باوجود پوری دنیا میں ایک ماڈل کی حثیت رکھتی تھی۔ مگر اب لگتا ہے کہ بھارت بہت بدل گیا ہے اور ن یہ اتنی تیزی سے بدل جائے گا کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا۔ اقلیتوں کے خلاف ماحول، معلومات کا حق (رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ) ہونے کے باوجود، عوام کو بنیادی معلومات فراہم نہ کر کے اس قانون کا ہی گلا دبانا، حکومت مخالف مظاہرین پر ملک دشمنی کا لیبل لگانا اور مخالفین کو جیلوں میں بند کرنا تو اب عام سی بات ہو گئی ہے۔ حکومت پر تنقید کرنے پر صحافیوں پر ملک کے ساتھ غداری کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔کشمیر کے مقتدر اور بزرگ لیڈر سید علی گیلانی کی میت کے ساتھ حال ہی میں، جس طرح کا سلوک کیا گیا، وہ اس کی ایک معمولی مثال ہے۔

پندرہ ستمبر کو، جب دنیا جمہوریت کا عالمی دن منانے جا رہی ہے، تو تمام ذی شعور افراد و دانشوروں کو ادراک ہونا چاہیے کہ فی الوقت بھارت میں جمہوریت شدید خطرے کا سامنا کرتی نظر آ رہی ہے۔ ہیومن فریڈم انڈیکس 2020ء کے مطابق بھارت میں جمہوریت اور آزادی کا درجہ 2020ء میں 94 سے گر کر111 ہو گیا ہے۔2021ء میں ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس نے میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بھارت کو 180ممالک میں 142ویں درجے پر رکھا ہے۔

فرانسیسی اسکالر کرسٹوف جعفرلوٹ نے اپنی حالیہ کتاب ’مودی انڈیا: ہندو نیشنلزم اینڈ دی رائز آف اِتھنک ڈیموکریسی‘ میں بھارت میں نسلی جمہوریت کی پیش گوئی کی ہے، جہاں جمہوری حقوق چند نسلی گروہوں تک محدود ہوں گے اور اقلیتوں کو دوسرے درجے کے شہریوں کے بطور زندگی گزارنی ہو گی۔ بقول مصنف انتہا پسندی اس حد تک پہنچ جائے گی، جہاں سے لوٹنا ناممکن ہو گا۔

موجودہ تناظر میں، جعفرلوٹ کی پیش گوئی سچ ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اختلاف اور احتجاج کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی کیمپس پر احتجاج کرنے والے طلباء پر ملک سے غداری کا الزام لگتا ہے اور وہ جیلوں میں قید کر دیے جاتے ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والوں کو ملک دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارت کے کسان، جو بھارتی دارالحکومت کی سرحدوں کے باہر بیٹھے ہیں، ان پر خالصتان کے ہمدرد ہونے کا لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کو ہر وقت قوم پرستی کا پٹا اپنے گلے میں باندھے رکھنا چاہیے۔

مایوسی کے اس دور کے بیچ معروف مصنف اور صحافی پارسا وینکٹیشور راؤ جونیئر کا کہنا ہے کہ ابھی اتنا کچھ برا نہیں ہے اور واپسی کی گنجائش باقی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال جمہوریت کا محض ایک پڑاؤ ہے، جب کانگریس پارٹی 1947ء سے 20 سال تک اقتدار میں تھی، ہر ایک کا خیال تھا کہ کانگریس کا کبھی کوئی متبادل نہیں ہو سکتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ آج لوگ شاید ایک نظریے کے حق میں ہیں یا انہوں نے قوم پرستی کو قبول کر لیا ہے۔ لیکن جس دن متوسط طبقے کو حکومتی پالیسیوں سے تکلیف پہنچے گی تو بغاوت ہو گی اور یہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔


کاش میرے سینئر ساتھی پارسا کی یہ پیشن گوئی صحیح ثابت ہو اور بھارت واپس جمہوریت کی شاہراہ پر گامزن ہو اور صحافی ایک بار پھر خبروں کے تعاقب میں سرگرداں اور مقابلہ کرتے نظر آئیں۔ ورنہ بھارت جیسے بڑی آبادی والے ملک کے جمہوریت سے روگردانی کرنے اور قو م پرستی کے جنون میں مبتلا ہونے سے پورے خطے پر اس کے دو رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کا کوئی متحمل نہیں ہو سکتا۔

(بشکریہ: ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN